متاثرینِ ابیٹ آباد کے نام ایک کھلا خط ---

متاثرینِ ابیٹ آباد کے نام ایک کھلا خط —

Spread the love

متاثرینِ ابیٹ آباد

سمجھنے ہی نہیں دیتی سیاست ہم کو سچائی
کبھی چہرہ نہیں ملتا کبھی درپن نہیں ملتا

کچھ عرصہ قبل ایک اخبار کے صفحہ اول پر کسی سیاسی رہنماء کا بیان دیکھا

انہوں نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ بھلے ہم اپوزیشن میں بیٹھے ہیں

اپوزیشن حکومت کو لگام ڈالتی ہے جب کچھ بُرا ہوتا دکھائی دے رہا ہو، لیکن

اچھے کاموں کی تعریف اور ان میں حکومت کی مدد کو ہر وقت تیار ہیں-

موصوف نے عوامی مفادات کو اولین ترجیح دی، ویسے ہی اپوزیشن جماعتوں

کے بعض سیاستدانوں کی جانب سے کبھی کبھار اس قسم کے بیانات سامنے آتے

رہتے ہیں، لیکن جب حالات کا تفصیلی جائزہ لیا جائے تو زمیں بوس حقائق کچھ

اور ہی دکھائی دیتے ہیں، اگر حقیقتی معنوں میں ملک عزیز میں بسنے والوں کو

ہر جگہ اہمیت دی جاتی تو آج ہمارا ملک پاکستان دنیا کے دس ترقی یافتہ اور

بہترین اقوام کی فہرست میں نظر آ رہا ہوتا، یہاں تو ہر کوئی ایک دوسرے کے

صحیح کو غلط ثابت کرنا اپنی زمہ داری سمجھ بیٹھا ہے-

=-،-=نقصان کا ذمہ دار؟ مافیا، پٹواری یا سیاسی مخالفین

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا ہزارہ ڈویژن کا خوبصورت ضلع ابیٹ آباد

