Mirza Asad ullah baig ghalib

عظیم شاعر و نثر نگار مرزا اسد اللہ غالب کی آج 151 ویں برسی

Spread peace & love
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

لاہور(جتن آن لائن خصوصی رپورٹ) مرزا اسد اللہ غالب

اردو ادب کی شاعری اور نثر کو نئے رجحانات سے روشناس کروانے والے شاعر مرزا غالب کی آج بروز ہفتہ 15 فروری 2020ء کو 151 ویں برسی منائی جارہی ہے۔ اس ضمن میں مرزا غالب کے چاہنے والوں نے جہاں ان کی روح کے ایصال ثواب کیلئے دعائیہ تقاریب کا اہتمام کر رکھا ہے وہیں وہیں پرنٹ میڈیا نے انہیں شعبہ ادب میں خدمات پر خراج تحسین پیش کرنے کیلئے خصوصی ایڈیشنز شائع کئے ہیں تو الیکٹرانک میڈیا خصوصی پروگرام پیش کر رہا ہے- مزید پڑھیں

غالب کی شاعری میں انسان اور کائنات کے مسائل کی جھلک

مرزا غالب کا اصل نام اسد اللہ بیگ تھا، وہ 27 دسمبر 1797ء کو برصغیرپاک و ہند کے معروف شہرآگرہ میں پیدا ہوئے۔ غالب اردو کے ایک منفرد شاعر تھے ان کے بارے میں مشہور تھا کہ وہ زندگی کے مشاہدات، حقائق اور انسانی نفسیات کو گہرائی میں جاکر سمجھتے اور اسے بڑی ہی سادگی سے عام لوگوں کی سمجھ بوجھ کیلئے بیان کردیتے تھے۔ غالب کی شاعری میں انسان اور کائنات کے مسائل کے ساتھ محبت اور زندگی سے وابستگی بھی بڑی شدت سے نظر آتی تھی۔ غالب کی تحریروں نے اردو شاعری کے دامن کو وسعت دی۔ غالب نے اردو میں جو نئی اصناف متعارف کروائیں اور جو خطوط لکھے وہ اپنی مثال آپ ہیں۔

غالب نے مسلمانوں کی عظیم سلطنت کو برباد ہوتے دیکھا

شادی کے بعد مرزا غالب کے اخراجات بڑھ گئے اور مقروض ہو گئے۔ مالی پریشانیوں سے مجبور ہو کر غالب نے 1850ء میں قلعہ کی ملازمت اختیار کی اور خاندان تیموری کی تاریخ لکھنے پر مامور ہوئے جس کا ماہانہ معاوضہ ان کے لیے 50 روپے مقررکیا گیا۔ مرزاغالب نے مسلمانوں کی ایک عظیم سلطنت کو برباد ہوتے ہوئے اور باہر سے آئی ہوئی انگریز قوم کو ملک کے اقتدار پر چھاتے ہوئے دیکھا- غالبا یہی وہ پس منظر ہے جس نے ان کی نظر میں گہرائی اور فکر میں وسعت پیدا کی۔ غالب نے کبھی بھی انگریز ثقافت کی تعریف نہیں کی البتہ انہوں نے اپنی شاعری اور نثر سے سائنسی دریافتوں کے حوالے سے مختلف مثالیں بیان کیں جنہیں اگر ہم اپنا لیتے تو آج ہمارا شمار دنیا کی بہترین قوموں میں ہوتا۔

15 فروری 1869ء کو خالق حقیقی سے جا ملے

آخری عمر میں مرزا اسد اللہ بیگ المعروف غالب شدید بیمار رہنے لگے اور پھر 15 فروری 1869ء کو خالق حقیقی سے جا ملے۔ حق تعالیٰ مغفرت فرمائے، الٰہی آمین
پاکستان میں 1969ء میں غالب کی زندگی پر دستاویزی فلم بھی بنائی گئی جبکہ پی ٹی وی کی جانب سے غالب پر ڈرامہ بھی بنایا گیا جس میں معروف لیجنڈ اداکار محمد قوی خان نے مرحوم مرزا اسد اللہ بیگ المعروف غالب کا لازوال کردار ادا کیا۔ جو آج بھی ان کی پہچان ہے-
مرزا اسد اللہ غالب

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply