بجٹ22-2021 حجم میں 1200 ارب اضافے کا فیصلہ، تنخواہیں 15 فیصد بڑھانے کی تجویز

تین ہزار 154 ارب خسارے کا مالی سال22،2021ء کا وفاقی میزانیہ پیش

Spread the love

اسلام آباد (جے ٹی این ان لائن بزنس نیوز) مالی سال22،2021ء میزانیہ

وفاقی بجٹ مالی سال 2021-22 قومی اسمبلی میں پیش کر دیا گیا، وفاقی وزیر

خزانہ شوکت ترین کی جانب سے پیش کردہ بجٹ دستاویز کے مطابق مالی سال

22-2021ء کے بجٹ کا حجم 8487 ارب روپے، ٹیکس وصولیوں کا ہدف 5829

ارب روپے، نان ٹیکس ریوینیو کی وصولی کا ہدف 2080 ارب روپے، مجموعی

ٹیکس اور نان ٹیکس ریوینیو کا ہدف 7909 ارب روپے رکھا گیا ہے- دستاویز کے

مطابق بینکنگ سیکٹر سے حکومت بجٹ خسارہ پورا کرنے کیلئے 681 ارب

روپے قرض لے گی، بینکنگ اور نان بینکنگ سیکٹر سے حکومت 1922 ارب

روپے قرض حاصل کرے گی، وفاقی حکومت کے غیر ترقیاتی اخراجات کا تخمینہ

7523 ارب روپے ہوگا، ملکی و غیر ملکی قرضوں پر سود کی ادائیگی پر 3060

ارب روپے خرچ ہوں گے، حکومت مجموعی طور پر 1246 ارب روپے مالیت

کے غیر ملکی قرضے لے گی، نئے مالی سال میں حکومت 2417 ارب روپے

مالیت کے ملکی قرضے حاصل کرے گی، عالمی مالیاتی اداروں سے 369 ارب

روپے حاصل کیئے جائیں گے- عالمی کمرشل بینکوں سے 877 ارب روپے

حاصل کیئے جائیں گے، سول اور ملٹری کی مجموعی پینشن کا حجم 480 ارب

روپے ہوگا، دفاعی بجٹ کیلئے 1370 ارب روپے مختص کیئے گئے ہیں، صوبوں

کی ترقیاتی اور غیر ترقیاتی گرانٹس کے لیے 1168ارب روپے مختص کیئے گئے

ہیں بجلی، گیس، کھانے پینے کی اشیاء سمیت تمام شعبوں کے لیے سبسڈی کا بجٹ

682 ارب روپے مقرر کیا گیا ہے- سول حکومت کے اخراجات کے لیے 479 ارب

روپے مختص کر دیئے گئے ہیں، کرونا وائرس کی وباء کی روک تھام اور دیگر

ہنگامی اخراجات کے لیے 100 ارب روپے مختص کیئے گئے ہیں، وفاقی بجٹ

میں صوبوں کی ترقیاتی اور غیر ترقیاتی گرانٹس کے لیے 1168 ارب روپے

مختص کیئے گئے ہیں، بجلی، گیس، کھانے پینے کی اشیاء سمیت تمام شعبوں کے

لیے سبسڈی کا بجٹ 682 ارب روپے مقرر کیا گیا ہے، سول حکومت کے

اخراجات کے لیے 479 ارب روپے مختص کر دیئے گئے، تنخواہوں اور دیگر

مراعات کے لیے 160 ارب روپے مختص کر دیئے گئے ہیں، ترقیاتی بجٹ کے

لیے 964ارب روپے مختص کیئے گئے ہیں، وفاقی سالانہ ترقیاتی پروگرام 900

ارب روپے ہو گا، صوبوں کو قرض کی مد میں 64 ارب روپے ادا کیے جائیں گے

قومی اداروں کی نجکاری سے نئے مالی سال میں 252 ارب روپے حاصل کرنے

کا ہدف دیا گیا ہے، نئے مالی سال میں مجموعی اخراجات کا تخمینہ بھی8487 ارب

روپے ہو گا، دستاویزات کے مطابق حکومت نے آمدن کا تخمینہ 7 ہزار 989 ارب

رکھا ہے جبکہ وفاقی حکومت کے اخراجات کا تخمینہ 8 ہزار 56 ارب روپے سے

زائد متوقع ہیں، اسی طرح آئندہ مالی سال میں قرضے جی ڈی پی کی 3 اعشاریہ

84 فیصد شرح تک پہنچنے کا امکان ہے، صوبوں کو این ایف سی ایوارڈ کے تحت

