corona Special jtnonline2

ماہرین کا بچوں میں کرونا کی علامات ہفتوں نہیں مہینوں رہنے کا انکشاف

Spread the love

واشنگٹن (جے ٹی این کرونا سپیشل) ماہرین کا بچوں میں

کوویڈ 19 وائرس کا شکار ہونے والے بچوں میں 12 ہفتوں سے زیادہ عرصے

تک علامات موجود رہ سکتی ہیں۔ ماہرین نے کہا ہے کہ طویل کوویڈ کی کئی

علامات ہیں جو ہفتوں یا مہینوں تک چل سکتی ہیں اور یہ کووِڈ-19 کا شکار

ہونے والے کسی بھی شخص کو ہو سکتی ہیں۔ کویڈ 19 کی طویل علامات

جسمانی اعضاء کے نظاموں کو متاثر کر سکتی ہیں اور جسمانی یا ذہنی سرگرمی

اثر انداز ہو سکتی ہیں۔ ان علامات میں سر درد، انتہائی تھکاوٹ، پٹھوں کی

کمزوری، پٹھوں میں درد، جوڑوں میں درد اور یادداشت یا حافظے میں تبدیلی

شامل ہیں۔

=–= کرونا وائرس سے متعلق خبریں ( =–= پڑھیں =–= )

محققین کی ایک ٹیم کی پیڈیاٹرک انفیکشنڈ ڈیزیز جرنل میں شائع شدہ ایک نئی

تحقیق سے پتا چلا ہے کہ سب سے عام علامات میں سر درد، تھکاوٹ، نیند میں

خلل، پیٹ میں درد اور ارتکازمیں مشکلات شامل ہیں۔ مطالعے کے مصنفین نے

ڈیٹا سے یہ نتیجہ بھی اخذ کیا کہ 10 ماہ کے وقفے کے بعد بچوں کو کوویڈ-19

کے سابقہ متغیرات کے مقابلے میں ڈیلٹا شکل نے کوئی زیادہ متاثر نہیں کیا۔

=–= صحت سے متعلق مزید خبریں ( =–= پڑھیں =–= )

امریکہ کے مرکز برائے انسداد امراض اور کنٹرول کے مطابق 12 سال سے

زیادہ عمر کے بچے کرونا وائرس کی ویکسین لینے کے اہل ہیں۔ شواہد سے پتا

چلا ہے کہ وائرس کے خلاف ٹیکا لگوانے سے ڈیلٹا شکل سے متاثر ہونے کا

خطرہ آدھا رہ جاتا ہے اور شدید انفیکشن ہونے یا اسے دوسرے لوگوں میں

پھیلانے کے امکانات بھی کم ہو جاتے ہیں۔ محققین نے اس مطالعے میں

کوویڈ-19 میں مبتلا ہونے کے بعد مستقل مسائل کا سامنا کرنے والے 19,000

سے زیادہ بچوں پر دنیا بھر میں کیے گئے 14 مطالعات کے اعداد و شمار کا

تجزیہ کیا ہے۔ محققین نے یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ گردے کی دائمی بیماری،

موٹاپا، مدافعتی نظام کی خرابی اور قلبی امراض میں مبتلا افراد میں وائرس کے

شدید کیس کا شکار ہونے کا امکان 25 گنا زیادہ تھا۔

ماہرین کا بچوں میں ، ماہرین کا بچوں میں ، ماہرین کا بچوں میں

=-= قارئین= کاوش پسند آئے تو اپ ڈیٹ رہنے کیلئے فالو کریں

Leave a Reply