لیسکوملازمین کی تنخواہ

صوبائی دارالحکومت میں بارش سے لیسکو کا ترسیلی نظام متاثر

Spread the love

لیسکو ترسیلی نظام متاثر

لاہور(جے ٹی این آن لائن نیوز) صوبائی دارالحکومت میں بارش کے دوران لیسکوکا ترسیلی نظام

شدیدمتاثر، 90سے زائد فیڈر ٹرپ کر گئے، متاثرہ علاقوں میں 10 سے 12 گھنٹے بجلی کی سپلائی

معطل رہنے پر صارفین بلبلا اٹھے واپڈادفاتر اور افسران کو شکایات کرنے کے باوجود کئی کئی

گھنٹے تک بجلی بحال نہ ہو سکی۔تفصیلات کے مطابق صوبائی دارالحکومت کے مختلف علاقوں میں

وقفے وقفے سے ہونے والی بارش کے دوران لیسکو کا ترسیلی نظام ہمیشہ کی طرح فلاپ ہو گیا اور

90 سے زائد فیڈرز مکمل طور پر جواب دے گئے اس میں کینٹ سرکل اور شالیمار سرکل کے علاقے

سب سے زیادہ متاثر ہوئے جس میں ہربنس پورہ، صدر، غازی آباد، تاجپورہ، عامر ٹاؤن، صحافی

کالونی، سلامت پورہ، سمن آباد، شادباغ، مصطفےٰ آباد، مغل پورہ، مزنگ، شادمان ، گلشن راوی ،

کریم پارک سمیت دیگر علاقوں میں بجلی کی سپلائی 10 سے 12 گھنٹے بند رہی بجلی بند ہونے پر

شدید گرمی اور حبس میں شہریوں کا برا حال، گھریلو نظام سمیت کاروباری سرگرمیاں شدید متاثر

ہوکر رہ گئیں صارفین کا کہنا تھا کہ واپڈا دفاتر میں شکایات درج کروانے کے باوجود کئی کئی گھنٹوں

تک بجلی کی سپلائی بحال نہیں کی جاتی جبکہ متعلقہ افسران کو کالز کریں تو وہ کال سننا گوارا نہیں

کرتے. اس حوالے ترجمان لیسکوکا کہنا ہے صوبائی دارالحکومت سمیت لیسکو ریجن کے مختلف

علاقوں میں بارش کے باعث بیشتر علاقوں کو بجلی کی سپلائی متاثر ہوئی ہے چیف ایگزیکٹو لیسکو

کی ہدایت کے مطابق فیلڈ سٹاف ہائی الرٹ ہے اور بارش کا سلسلہ ختم ہوتے ہی بجلی کی بحالی کا

عمل مکمل کر لیا جاتا ہے۔ ترجمان کا مزید کہنا ہے کہ موسم کی خرابی کے پیش نظر لیسکو انتظامیہ

کی معزز صارفین سے تعاون کی اپیل ہے۔صارفین بارش کے دوران بجلی کی تنصیبات سے دور

رہیں۔بجلی معطل ہونے کی صورت میں لیسکو کو مطلع کرکے عملے کے آنے کا انتظار کریں۔ لیسکو

ترجمان کامزید کہنا ہے کہ بارشوں کے دوران لائن پر کام کرنے والے فیلڈ ملازمین سیفٹی سے متعلق

تمام ایس او پیز پر سختی سے عمل کریں اور لائن اسٹاف حفاظتی آلات کے بغیر ہرگز کام نہ کریں۔

لیسکو ترسیلی نظام متاثر

ستاروں کا مکمل احوال جاننے کیلئے وزٹ کریں ….. ( جتن آن لائن کُنڈلی )
قارئین : ہماری کاوش پسند آئے تو شیئر ، اپڈیٹ رہنے کیلئے فالو کریں

Leave a Reply