محکمہ صحت خیبرپختونخوا کا غیر حاضر ملازمین کیخلاف ایکشن کا فیصلہ

محکمہ صحت خیبرپختونخوا کا غیر حاضر ملازمین کیخلاف ایکشن کا فیصلہ

Spread the love

پشاور(بیورو چیف، عمران رشید خان) محکمہ صحت خیبرپختونخوا

Journalist Imran Rasheed

محکمہ صحت خیبرپختونخوا نے رواں ماہ غیر حاضر ملازمین کیخلاف محکمانہ

کارروائی کا فیصلہ کیا ہے۔ محکمہ صحت خیبرپختونخوا کو آزادانہ مانیٹرنگ

یونٹ کی جانب سے یکم سے 15 ستمبر تک سٹاف کی حاضری سے متعلق ایک

رپورٹ جمع کرائی گئی ہے۔ جس میں صوبے کے مختلف اضلاع میں ملازمین

کی حاضری رجسٹرڈ کا جائزہ لیا ہے، اس رپورٹ میں 1641 ملازمین کے بارے

میں رپورٹ جمع کرائی گئی ہے جن میں سے 593 ملازمین اپنی ڈیوٹی سے غیر

حاضر پائے گئے ہیں۔

=–= صحت سے متعلق مزید خبریں ( =–= پڑھیں =–= )

محکمہ صحت کے سیکرٹریٹ میں اس ضمن میں جمع کرائی گئی رپورٹ میں یہ

بات سامنے آئی ہے کہ ہسپتالوں سے ڈاکٹرز، پیرامیڈیکس، ایل ایچ ویز، نرسز

اور ماتحت ملازمین کی ڈیوٹی تسلی بخش نہیں تھی، بعض ملازمین ایمرجنسی

چھٹی، بعض جنرل ڈیوٹی اور بعض ملازمین کسی اور دفتری کام کی وجہ سے

کسی اور ڈیوٹی پر تھے۔ رپورٹ کے مطابق بیشتر ملازمین اپنی ڈیوٹی پر تاخیر

سے پہنچے تھے، ذرائع نے بتایا کہ 593 ملازمین بغیر پیشگی اجازت یا بتائے

بغیر اپنی ڈیوٹی سے غیر حاضر پائے گئے تھے۔ ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ

رپورٹ ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ کو جمع کرا دی گئی ہے جس میں ان ملازمین کیخلاف

تادیبی کارروائی کی بھی سفارش کی گئی ہے۔

=-،-= خیبرپختونخوا میں 900 افراد ڈینگی کا شکار ہو گئے

خیبرپختونخوا میں 900 افراد ڈینگی کا شکار ہو گئے۔ کمشنر پشاور ڈویژن ریاض

خان محسود کے مطابق پورے صوبہ خیبرپختونخوا میں اس وقت 900 مریض

رجسٹرڈ ہیں جن میں 428 مریض پشاور ڈویژن میں رجسٹرڈ ہیں، جن میں سے

پشاور میں 150 خیبر میں 124، نوشہرہ میں 200 اور چارسدہ میں 4 مریض ہیں

اوران کا علاج مقامی ہسپتالوں میں جاری ہے، باقی اعداد و شمار مفروضوں پر

مبنی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پشاور ڈویژن میں وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کے

احکامات پر پشاور ڈویژن میں ڈینگی کے خلاف ہنگامی بنیادوں پر کام کا آغاز

کر دیا گیا ہے اور امید کرتے ہیں کہ جلد ہی ڈینگی پر قابو پا لیا جائے گا۔
محکمہ صحت خیبرپختونخوا ، محکمہ صحت خیبرپختونخوا ، محکمہ صحت خیبرپختونخوا

=-= قارئین= کاوش پسند آئے تو اپ ڈیٹ رہنے کیلئے فالو کریں
=-،-= خیبر پختونخوا سے متعلق مزید خبریں (=-= پڑھیں =-=)

Leave a Reply