مراد سعید کی شہباز، زر داری پرتنقید ،اپوزیشن کا احتجاج ، قومی اسمبلی کا اجلاس ہنگامے کی نذر

Spread the love

قومی اسمبلی اجلاس میں وفاقی وزیر مواصلات مراد سعید کی اپوزیشن لیڈرشہبازشریف اور پیپلز پارٹی کے شریک چیئر مین آصف علی زر داری پر شدید تنقید سے اجلاس ہنگامے کی نذر ہوگیا ،اپوزیشن نے شدید احتجاج کرتے ہوئے مراد سعید کی تقریر کےخلاف سپیکر روسٹرم کا گھیراﺅ کرلیا ،ایجنڈے کی کاپیاں پھاڑ دیں اور چور چور کے نعرے لگائے ، حکومتی ارکان نے بھی جواب میں گو نواز گو ، گوزر داری گو کے نعرے لگائے ،شدید شور شرابے کے باعث ایوان میں کان پڑی آواز سنائی نہیں دی ۔وفاقی وزیر مواصلات مراد سعید کاکہنا تھا ا پوزیشن لیڈر نے منتخب وزیراعظم کےلئے سلیکٹڈ وزیر اعظم کا لفظ استعمال کیا، تھوڑی سی شرم ہوتی جو جسٹس قیوم کو فون کرکے فیصلوں کےلئے کہتا تھا، بلاول بھٹو حادثاتی طور پر پارٹی کا چیئرمین بن گیا ہے ،مراد علی شاہ کی کیا اوقات کہ پاکستان کو دھمکیاں دیتا ہے۔ آئی جی سندھ نے سپریم کورٹ میں کہا پولیس میں 12ہزار کالی بھیڑیں ہیں ۔جس ملک کو لوٹا تھا آپ کا نعرہ تھا ہر چیز کھاو¿ ،زرداری صاحب خدا کےلئے ہمیں معاف کرو ۔مراد علی شاہ کہتا ہے پاکستان ٹوٹ جائےگا ۔ ہم بھی اللہ کو حاضر ناظر جان کر قوم سے وعدہ کرتے ہیں ،پاکستان کو دنیا کا معتبر ملک بنائیں گے ۔ وفاقی وزیر کی تقریر کے دور ان ہی اپوزیشن نے شور شرابا شروع کر دیا اور اجلاس ہنگامے کی نذرہوگیا ۔اپوزیشن کے شدید احتجاج کے دوران وفاقی وزیر نے اپوزیشن ارکان کو للکارا کہ میری بات سنو !تاہم اپوزیشن نے چور چور کی آوازیں بلند کیں ۔قبل ازیں اجلاس کے دور ان مولانا عبد الاکبر چترالی نے کہا شناختی کارڈ کا مسئلہ مسئلہ کشمیر بن گیا ، پی ٹی آئی حکومت کہتی ہے ریاست مدینہ جیسی ریاست قائم کرنا چاہتے ہیںکیا ریاست مدینہ میں لوگوں کو تکلیف پہنچائی جاتی ہے ؟ کیا ریاست مدینہ میں عوام کے کاموں میں رکاوٹ ڈالی جاتی ہے۔ شراب ممانعت بل بھی ایوان میں پیش کر دیا گیا ، حکومت اور ایم ایم اے نے حمایت اور پیپلز پارٹی نے مخالفت کردی۔ بل کے محرک رمیش کمار کا کہنا تھادستور ترمیمی بل 2019ءدراصل آرٹیکل 37 میں ترمیم کا بل ہے، اس شق کے ذریعے غیر مسلموں کے نام پر شراب کے اجازت نامے دیئے گئے ، ریاست مدینہ بنانے کیلئے ضروری ہے کہ حرام مشروب کی مکمل ممانعت کی جائے کیونکہ شراب تمام مذاہب میں حرام ہے۔ ایم ایم اے رکن مولانا عبد الواسع نے حکومتی رکن کے بل کی مکمل تائید کی تو پاکستان پیپلز پارٹی کے رکن نوید قمر نے مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ یہ بل تین سے چار بار ایوان میں آیا اور ہر مرتبہ کمیٹی سے مسترد ہوگیا تو کیوں بار بار اسے یہاں لایا جارہا ہے، اجلاس میں مائیکرو فنانس انسٹیٹیوشنز آرڈیننس میں مزید ترمیم جبکہ نادرا آرڈیننس میں بھی مزید ترمیم کا بل پیش کیاگیا، بعد ازاں اجلاس آج جمعہ کی صبح 10 بجے تک ملتوی کردیا گیا۔

Leave a Reply