3 ہزار 527 ارب روپے جاری ہونگے، کل آمدنی میں سے این ایف سی کا شیئر

نکالے جانے کے بعد وفاق کے پاس 4 ہزار 462 ارب روپے بچیں گے، بجٹ میں

قرضوں پر سود کی ادائیگی کے لئے 3ہزار 105ارب روپے، پنشن کی مد میں

480 ارب، سبسڈی کے لئے 530 ارب، ترقیاتی بجٹ کے لئے 900 ارب، سول

حکومت کے اخراجات کیلئے 510 ارب اور گرانٹس کی مد میں 994 ارب روپے

مختص کیئے گئے ہیں، آئندہ مالی سال میں معاشی ترقی کا ہدف 4 اعشاریہ 2

فیصد، بجٹ خسارے کا ہدف 6 فیصد ہونے کا امکان ہے، درآمدات 25 ارب 70

کروڑ ڈالر، برآمدات 51 ارب 40 کروڑ ڈالر، ایف بی آر کیلئے ٹیکس محاصل کا

ہدف 6 ہزار 37 ارب مقرر کرنے کی تجویز ہے، نان ٹیکس کی مد میں 1400 ارب

کے محاصل اکٹھے کرنے کا ہدف رکھا گیا ہے، نئے مالی سال میں مجموعی طور

پر 14سوارب روپے کے نئے ٹیکس لگائے جانے کی تجویز دی گئی ہے، بجٹ

میں تنخواہوں میں 15 سے 20 فیصد اضافے اور 800 سی سی سے کم گاڑیاں

سستی کرنے کی تجویز ہے جبکہ سرکاری ملازمین کے لیے ہاﺅس رینٹ میں بھی

اضافہ کی سمری تیار کی گئی ہے، متوسط طبقہ کیلئے 800 سو سی سی سے کم

گاڑیاں سستے ہونے کا امکان ہے، دفاع کے لیے 1330 ارب روپے مختص کیے

گئے ہیں، ایف بی آر کی ٹیکس وصولیوں کا ہدف 5829 ارب روپے رکھنے کی

تجویز ہے، برآمدات کا ہدف 26 ارب 80 کروڑ ڈالر رکھنے کی تجویز دی گئی

ہے، مالی سال 22-2021 کیلئے درآمدات کا ہدف 55 ارب 30 کروڑ ڈالرکا ہو گا،

کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کا ہدف 2 ارب 30 کروڑ ڈالر رکھنے کی تجویز ہے،

ترسیلات زر کا ہدف 31 ارب 30 کروڑ ڈالر جبکہ گرانٹس کی مد میں 994 ارب

روپے مختص کرنے، سبسڈیز کی مد میں 501 ارب روپے مختص کرنے اور

وفاقی بجٹ میں جی ڈی پی کا ہدف 4.8 فیصد رکھنے کی تجویز دی گئی ہے وفاقی

بجٹ مالی سال 22-2021 میں افراط زرکا ہدف 8فیصد رکھنے کی تجویز دی گئی

ہے، صنعتی شعبہ کی ترقی کا ہدف 6.8 فیصد رکھنے، مینوفیکچرنگ شعبہ کی

ترقی کا ہدف 6.2 فیصد رکھنے اورمجموعی سرمایہ کاری کا ہدف 16 فیصد

رکھنے کی تجویز ہے، نیشنل سیونگز کا ہدف 15.3 فیصد رکھنے کی تجویز دی

گئی ہے، اس سال کے مالی بجٹ میں امپورٹ ڈیوٹی اور دیگر ٹیکسز میں کمی کا

اعلان متوقع ہے جس سے 800 سی سی سے کم گاڑیوں کی قیمتوں میں واضح

کمی ہونے کا امکان ہے، ملک بھر میں گاڑیاں سستی ہونے کا امکان پیدا ہو گیا،

گاڑیوں پر عائد امپورٹ ڈیوٹی اور دیگر ٹیکسز کم کیے جا سکتے ہیں، جس کے

نتیجے میں گاڑیوں کی قیمتوں میں واضح کمی آئے گی، خاص طور پر متوسط

طبقے کو ریلیف دینے کی کوشش کی جائے گی، وفاقی حکومت نے ملک بھر میں

گاڑیوں کی قیمتیں 10 فیصد تک کم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

مالی سال22،2021ء میزانیہ ، مالی سال22،2021ء میزانیہ ، مالی سال22،2021ء میزانیہ

=-= قارئین کاوش پسند آئے تو اپ ڈیٹ رہنے کیلئے فالو کریں
=-= پاکستان سے متعلق مزید تازہ ترین خبریں ( =–= پڑھیں =–= )

Leave a Reply