133

متنازع شہریت قانون،بھارتی سپریم کورٹ نے مودی سرکار سے جواب طلب کر لیا

نئی دہلی(مانیٹرنگ ڈیسک) بھارتی سپریم کورٹ نے شہریت کے متنازع قانون پر

مودی حکومت سے جواب طلب کرلیا،سپریم کورٹ نے ان تما م درخواستوں پر

فیصلہ ہونے تک تمام ہائیکورٹس کو سی اے اے کے حوالے سے دائر درخواستوں

پر سماعت سے بھی روک دیا۔ علاوہ ازیں سپریم کورٹ نے اسی معاملے میں

بھارتی ریاست آسام اور تری پورا کی درخواستوں کو علیحدہ سننے کا اعلان کیا

ہے۔بھارتی میڈیا کے مطابق بھارتی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس ایس اے بوبڑے

کی سربراہی میں 5رکنی بینچ شہریت کے متنازع قانون کیخلاف دائر تقریبا 143 د

ر خواستوں پر سماعت کرے گا۔سپریم کورٹ نے شہریت کے متنازع قانون سٹیزن

شپ ترمیمی ایکٹ (سی اے اے)پر حکم امتناع دینے سے انکار کرتے ہوئے مودی

حکومت کو 4ہفتوں میں جواب داخل کرنے کی ہدایت کی ہے۔بھارتی میڈیا کے

مطابق سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ شہریت کے متنازع قانون کیخلاف دائر ہونیوالی

140سے زائد درخواستوں پر5رکنی بینچ سماعت کرے گا جو اس معاملے پر

حکومت کو سنے بغیر حکم امتناع نہیں دے گا ،جبکہ بینچ ان درخواستوں پر ایک

عبوری حکم بھی جاری کرے گا۔بھارت کی سپریم کورٹ نے ان تمام درخوا ستو ں

پر فیصلہ ہونے تک تمام ہائیکورٹس کو سی اے اے کے حوالے سے دائر

درخواستوں پر سماعت سے بھی روک دیا ہے۔اس کے علاوہ سپریم کورٹ نے اسی

معاملے میں بھارتی ریاست آسام اور تری پورا کی درخواستوں کو علیحدہ سننے کا

اعلان کیا ہے۔بھارتی میڈیا کے مطابق سپریم کورٹ نے 9جنوری کو دائر ایک

درخواست کو بھی مسترد کیا تھا جس میں سی اے اے کو آئینی قرار دینے کی

استدعا کی گئی تھی جبکہ عدالت نے اپنے ریمارکس میں کہا تھا ملک اس وقت

مشکل حالات سے گزر رہا ہے لہٰذا امن کیلئے اقدامات کرنے چاہئیں۔واضح رہے

متنازع شہریت قانون کیخلاف بھارت میں گذشتہ ماہ سے شدید احتجاج کیا جارہا ہے

۔اس متنازع قانون کے تحت پاکستان، بنگلا دیش اور افغانستان سے بھارت جانیوالے

غیر مسلموں کو شہریت دی جائیگی لیکن مسلمانوں کو نہیں۔

Leave a Reply