مریم نواز بھی مائنس ہونے جارہی ہیں ،فواد چوہدری

لاہور(سٹاف رپورٹر) وفاقی وزیرسائنس و ٹیکنالوجی فواد چودھری نے کہاہے کہ پار لیمنٹ سپر یم

کورٹ کے ماتحت نہیں ‘نواز‘شہباز مائنس ہو چکے سنا ہے اب مر یم نوا ز بھی مائنس ہونے جاری

ہے‘ ہم نے حکومت لی ہے لیکن ابھی نظام نہیں بدل سکے، اب نظام کی تبدیلی کی جدوجہد جاری ہے،

مائنس ون کی ن لیگ یا دیگر جماعتوں کی بات بے کار ہے، مائنس عمران کرتے کرتے سب خود

مائنس ہو رہے ہیں، اب اپوزیشن کو اپنی قیادت تلاش کرنا پڑ رہی ہے اور سب لندن میں جمع ہو رہے

ہیں، ان کے پاس کوئی پلان نہیں ہے، وہ عمران خان کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے، اپوزیشن کے گلے

شکوے اپنی جگہ لیکن آپ کو گزارہ عمران خان سے ہی کرنا پڑے گا، وہ کسی کو پسند ہو یا نہ ہوں،

ان کا قد سب سے بلند ہے، اس وقت ملک میں ایک ہی لیڈر عمران خان ہیں‘ پنجاب حکومت جہلم میں

ایک روپیہ بھی نہیں بھیج رہی ،پنجاب حکومت ساراپیسہ جنوبی پنجاب میں بھیج رہی ہے‘مرادعلی شاہ

کو تبدیل کرنے کافیصلہ سندھ کے عوام نے کرنا ہے‘ حکومت کو اپوزیشن کی اہمیت کا اعتراف

ہوناچاہئے ،الیکشن کمیشن کے معاملے پر دونوں کو اتفاق رائے چلنا چاہئے۔ ہفتہ کولاہور میں تقریب

سے خطاب کے دوران فواد چوہدری نے کہا کہ الیکشن کمیشن کے معاملے پر کافی اتفاق رائے ہو

گیاہے،شہبازشریف کے جو پول کھلے ہیں ان کے اثرات نہ آئے تو معاملہ حل ہو جائے گا،انہوں نے

کہا کہ ادارو ں کو آپس میں نئے میثاق کی ضرورت ہے،فوج ،عدلیہ اور حکومت کو حقیقت کا ادراک

کرکے ہی آگے چلناچاہئے ،انہوں نے کہا کہ پہلے نوازپھرشہبازاوراب مریم مائنس ہونے جارہی

ہے،مسلم لیگ ن کی لیڈرشپ لڑنے والے نہیں،یہ تخت کی لڑائی ہے اس میں کمزوردل حضرات آگے

نہیں چل سکتے ۔فوادچودھری نے کہاکہ پی ٹی آئی کی جدوجہدنظام بدلنے کیلئے ہے،مرادعلی شاہ کو

تبدیل کرنے کافیصلہ سندھ کے عوام نے کرنا ہے ،ان کاکہناتھا کہ حکومت کو اپوزیشن کی اہمیت کا

اعتراف ہوناچاہئے ،الیکشن کمیشن کے معاملے پر دونوں اطراف سے اتفاق رائے چلنا چاہئے

،فوادچودھری نے کہاکہ طلبا یونین بحال ہونی چاہئے،ہمیں دیکھنا ہے عالمی دنیا میں طلبا یونین کیسی

ہے ان کو کیسے ان کا حصہ ملتا ہے ۔وفاقی وزیر نے کہا کہ آرمی چیف کے معاملے پر سیاست سے

بالاتر ہو کر بات کرنی چاہیے، سپریم کورٹ کا تفصیلی فیصلہ آ جائے تو پھر حکومت اس پر فیصلہ

کرے گی، پارلیمنٹ سپریم کورٹ کے ماتحت نہیں، تاہم پارلیمان کیسے سپریم ہو سکتی ہے اگر پبلک

اکانٹس کمیٹی میں کچھ اداروں کے بجٹ ڈسکس نہ ہو سکیں، پاکستان میں تاثر ہے کہ ادارے ایک

دوسرے کے اختیارات لینے کی کوشش کرتا ہے، یہاں سیاستدانوں پر بحث ہو سکتی ہے لیکن فوج اور

عدلیہ پر عام بحث نہیں ہو سکتی۔فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ ملک میں وزرائے اعلی کا احتساب کوئی

نہیں ہے ، پنجاب میں 908 ارب روپیہ خرچہ ہوا ہے بلوچستان میں 3 ٹریلین روپے خرچ ہوئے لیکن

عوام کی حالت نہیں بدلی، سندھ میں مراد علی شاہ کو تبدیل کرنے کا فیصلہ وہاں کے عوام نے کرنا

ہے، وہاں کے حکمران خود عوام کی مشکلات کا خیال کریں۔فواد چوہدری نے مزید کہا کہ مزید 10

سیاستدانوں کے میڈیکل چیک اپ ہونے جا رہے ہیں، شہباز شریف باہر چلے گئے ہیں اور آصف

زرداری کا کیس بھی اس جیسا ہے، سیاست کمزور دل لوگوں کا کام نہیں، شہباز شریف کو پہلے واپس

آنے میں 5 سال لگے، اب کی بار شاید 15 سال لگیں، کے پی حکومت کو پی آر ٹی منصوبے کی

شفاف تحقیقات میں رکاوٹ نہیں بننا چاہیئے، پنجاب حکومت ہمیں کوئی پیسہ نہیں دے رہی اور سارے

فنڈز جنوبی پنجاب میں لگائے جا رہے ہیں۔

Leave a Reply

%d bloggers like this: