277

ماسکوکانفرنس، مذاکرات جاری رکھنے پر اتفاق

Spread the love

افغان طالبان اور اپوزیشن کے مابین ماسکو میں ہونیوالے مذاکرات کا اعلامیہ جاری کرتے ہوئے کہا گیا ہے افغان مسائل کو حل کرنے کیلئے آئندہ بھی مذاکراتی عمل جاری رکھا جائیگا، ماسکو مذاکرات میںافغان حکومت کے کسی نمائندے کو شرکت کی دعوت نہیں دی گئی، افغان امن مذاکرات کے بعدسکیورٹی اور دیگراداروں میں اصلاحات، افغانستان میں غیر ملکی مداخلت اور افغا ن سر زمین کسی اور ملک کیخلاف استعمال نہ ہونے کی یقین دہانی ، اسلامی بنیادی قوانین کا احترام اور پاسداری افغانستان کے ہر علاقے میں یقینی بنانے پر کانفرنس کے تمام شرکا ء نے اتفاق کیا ۔ جمعرات کو بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق افغان تنازع کے حل کیلئے افغا نو ں کے مابین مذاکرات جاری رکھنے پر اتفاق کیا گیا ۔افغانستان میں امن سے متعلق روس کی میزبانی میں ماسکومیں منعقدہ دورروزہ کانفرنس ختم ہونے کے بعد جاری کردہ اعلامیہ کے مطابق طالبان اورافغان سیاسی رہنمائوں کے درمیان مذاکرات ہوئے، جس میں افغان حکومت کے نمائندے مدعونہیں تھے ۔کانفرنس میں عباس ستانکزئی کی سربراہی میں طالبان قطر سیاسی دفتر کے وفد اور افغان سابق صدر حامد کرزئی کی سر براہی میں افغان رہنماوں نے شرکت کی تھی۔ماسکو کانفرنس میں یہ بات بھی طے پائی گئی کہ اگلی امن کانفرنس قطر میں ہوگی۔واضح رہے امریکہ اور افغان حکومت نے ماسکو کانفرنس پر شدید تحفظات کا اظہار کیا تھا۔خیال رہے اس سے قبل قطر میں امریکہ اور طالبان کے درمیان براہ راست مذاکرات کا ایک طویل دور ہوچکا ہے، جس میں17سال سے جاری افغان جنگ کے خاتمے پر بنیادی معاہدہ طے پایا تھا جبکہ فریقین افغانستان سے غیر ملکی افواج کے پرامن انخلا پر متفق ہوگئے تھے۔دوسری جانب افغانستان کے صدر اشرف غنی نے ان مذاکرات کے حوالے سے موقف اختیار کیا ماسکو میں مذاکرات محض ایک رومانوی کہانی ہے، افغان شہریوں کی آمادگی شامل کیے بغیر ان کے مستقبل کا فیصلہ کوئی نہیں کرسکتا، جو لوگ ماسکو میں جمع ہیں انہیں کس نے ایگزیکٹیو اتھارٹی دی، وہ جو کچھ کہنا چاہتے ہیں کہیں لیکن وہ کس کی نمائندگی کر ر ہے ہیں۔

Leave a Reply