محمد علی سد پارہ اور ساتھی کوہ پیماﺅں کیساتھ کیا ہوا؟ جاننے کی مہم جاری

محمد علی سد پارہ اور ساتھی کوہ پیماﺅں کیساتھ کیا ہوا؟ جاننے کی مہم جاری

Spread the love

گلگت بلتستان، اسلام آباد (جے ٹی این آن لائن سپورٹس نیوز) محمد علی سد پارہ

موسم سرما میں مہم کے دوران لاپتا ہونے والے تین کوہ پیماؤں کی تلاش کے لئے

ساجد سد پارہ سمیت 3 رکنی ٹیم کے ٹو پر موجود ہے اور اب تک 7 ہزار 800

میٹرز کی بلندی پر پہنچ چکی ہے۔ یہ بات البائن کلب آف پاکستان نے اپنے بیان میں

بتائی لاپتا کوہ پیماؤں میں ساجد سد پارہ کے والد محمد علی سد پارہ بھی شامل ہیں۔

اس سے قبل فروری 2021ء میں محمد علی سد پارہ اپنے دو کوہ پیما ساتھیوں آئس

لینڈ کے جوہن سنوری اور چلی کے جاون پیبلی موہرکے ساتھ لاپتا ہو گئے تھے۔

=–= کھیل اور کھلاڑی سے متعلق ایسی ہی مزید خبریں ( =–= پڑھیں =–= )

تینوں دنیا کی دوسری بلند ترین چوٹی کے ٹو کرنے کی کوشش کر رہے تھے جس

کی اونچائی 8 ہزار 6 سو 11 میٹرز ہے۔ 2021ء تک کے 2 دنیا کے دیگر 8 ہزار

میٹرز سے بلند پہاڑوں کے مقابلے میں واحد چوٹی تھی جسے موسم سرما میں سر

نہیں کیا جا سکا تھا اور اسی وجہ سے وہ متعدد کوہ پیماؤں کی توجہ کا مرکز بنی

ہوئی تھی۔ علی سد پارہ پاکستان کے واحد کوہ پیما ہیں جو دنیا کے 8 ہزار میٹرز

سے زیادہ 14 بلند ترین پہاڑوں میں سے آٹھ سر کرنے میں کامیاب رہے اور سرد

موسم میں نانگا پربت سر کرنے والے پہلے کوہ پیما بھی ہیں۔ الپائن کلب پاکستان

کے سیکرٹری قرار حیدری نے بتایا کہ موسم خراب ہونے سے قبل ساجد سد پارہ

اور ان کی ٹیم کے دو اراکین علیاسیکالےاور پسنج کاجی شرپا جس حد تک ہو سکا،

ممکنہ بلندی تک پہنچنے میں کامیاب رہے، ان کی مہم کا مقصد یہ جاننا ہے کہ

لاپتا کوہ پیماﺅں کے ساتھ کیا ہوا۔ قرار حیدری نے کہا کہ سرچ ٹیم 7 ہزار 800

میٹرز پر پہنچنے کے بعد 8300 میٹر بلندی تک ڈورنز استعمال کر کے آگے کے

راستوں کو اسکین کررہی ہے جبکہ اس کے ساتھ ساتھ گمشدہ کوہ پیماﺅں کے آثار

کی جانچ پڑتال بھی کی جارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ گمشدہ کوہ پیماﺅں کا تاحال

کوئی سراغ نہیں ملا۔

=-= قارئین= کاوش پسند آئے تو اپ ڈیٹ رہنے کیلئے فالو کریں

الپائن کلب پاکستان کے سیکرٹری قرار حیدری کا کہنا تھا لپ علیا سیکلے فروری

میں کے ٹو پر ہونے والے حادثے کی دستاویزی فلم بھی بنا رہے ہیں۔ انہوں نے یہ

بھی بتایا کہ اناستاسیہ (ناستیا) رونوا براڈ پیک کو سر کرنے کے بعد حادثے کا

شکار ہوئی تھی تاہم انگلیوں میں فروسٹ بائٹ کے علاوہ روسی کوہ پیما کو کسی

قسم کا مزید نقصان نہیں ہوا۔ الپائن کلب پاکستان کے مطابق روسی کوہ پیما 100

کلو میٹر سے پھسل گئی تھیں لیکن کچھ آرام کے بعد وہ بحفاظت بیس کیمپ تک

پہنچ گئیں، تاہم کوریا کے کوہ پیما کِم ہونگ بن خوش قسمت ثابت نہیں ہوئے اور وہ

پیر کے روز 80 ڈگری سے گرنے پر جان کی بازی ہار گئے۔ الپائن کلب کے

مطابق وہ 8 ہزار 47 میٹرز کے اونچے پہاڑ پر7900 میٹرز تک پہنچے تھے۔ یاد

رہے دیگر مہمات کیلئے موسم بہتر ہونے کا انتظار کیا جارہا ہے، امید ہے کوہ

پیماؤں کے گروپس اگلے ہفتے کے ٹو اور براڈ پیک کو سر کرنے کے لئے روانہ

ہوں گے۔

محمد علی سد پارہ ، محمد علی سد پارہ ، محمد علی سد پارہ ، محمد علی سد پارہ

Leave a Reply