مائیکرو سافٹ کا چین میں لنکڈن بند، ان جابس نامی ویب سائٹ لانچ کرنیکا اعلان
Spread the love

واشنگٹن(جے ٹی این ٹیکنالوجی نیوز) مائیکرو سافٹ کا چین

بین الاقوامی کمپیوٹر ٹیکنالوجی کمپنی مائیکرو سافٹ نے اپنی پروفیشنل مائکرو

بلاگنگ ویب سائٹ لنکڈن کو دنیا کے آبادی اور معشیت میں سب سے بڑے ملک

چین میں بند، اور اس کی جگہ مقامی سوشل مائکرو بلاگنگ ویب سائٹ ان جابس

لانچ کرنے کا اعلان کیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق بین الاقوامی سطح پر امریکی

کمپیوٹر ٹیکنالوجی کی کمپنی نے اپنی بلاگ پوسٹ میں تصدیق کی کہ رواں برس

کے اختتام تک چین میں وہ اپنی سوشل ویب سائٹ لنکڈن کو بند کر کے اس کی

جگہ مقامی مائکرو بلاگنگ ویب سائٹ ان جابس متعارف کرائی جائے گی۔ کمپنی

نے اگرچہ تصدیق کی کہ لنکڈن کو چین میں رواں سال کے اختتام تک بند کردیا

جائے، تاہم مائیکرو سافٹ نے اس کی بندش کی حتمی تاریخ کا اعلان نہیں کیا۔

=–= ٹیکنالوجی اور سوشل میڈیا سے متعلق مزید خبریں ( =–= پڑھیں =–= )

معلوم ہوا ہے کہ مائکرو بلاگنگ ویب سائٹ لنکڈن نے چینی حکومت کی جانب

سے سخت قوانین بنائے جانے اور چینی صارفین کے ڈیٹا کی چوری کے الزامات

کے بعد مذکورہ فیصلہ کیا۔ تاہم مائیکرو سافٹ نے اپنے بلاگ میں واضح طور پر

اس بات کا ذکر نہیں کیا کہ انہوں نے چینی حکومت کی سختیوں کی وجہ سے

مذکورہ فیصلہ کیا یا اس کی وجوہات کچھ اور ہیں۔ لنکڈن کے آفیشل بلاگ میں

بتایا گیا کہ کمپنی نے 2014ء میں ہی چین میں مقامی ورژن کی ویب سائٹ بنانے

کا فیصلہ کیا تھا، جس پر رواں برس کے اختتام پر عمل کیا جائے گا۔

=–= تعلیم سے متعلق مزید ایسی خبریں (=–= پڑھیں =–= )

یہاں یہ بھی بات یاد رہے کہ چین میں عام سوشل اور مائیکرو بلاگنگ ویب

سائٹس جیسا کہ فیس بک، ٹوئٹر، انسٹاگرام، واٹس ایپ اور اسنیپ چیٹ کی جگہ

وہاں کی مقامی ویب سائٹس زیادہ مقبول ہیں اور امریکی کمپنیوں پر وہاں سخت

پابندیاں عائد ہیں۔ لنکڈن دنیا بھر میں پروفیشنل افراد کی سب سے بڑی ویب سائٹ

تسلیم کی جاتی ہے، جسے لوگ اپنا پروفیشنل نیٹ ورک بڑھانے یا اس پر نوکری

کی تلاش کا کام سر انجام دیتے ہیں۔ امریکہ کی کمپیوٹر ٹیکنالوجی کمپنی مائیکرو

سافٹ نے لنکڈن کو جون 2016ء میں 2 ارب ڈالر سے زائد رقم میں خریدا تھا۔

مائیکرو سافٹ کا چین ، مائیکرو سافٹ کا چین ، مائیکرو سافٹ کا چین

=-= قارئین= کاوش پسند آئے تو اپ ڈیٹ رہنے کیلئے فالو کریں

Leave a Reply

%d bloggers like this: