مذہبی پیشوائوں اور پادریوں نے راہبائوں کیساتھ بدفعلی کی،پوپ فرانسس کا اعتراف

Spread the love

پوپ فرانسس نے اپنے پادریوں پر تنقید کرتے ہوئے اعتراف کیا کہ مذہبی پیشواو¿ں اور پادریوں کی جانب سے راہباو¿ں(نن) کےسا تھ بداخلاقی کی جارہی ہے ۔کئی ایک کیسز میں تو انہیں جنسی غلام کے طور پر بھی رکھاگیا،

اس کیس میں انکے پیشرو پوپ بینڈکٹ کو مجبور کیا گیا کہ وہ راہباو¿ں کے پورے اجتماع جہاں پادری ان کےساتھ جنسی بداخلاقی کر رہے تھے کو بند کر دیں۔متحدہ عرب امارات کا تاریخی دورے کے بعد ویٹی کن سٹی واپس لوٹتے ہوئے جہاز میں صحافی کے ایک سوال کے جواب میں پوپ فرانسس کا کہنا تھا راہباو¿ں کے بداخلاقی میں کچھ پادری اور مذہبی پیشوا بھی ملوث ہیں۔

پوپ فرانسس کا بیان ایسے وقت میں سامنے آیا جب ایک ہفتے قبل ویٹی کن کے خواتین سے متعلق ایک جریدے نے خواتین کےساتھ ہونےوالے بداخلاقی کے بارے میں انکشاف کیا تھا اور بتایا تھا مذہبی پیشوا متاثرہ راہباو¿ں سے اسقا ط حمل کا مطالبہ کرتے ہیں یا پھر پیدا ہونےوالے بچوں کو قبول کرنے سے انکار کردیتے ہیں،یہ واقعات اب بھی جاری ہیں، چرچ اس معاملے پر متعدد پادریوں کو معطل کر چکا ہے اور ویٹی کن اس پر طویل عرصے سے کام کر رہا ہے۔

یاد رہے گزشتہ برس مئی میں رومن کیتھولک چرچ کے مالی امور کے سربراہ اور پوپ فرانسس کے اعلیٰ ترین معاون کارڈِنل جارج پیل پر جنسی ہراساں کرنے کا الزام عائد کیا گیا تھا۔واضح رہے کہ راہباو¿ں کےساتھ بداخلاقی کے واقعات اس وقت منظر عام پر آنا شروع ہوئے جب بھارت سے تعلق رکھنے والی ایک راہبہ نے پاردی پر الزام عائد کیا تھا کہ اسے پادری کی جانب سے متعدد مرتبہ بداخلاقی کا نشانہ بنایا جاتا رہا۔

Leave a Reply