گزشتہ 20 سالوں میں تقریبا” ہر سال یا ہر دوسرے سال میں ایک بار ضرور

اس شہر کے کچھ علاقے طوفانی بارشوں کے باعث سیلابی ریلےکی زد

میں آتے ہیں جس کی وجہ سے یہاں کے رہائشیوں کو اپنی قیمتی اشیا

گھروں کی عمارتوں کے نقصان کا سامنا کرنا پڑتا ہے، بارش طوفان کے بعد

مركزی نالے میں تغیانی کے باعث جہاں عوام کے گھروں دکانوں گوداموں کو

نا قابل تلافی نقصان پہنچتا ھے، وہیں پر یہاں کے سرکاری دفاتر و املاک بھی

اس سیلاب کی نذر ہو کر بہہ جاتے ہیں، اگر بات موجودہ صورت حال پر کی

جاۓ تو آخری مرتبہ چند ماہ قبل شدید طوفانی بارشوں کے باعث انیوالے سیلاب

میں ایبٹ آباد کے پوش علاقے بلال ٹاؤن حسن ٹاؤن شاہزمان کالونی ترکنہ

سپلائی پھل گلاب روڈ سر سید کالونی، ایوب میڈیکل کمپلیکس سمیت

دیگر علاقے اس کی لپیٹ میں آئے اس دوران حالات کچھ ایسے تھے کہ

48 گھنٹوں تک معمولات زندگی معطل رہا، لوگوں نے گھروں کی چھتوں پر

چڑھ کر جانیں بچائیں، امدادی ٹیمیں بھی شہریوں کی مدد کے لئے میدان میں

رہیں تاہم بعض مقامات پہ لوگوں نے اپنی مدد اپ کے تحت اپنے عزیز و آقارب و

بچوں کی جانیں بچائیں، یہاں سوال یہ ھے کے پچھلے تقریبا 20 سالوں سے یہاں

عوام پر نازل ہونے والا عذاب آخر کس کی کوتاہی کا نتیجہ ھے؟ جواب بہت

آسان سا ھے کہ مذکورہ علاقوں میں سیلاب کے بعد قیامت جیسا منظر پیش آنے

کا سبب خود یہاں کی آبادی یا پھر وہ طبقہ ہے جس نے ہوس زر کی خاطر آیبٹ

آباد کے اس قدیمی نالے کے ارد گرد و عین اسکے اوپر تجاوزات قائم کیں سیلاب

سے متاثرہ خاندانوں تک امدادی رقم پہنچنے میں رکاوٹ، ایک گھناؤنی سازش

گزشتہ چند ماہ قبل سیلابی ریلے کی تباہی کے بعد ہی پاکستان تحریک انصاف

کی حکومت نے متاثرہ شہریوں کی زندگیاں اس سانحہ کے بعد دوبارہ بحالی

کیلئے ہر ایک گھر کے سربراہ کو کو ڈیڑھ لاکھ روپے دینے کا اعلان کیا جو رقم

علاق پٹواری کے ذریعے متاثرہ میں تقسیم ہونا تھی لیکن اس کار خیر کو بھی

سیاست کھا گئی، کیونکہ ملک میں کنٹونمنٹ بورڈ کے انتخابات کی آمد تھی،

ہوا کچھ ایسا کہ پٹواری ایک کرپشن کیس کے فیصلے کے خلاف احتجاج پر

بیٹھ گئے، جس کے سبب شہریوں میں رقوم کی تقسیم کا عمل رک گیا جو کہ

تاحال جوں کا توں ہے، متاثرہ شہریوں میں رقوم کی عدم تقسیم اور تجاوزات

کے خلاف آپریشن کرنے کے حوالے سے حکومتی تیاریاں ہی کنٹونمنٹ بورڈ

انتخابات کے دوران ابیٹ آباد میں پی ٹی آئی کی بھرپور طور پر کامیاب ہونے

کی راہ میں رکاوٹ ہونا تصور کیا جا رہا ہے، واضح رہے کہ ابیٹ آباد میں

حکومتی جماعت چار جبکہ مسلم لیگ ن پانچ سیٹوں پر کامیاب ہوئی جبکہ

پی پی پی کو ایک سیٹ پر ہی کامیابی مل پائی-

سپیکر صوبائی اسمبلی خیبر پختونخوا مشتاق احمد غنی
مشتاق غنی کی خدمات سنہری حروف میں لکھی جائینگی

پاکستان تحریک انصاف کے دو مرتبہ بھاری اکثریت سے کامیاب ہونیوالے

امیدوار سپیکر صوبائی اسمبلی کے پی کے مشتاق احمد غنی ابیٹ آباد جن

کا گھر مانا جاتا ہے کی اپنے ضلع کے لئے خدمات کی مثال ماضی میں نہیں

ملتی سڑکوں کی تعمیر ہو یا تعلیم، صحت کا شعبہ ہو یا کھیل، تفریحی مقامات،

سیاحت ہر شعبے میں بے مثال کام کئے جن میں چند اقدامات کا یہاں ذکر کرتا

چلوں کہ عوام کا درینہ مسئلہ، ملک بھر سے آنیوالے سیاحوں کیلئے سہولت

اور ٹریفک بہاؤ کے لئے وقت کی اہم ضرورت حویلیاں تا دھمتوڑ بائی پاس کی

تعمیر کے علاؤہ کمپنی باغ تا جناح پارک روڈ، الیاسی روڈ، نواں شہر، چنار روڈ

سمیت اندرون شہر اور ارگرد سڑکوں کی از سر نو مرمت و تعمیر کے ساتھ

ساتھ شہر کے گلی کوچوں کی پختگی جبکہ عید گاہ سمیت دیگر عمارتوں

کی تزئین و آرائش کے کام مکمل کئے گئے جبکہ تعلیمی شعبے میں بھی

=–= تعلیم سے متعلق مزید ایسی خبریں (=–= پڑھیں =–= )

بھرپور مثبت تبدیلیاں اور قیام عمل میں لائے گئے جیسے کہ ابیٹ آباد یونیورسٹی

کا قیام، ملک پورہ گرلز ڈگری کالج، نواں شہر گرلز ڈگری کالج، کاکول گرلز

ڈگری کالج، سپلائی ہوم اکنامکس کالجز بنائے گئے علاؤہ ازیں سرکاری سکولوں

و کالجزکی اپ گریڈیشن جن میں جدید سائنسی تعلیمی نظام کی بحالی کے

ساتھ پرائیویٹ سیکٹرز میں بھی کئے جانیوالے حکومتی کارنامے شامل ہیں-

=-،-= خیبر پختونخوا سے متعلق مزید خبریں (=-= پڑھیں =-=)

