Imran Khan Prim minister Pakistan 117

متنازع بل انسانی حقوق کی مکمل خلاف ورزی ہے،عمران خان

اسلام آباد(سٹاف رپورٹر ) وزیراعظم عمران خان نے بھارتی لوک سبھامیں شہریت کے متنازع بل کی

مذمت کرتے ہوئے کہا متنازع بل آرایس ایس کے ہندو راشٹریہ کے توسیعی منصوبے کا حصہ ہے،

مودی حکومت منصوبے کے تحت پروپیگنڈا کررہی ہے۔تفصیلات کے مطابق وزیراعظم عمران خان

نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر بھارتی لوک سبھامیں شہریت کی متنازع بل کی مذمت

کرتے ہوئے کہا متنازع بل انسانی حقوق کی مکمل خلاف ورزی اوربل پر قانون سازی دوطرفہ

معاہدوں کی خلاف ورزی ہے۔پاکستان نے بھارتی لوک سبھا میں امتیازی ومتعصبانہ قانون سازی کی

شدید مذمت کی ہے، پاکستان اور جنوبی ایشیا کے دیگر ممالک کے غیرمسلم باشندوں اور تارکین وطن

کو بھارتی شہریت دینے سے متعلق بھارتی لوک سبھا میں حالیہ قانون سازی جھوٹ اور دھوکے پر

مبنی ہے اور یہ اقدام انسانی حقوق کے عالمی منشور اور ہر طرح کے امتیازات، مذہب یا عقیدے کی

بنیاد پر ہر قسم کے تعصبات کے خاتمے کے لئے بین الاقوامی معاہدات کی کھلی خلاف ورزی ہے،

لوک سبھا کی قانون سازی پاکستان اور بھارت کے درمیان مختلف دوطرفہ معاہدات بالخصوص دونوں

ممالک کی اقلیتوں کے حقوق اور سلامتی سے متعلق معاہدے کی بھی صریحا خلاف ورزی ہے۔دفتر

خارجہ کی طرف سے جاری بیان کے مطابق یہ قانون سازی ہندوراشٹرا کے تصور کو عملی شکل

دینے کی طرف ایک اور بڑا قدم ہے۔اس تصور کی تعبیر کے لئے دائیں بازو کے ہندو رہنما کئی

دہائیوں سے سرگرم عمل ہیں۔ یہ ہندتوا کی انتہا پسندانہ سوچ اور خطے میں تسلط پسندانہ خیالات کا

زہریلا میلاپ ہے۔ یہ مذہب کی بنیاد پر ہمسایہ ممالک کے اندرونی معاملات میں مداخلت کا واضح

اظہار ہے جسے ہم قطعی طورپر مسترد کرتے ہیں۔بھارت کی جانب سے خود کو ہمسایہ ممالک میں

ستائی ہوئی اقلیتوں کا گھر ظاہر کرنے کے دعوے بھی انتہائی قابل مذمت ہیں۔ گجرات میں ہزاروں

مسلمانوں کا قتل عام، سمجھوتہ ایکسپریس کے سانحے، گائے کے محافظ جتھوں کے ہاتھوں لاتعداد

لوگوں کاقتل، گھرواپسی اور جہاد سے پیار کے نام سے شروع کی گئیں بدنام زمانہ سکیموں کے

علاوہ مسیحیوں، سکھوں، جین اوردلت جیسے نچلی ذات کے ہندوئوں پر بہیمانہ تشدد، انتہاپسند ہندو

نظریات رکھنے والے حکمران طبقے کا اعزاز اورپہچان ہے، اسی لاکھ بے گناہ اور نہتے کشمیریوں

پر ظلم وستم جاری ہیں، نو لاکھ سے زائد بھارتی قابض افواج ان پر مظالم کے پہاڑ توڑ رہی ہیں، یہ

سب حقائق انتہا پسند بھارتی ذہن کی پوری طرح تشریح اور تعارف پیش کرتے ہیں۔بھارتی قانون سازی

نے ایک بار پھر بھارتی جمہوریت اور سیکولرازم کے کھوکھلے دعووں کو بے نقاب کردیا ہے۔

اکثریت کے ایجنڈے کو آگے بڑھاتے ہوئے آر ایس ایس اور بی جے پی کی دیگر عقائد کے لوگوں کو

نکال باہر پھینکنے والی سوچ پوری دنیا کے سامنے آچکی ہے اور مسلمانوں سے شدید نفرت کس

درجے پر ہے، اس کا بھی واضح اظہار ہوچکا ہے۔ ہم اس امتیازی، جارحانہ اورجابرانہ قانون سازی

کی مذمت کرتے ہیں جو تمام متعلقہ عالمی ضابطوں اور اقدار کی صریحا خلاف ورزی ہے اور ہمسایہ

ممالک میں بھارتی مداخلت اور بدنیتی کی کھلی مثال ہے۔وفاقی کابینہ نے بھی لوک سبھا میں منظور

کئے جانے والے متنازعہ شہریت بل کی شدید مذمت کی۔ منگل کو کابینہ اجلاس کے بعد میڈیا کو

بریفنگ دیتے ہوئے معاون خصوصی فردوس عاشق اعوان نے کہاکہ کابینہ نے لوک سبھا میں منظور

کئے جانے والے متنازعہ شہریت بل کی شدید مذمت کی ۔ انہوںنے کہاکہ بھارت کے اقدامات نے اس کا

اصل چہرہ بے نقاب کیا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں