مریم نواز، بلاول بھٹو ملاقات، ہر سطح پر حکومت کیخلاف محاذ پر اتفاق

Spread the love

لاہور(جے ٹی این آن لائن سٹاف رپورٹر،مانیٹرنگ ڈیسک)

پاکستان مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کی مرکزی قیادت نے حکومت کی پالیسیوں

پر عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے آئندہ مالی سال کے بجٹ کی منظوری کو

روکنے کے لئے د یگر اپوزیشن جماعتوں سے ملکر مشترکہ حکمت عملی بنانے

پر اتفاق کیا ہے، جبکہ مشترکہ اعلامیہ میں کہا گیا ہے موجودہ نااہل و غیر نمائندہ

حکومت کا جاری رہنا عوام اور ملک کو تباہی و بربادی اور ایسے المیے سے دو

چار کر سکتا ہے جس کی تلافی ممکن نہیں رہے گی، مریم نواز، بلاول بھٹو اور

دونوں جماعتوں کے رفقاء کے درمیان ہونے والی ملاقات میں ملک کی مجموعی

صورتحال، اپوزیشن کی مجوزہ اے پی سی، نیب کی جانب سے اپوزیشن کی

گرفتاریوں، ججز کے خلاف ریفرنس پر تبادلہ خیال، میثاق جمہوریت کی روح

کے مطابق آگے بڑھنے اورمستقبل میں رابطے جاری رکھنے پر اتفاق کیا گیا۔

مسلم لیگ (ن) کی مرکزی رہنما مریم نواز کی دعوت پر بلاول بھٹو زرداری کی

قیادت میں پیپلز پارٹی کے وفد کی جاتی امراء رائے ونڈ آمد پر مریم نواز نے

پارٹی کے دیگر رہنمائوں کے ہمراہ ان کا استقبال کیا۔ پیپلز پارٹی کے وفد میں قمر

زمان کائرہ، جمیل سومرو، مصطفی نوازکھوکھر، چوہدری منظور اور حسن

مرتضی شامل تھے جبکہ مسلم لیگ (ن) کی جانب پرویز رشید، ایاز صادق، رانا

ثنااللہ ، کیپٹن (ر) محمد صفدر، مریم اورنگزیب اور محمد زبیر نے مریم نواز کی

معاونت کی۔ دونوں جماعتوں کے رہنمائوں کے درمیان ہونے والی ملاقات انتہائی

خوشگوار ماحول میں ہوئی۔ اس موقع پر حکومتی پالیسیوں اور حالیہ بجٹ پر

تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا گیا اپوزیشن جماعتیں عوام کو تنہا نہیں چھوڑیں

گی بلکہ ان کی آواز بنیں گی اور طے پایا کہ بجٹ کی منظوری کے موقع پر

مشترکہ حکمت عملی اپنانے سمیت بجٹ کی منظوری رکوانے کے لئے ہر ممکن

کوشش کی جائے گی۔ اس کے لئے حکومت کے قیام میں ووٹ کرنے والی اور

اتحادی جماعتوں سے بھی رابطے کئے جائیں گے۔ نیب کی جانب سے اپوزیشن

کی قیادت اور رہنمائوں کی گرفتاریوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا گیا اس طرح