اسی طرح شعبہ طب و صحت میں نا قابل فراموش خدمات روز روشن

کی طرح عیاں ہیں، شہری و دوردروز پہاڑی علاقوں میں بنیادی مراکز

صحت و ٹائپ ڈی ہسپتالوں کا قیام اور ان میں سینئرز ڈاکٹرز کی تعیناتیاں،

اور نہ صرف ادویات کی فراہمی یقینی بنایا بلکہ چیک ان بیلنس کے لئے

ایک بہترین مانیٹرنگ نظام کا قیام بھی عمل میں لایا گیا ہے، جبکہ اندرون

=–= صحت سے متعلق مزید خبریں ( =–= پڑھیں =–= )

شہر اور گردونواح میں شہریوں بالخصوص سیاحوں کی تفریح کے لئے

جھیلوں کے پاس پارکس بنائے گئے اس پر ایک سے بڑھ کر ایک منصوبہ

جیس میں مری روڈ کی ہرنو کے مقام تک توسیع سمیت دیگر کھربوں روپے

کے منصوبے زیر غور ہیں علاؤہ ازیں 6 سو خاندانوں کو نوکریاں بھی دی گئیں۔

=-،-=حکومت عوام دوست یا دشمن–؟

ضلع ابیٹ آباد میں ریکارڈ یافتہ کارناموں کے باوجود مخالف

سیاسی جماعت کا میڈیا بالخصوص سوشل میڈیا پر جھوٹا پروپیگنڈا

سمجھ سے بالا تر ہے موجودہ وقت میں حکومت خلاف تجاوزات گرینڈ

آپریشن کو ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جارہا ہے یہ سازش بالکل

ایسی ہی ہے کہ یہاں کے باسیوں کو ان ہی کے ہاتھوں نقصان پہنچایا جانا

حکومت کے پاس ایک ہی راستہ ہے کہ شہر کے مختلف راستوں سے گزرنے

=-،-= خیبر پختونخوا سے متعلق مزید خبریں (=-= پڑھیں =-=)

والے قدیمی نالے اور اس سے منسلک دیگر نالوں پر قائم تجاوزات کا خاتمہ کیا

جائے اس مسئلے کے مستقل حل کیلئے سپیکر صوبائی اسمبلی مشتاق احمد غنی

کی شب روز ہونیوالے کوششوں لائق تحسین ہیں لیکن انکے سیاسی مخالفین،

پٹواری اور تجاوزات مافیا تمام تر کوششوں پر پانی پھیرنے کے لئے تیار

کھڑا ہے اب بات چل پھر کر وہیں آتی ہے کہ عوامی مفادات میں حکومت

کا ساتھ دینے کی بات صرف میڈیا بیانات تک ہی کیوں محدود رکھا جارہا

ہے اگر تجاوزات کے خاتمے میں حکومت کا ساتھ دیا جائے تو اس شہر میں

بسنے والے ہزاروں افراد کا مستقبل ناگہانی تباہی سے بچایا جا سکتا ہے

اور اگر حکومت اس تجاوزات کے خلاف اس گرینڈ آپریشن میں ناکام رہتی

ہے تو شاید ان نشیبی علاقوں میں رہنے والے شہریوں کی قسمت میں ہر

سال تباہی کا سامنا لکھا جانے سے کوئی نہیں روک سکتا، لہٰذا ہر سال یا

دو سال میں ایک مرتبہ سیلابی ریلے میں نقصان اٹھانے والے ہزاروں معصوم

شہریوں کو اب خود یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ اپنے مستقبل کی ڈور اپنے خیر

خواہوں کے ہاتھ میں دیتی ہے یا انکی تباہی پر سیاست کرنیوالوں کے ہاتھ میں۔

متاثرینِ ابیٹ آباد ، متاثرینِ ابیٹ آباد ، متاثرینِ ابیٹ آباد ، متاثرینِ ابیٹ آباد

متاثرینِ ابیٹ آباد ، متاثرینِ ابیٹ آباد ، متاثرینِ ابیٹ آباد ، متاثرینِ ابیٹ آباد

=-= قارئین= کاوش پسند آئے تو اپ ڈیٹ رہنے کیلئے فالو کریں

Leave a Reply