محافظ بنے لٹیرے، تھانہ فقیرآباد کے اہلکار مثالی کے پی پولیس پر بدنما دھبہ

محافظ بنے لٹیرے، تھانہ فقیرآباد کے اہلکار مثالی کے پی پولیس پر بدنما دھبہ

Spread the love

پشاور ( خصوصی رپورٹ:— عمران رشید) محافظ بنے لٹیرے
Joirnalist Imran Rasheed Peshawar

محافظ لٹیرے بن گئے، پشاور کے تھانہ فقیرآباد کے اہلکاروں نے غنڈہ گردی کا مظاہرہ

کرتے ہوئے شہری کے گھر میں بزور طاقت داخل ہو کر نہ صرف چادر اور چار

دیواری کا تقدس پامال کیا بلکہ گھر سے لاکھوں روپے نقد، زیورات اٹھا لے گئے تاہم

گھر کے اندر اور باہر لگے خفیہ کیمروں نے پولیس گردی اور لوٹ مار اور قانون

شکنی کا پول کھول دیا، جس سے پورے محکمہ پولیس خیبرپختونخوا کے سر شرم

سے جھکنے کیساتھ ساتھ مثالی پولیس پر ایک اور بدنما دھبہ لگا گیا-

یہ بھی پڑھیں: ارض پاک کیخلاف گھناؤنی ویڈیو ہائی برڈ وار کا تسلسل

Photage6

تفصیلات کے مطابق فقیرآباد پولیس نے چند روز قبل تھانہ کی حدود میں مقیم خاتون

عشرت بی بی کے گھر رات گئے بغیر کسی شکایت اور قانونی طریقہ کار اختیار کئے

سرچ آپرییشن کی آڑ میں غنڈہ گردی کی- متاثرہ خاتون عشرت بی بی نے بتایا کہ

رات ایک بج کر دس منٹ پر اس کے گھر کے دروازے پر دستک ہوئی، دروازے پر

پہنچ کر جب اس نے پوچھا کون؟ تو باہر سے بتایا گیا علاقے میں سرچ آپریشن ہے

دروازہ کھولیں، جونہی انہوں نے دروازہ کھولا تو ایس ایچ او تھانہ فقیر آباد اعجاز نبی

بمعہ نفری بغیر لیڈی کانسٹیبلز گھر میں داخل ہو گیا اور گھر کے کمروں کی تلاشی

شروع کر دی-

Photage2

متاثرہ خاتون کے مطابق پولیس نے گھر کی بالائی منزل کی تلاشی لینے کے بعد خاتون

کو بند کمرے کا تالا کھولنے کا کہا اور اتنے میں پولیس کے ہمراہ سادہ کپڑوں میں

موجود اہلکار نے خاتون کو زبردستی باہر روکے رکھا، جب پولیس چلی گئی تو معلوم

ہوا کہ کمرے میں پڑے لاکھوں روپے، سونے زیورات اور دیگر قیمتی اشیاء غائب

تھیں جو پولیس اہلکار ساتھ لے گئے، تاہم متاثرہ خاتون تھانہ فقیرآباد پہنچ گئی جہاں

موجود عملے نے کہا کہ رات بارہ بجے کے بعد تھانہ کی موبائل گشت نہیں کرتی، تم

جاؤ صبح بات ہو گی-

Photage1Photage5

اس تمام تر صورتحال کا ایک مقامی نجی ٹی وی چینل کو علم ہوا تو اس کی کرائم

رپورٹنگ ٹیم نے گھر کے اندر اور باہر لگے کیمروں کی ریکارڈنگ حاصل کر کے

تھانہ ایس ایچ او سے پوچھا تو پہلے تو اس نے واقعہ سے لاعلمی اظہار کیا، لیکن جب

نجی ٹی وی چینل نے خفیہ کیمروں کی فوٹیج د کھائی تو مذکورہ ایس ایچ او نے

اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ وہ سرچ آپریشن کی غرض سے گھر میں داخل ہوئے،

تلاشی لی اور واپس چلے گئے-

CCTV Camera

تھانہ فقیر آباد پولیس کی اس غنڈہ گردی پر جہاں اہل علاقہ سراپا احتجاج ہیں وہیں

سیاسی و سماجی حلقوں کا کہنا ہے بالفرض تھانہ فقیر آباد پولیس کا سرچ آپریشن کا

موقف درست بھی تسلیم کر لیا جائے تو کیا تھانہ انچارج کو یہ نہیں معلوم کہ بغیر لیڈیز

پولیس، ایف آئی آر اور سرچ وارنٹ کسی کے گھر میں داخل نہیں ہونا خلاف قانون و

آئین ہے؟-

=-،-= پولیس گردی کے واقعہ کی ویڈیو ( =-= دیکھیئے =-=)

دوسری جانب مذکورہ پولیس گردی کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو چکی ہے جہاں

صارفین کی جانب سے خیبر پختونخوا مثالی پولیس کی لفظی چھترول کا سلسلہ عروج

پر ہے، اب دیکھنا یہ ہے، مثالی پولیس اپنے مثالی پیٹی بندوں کو رعایت بخشتی ہے یا

پھر بھرپور کارروائی عمل میں لا کر قانون و انصاف کا بول بالا کرتی ہے، تاکہ آئندہ

ارض پاک اور قانون و آئین کے محافظ ہونے زعم میں ایسی غنڈہ گردی کا مظاہرہ

کرنے کا تصور بھی نہ کر سکے۔

Innocent Woman

متاثرہ خاتون عشرت بی بی نے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا، آئی جی پولیس اور دیگر

اعلیٰ حکام سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ مذکورہ ایس ایچ او کی جانب سے چادر اور

چار دیواری کا تقدس پامال کرنے، گھر سے نقدی اور زیورات لوٹنے کی پاداش میں

قانون کے مطابق کارروائی کر کے اسے انصاف دلوایا جائے اورلوٹی گئی نقدی اور

زیوارت برآمد کرکے حوالے کئے جائیں۔

CM KPK Mehmood KhanIGP PeshawarCTO Peshawar

قانونی اور آئینی ماہرین کا کہنا ہے کہ ملک کو درپیش اندرونی اور بیرونی خطرات کو

مدنظر رکھتے ہوئے قانون نافذ کرنےوالے اداروں کو انتہائی محتاط رہنے سمیت ذمہ

دارانہ رویہ کے مظاہرہ کرنا ہوگا، جہاں تک اداروں میں موجود ایسے غیر ذمہ دار،

غیر سنجیدہ، زر کے پوجاری اور ملک و قوم کی عزت کو داؤ پر لگانے والی کالی

بھیڑوں کا تعلق ہے ان سے اداروں کو پاک کرنے کیلئے جلد انتہائی سخت ایکشن لینا ہو

گا کیونکہ پہلے ہی بہت دیر ہو چکی ہے اور مزید تاخیر ناقابل تلافی نقصان کا پیش

خیمہ ثابت ہو گی-

محافظ بنے لٹیرے ، محافظ بنے لٹیرے ، محافظ بنے لٹیرے ، محافظ بنے لٹیرے

=-= قارئین کاوش پسند آئے تو اپ ڈیٹ رہنے کیلئے فالو کریں

Leave a Reply