کے ہتھکنڈے عوام کے حقوق کیلئے جدوجہد کی راہ میں رکاوٹ نہیں بن سکتے۔

دونوں رہنمائوں کا کہنا تھا وفاق پاکستان کی وحدت، اکائیوں کے اتحاد و یکجہتی

اور اعتماد کی ضمانت صرف آئین ہے، قوم کو ایسی قیادت کی ضرورت ہے جو

باہمی اعتماد اور اتحاد کا باعث ہو، آئین کی سربلندی اور جمہوریت ہی ملک کو

آگے لے جا سکتی ہے۔ حکمران آئین، پارلیمان، عوام، اپوزیشن، عدلیہ، میڈیا

سمیت ہر اختلافی آواز پر حملہ آور ہیں، نئے پاکستان کے نام پر ہونے والا فراڈ

قوم کو مزید برداشت نہیں اورقوم اپوزیشن کی طرف دیکھ رہی ہے جسے مایوس

نہیں کریں گے۔ موجودہ حکومت مکمل طورپر ناکام ہوچکی ہے۔ مقبول سیاسی

جماعتیں ہی قوم کو نیا اعتماد، مسائل سے نکلنے کا لائحہ عمل اور متحد کرسکتی

ہیں۔ اپوزیشن قائدین پر الزامات عوام کو سیاسی قیادت سے محروم کرنے کی

سازش کا حصہ ہیں انہیں حیلے بہانوں سے راستے سے ہٹایا، کٹھ پتلی کو بٹھایا

گیا، ملک سے مقبول عوامی سیاسی قیادت جب بھی چھینی گئی ملک وقوم کو

نقصان پہنچا اور حادثہ ہوا۔ ذرائع کے مطابق مریم نواز کا کہنا تھا دونوں جماعتوں

نے جمہوریت کی بالا دستی کیلئے قربانیاں دی ہیں۔ ملک میں معاشی بحران ناقابل

برداشت صورتحال اختیار کرچکا ہے۔ نالائق او رجھوٹوں کی حکومت نے آزاد

عدلیہ کے اوپر بھی حملہ کر دیا ہے جسے کسی صورت برداشت نہیں کیا جا

سکتا۔ بلاول بھٹو نے کہا ووٹ چور اورکٹھ پتلی حکومت عوام کی ترجمانی نہیں

کرسکتی۔ جیلیں دیکھنے والی جماعتوں کو سلیکٹڈ حکومت خوفزدہ نہیں کر سکتی

اپوزیشن جماعتیں رابطہ عوام مہم شروع کر چکی ہیں تاہم اے پی سی میں جو

کئے جانیواےفیصلوں پر عمل کیا جائے گا۔ جبکہ دونوں جماعتوں میں 2006ء میں

طے پانے والا میثاق جمہوریت اہم دستاویز ہے جسے نئے تقاضوں سے ہم آہنگ

کرنے کی ضرورت ہے، ملاقات کے دوران سامنے آنے والی تجاویز کو دونوں

جماعتوں کے رہنمائوں سے مشاورت کے بعد حتمی شکل دی جائے گی، مشترکہ

حکمت عملی کا دائرہ پی ٹی آئی حکومت کے قیام میں اسے ووٹ دینے والوں اور

اتحادیوں تک بھی پھیلایا جائے گا۔ پاکستان کو عالمی ساہو کا روں کے پاس گروی

رکھ دینے اور قومی ادارے غیروں کے سپر د کر دینے کے باوجود صورتحال

تیزی سے بگڑ رہی ہے۔ روپے کی مسلسل گرتی ہوئی قیمت، مہنگائی کی بڑھتی

ہوئی شرح، دس ماہ میں ریکارڈ قرضوں کے باوجود زرمبادلہ کے کمزور ہوتے

ذخائر، سٹاک ایکسچینج کی بحرانی صورتحال، قومی شرح نمو کا نصف رہ جانا ،

بیرونی و اندرونی سرمایہ کاری کا رک جانا، ترقیاتی منصوبوں پر کام کا خاتمہ ،

سی پیک کی سست رفتاری، حکومتی دعووں اور قومی سطح پر چھائی مایوسی و

بے یقینی نے پاکستان کو بحران میں مبتلا کر دیا ہے اور بہتری کی کوئی صورت

نظر نہیں آرہی۔ غر یب کم آمدنی اور متوسط طبقے کے لوگ، مزدوروں، محنت

کشوں، کسانوں اور ملازمت پیشہ افراد کیلئے زندگی مشکل بنا دی گئی ہے۔

ملاقات کے دوران چیئرمین نیب کی یکطرفہ انتقامی کارروائیوں اور حکومتی ملی

بھگت کے ساتھ اپوزیشن کے ساتھ ٹارگیٹڈ سلوک پر بھی غور کیا گیا۔ نیب کے

جعلی، بے بنیاد اور من گھڑٹ مقدمات کے حوالے سے عدالتوں کے طرز عمل

بھی زیر غور آیا۔ ملاقات میں مولانا فضل الرحمن کی مجوزہ آل پارٹیز کانفرنس

اور دونوں جماعتوں کے مشترکہ لائحہ عمل پر بھی بات ہوئی۔ اعلامیہ کے مطابق

ملاقات میں اعلی عدلیہ کے معزز جج صاحبان کے خلاف حکومتی ریفرنس واپس

لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا گیا یہ ریفرنس بد نیتی پر مبنی اور عدلیہ کی

آزادی پر حملہ ہے۔ دونوں جماعتوں کا عدلیہ کی آزادی اورخود مختاری کیلئے

بھر پور جدوجہد جاری رکھنے پر اتفاق ہے۔ دونوں رہنمائوں نے سپیکر قومی

اسمبلی سے گرفتار ارکانِ قومی اسمبلی کے پروڈکشن آڈر جاری کرنے کا مطالبہ

کرتے ہوئے کہا سپیکر قومی اسمبلی جانبدارانہ رویہ ترک کریں اورقواعد و

ضوابط اور پارلیمانی روایت کے مطابق تمام پابند سلاسل قومی اسمبلی کے

ممبران کے فوری طور پر پروڈکشن آرڈر جاری کریں۔

Leave a Reply