اسلام،عیسائیت و یہودیت پر مشتمل مذہب ابراہیمی منصوبہ کی حقیقت

اسلام،عیسائیت و یہودیت پر مشتمل مذہب ابراہیمی منصوبہ کی حقیقت

Spread the love

(تحریر:- سینئر صحافی و تجزیہ کار سید اظہر علی شاہ المعروف بابا گل) مذہب ابراہیمی منصوبہ

Journalist and annalist Sayed Azher Ali Shah

نومبر 2021ء میں مصر اور عرب ریاستوں میں مذہب ابراہیمی کی بحث چھڑ گئی

جو اب بھی جاری ہے، اس نئے مذہبی تصور کے مطابق اسلام، عیسائیت اور

یہودیت کو ضم کر کے ایک نیا مذہب تخلیق یا تشکیل دینا ہے، جس کا نام ” مذہب

ابراہیمی” ہو گا-

= ضرور پڑھیں : پاکستان کیخلاف ایک اور پراکسی وار تیار، مگر!

مصر کے جامعہ الاازہر نے اس تصور کو یکسر مسترد کردیا ہے، اسی طرح

مختلف ممالک کی اہم مذہبی شخصیات اور مدارس بھی اس نئے منصوبے کی

مخالفت کر رہے ہیں، مگر قابل غور بات یہ ہے کہ، تینوں مذاہب کے انضمام کے

بعد ان کی مشترکہ عبادت گاہ کا درجہ جس مقام کو دیا جارہا ہے، وہ بیت المقدس

ہے، جو اس وقت اسرائیل کے زیر تسلط ہے، مشترکہ عبادت گاہ کا تصور سامنے

آنے کے بعد اس بات میں شک و شبہے کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہتی، کہ اس

منصوبے کے اصل تخلیق کار اسرائیل اور وہاں موجود اس کے خفیہ ادارے ہیں-

= یہ بھی پڑھیں : داعش امریکی فتنہ، افغان طالبان کو بروقت نکیل ڈالنا ہو گی

اگرچہ بظاہر اس منصوبے کی کامیابی کے امکانات نفی میں نظر آتے ہیں، مگر

سعودی عرب اور دیگر عرب ریاستوں میں حالیہ چند دنوں اور ہفتوں کے دوران

تیزی کے ساتھ جو تبدیلیاں سامنے آئیں، اور مزید بھی آرہی ہیں، انہیں دیکھ کر

اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ، عرب ریاستوں میں گن پوائینٹ پر اس نئے مذہب کی

حمایت حاصل کی جا سکتی ہے، خواہ حمایت کرنے والے تعداد میں گنتی کے چند

لوگ ہی کیوں نہ ہوں، اس بات کا بھی قوی امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ ابراہیمی

مذھب 2022ء میں باضابطہ طور پر متعارف کرایا جا سکتا ہے-

=–= مزید تجزیاتی رپورٹس، کالمز اور بلاگز ( =–= پڑھیں =–= )

ابراہیمی مذہب کے ساتھ ساتھ سعودی عرب کے شاہی محل میں ایک جعلی یا

ڈوپلیکیٹ امام مہدی کی تخلیق بھی ایک ڈیڑھ برس پہلے زیر تربیت تھی، جس کے

بارے میں گمان کیا جاتا ہے کہ شائد اب اس کی تکمیل مکمل ہو گئی ہو، اس امام

مہدی کے اساتذہ بھی اسرائیلی یہودی ہیں- عالمی طاقتیں مذہب ابراہیمی اور جعلی

امام مہدی کو اپنی ضرورت کے مطابق مناسب وقت پر مارکیٹ میں متعارف کروا

کر اپنے مقاصد حاصل کر لیں گی، جو کہ بہر صورت اسلام اور مسلمانوں کے

مفاد میں نہیں ہوں گے-

=-،-= مذہب ابراہیمی ” ڈیل آف دی سینچری” کا چھوٹا سا حصہ

مسلمانوں کی اکثریت اس منصوبے پر جذباتی ردعمل دیتے ہوئے دکھائی دے گی

کہ یہود و ہنود اپنی اس قبیح سازش میں کبھی بھی کامیاب نہیں ہو سکتے، لیکن اگر

تاریخ کے اوراق الٹ پلٹ کے دیکھنے کی زحمت کی جائے، تو پتہ چلے گا کہ یہ

طاقتیں بہائیت اور قادیانیت سمیت مسلمانوں میں ایک سے زائد فرقے تخلیق کرنے

کے تجربے کامیابی کے ساتھ کر چکی ہیں، جبکہ حالیہ مذہب ابراہیمی ” ڈیل آف

دی سینچری” کا ایک چھوٹا سا حصہ ہے-

مذہب ابراہیمی منصوبہ ، مذہب ابراہیمی منصوبہ ، مذہب ابراہیمی منصوبہ

=-= قارئین= کاوش پسند آئے تو اپ ڈیٹ رہنے کیلئے فالو کریں
= نوٹ== ہماری نئی ویب سایٹ ” جتن اردو‌ ” کا بھی ضرور وزٹ کریں

Leave a Reply