Amanat Ali Khan

نامور کلاسیکل و غزل گائیک اور لیجنڈ استاد امانت علی خان کو بچھڑے 46 برس بیت گئے

Spread peace & love
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

لاہور(جے ٹی این آن لائن شوبز نیوز) لیجنڈ امانت علی خان

نامور کلاسیکل و غزل گائیک اور پٹیالہ گھرانے کے لیجنڈ استاد امانت علی خان

کی 46 برسی آج بروز جمعہ منائی جا رہی ہے۔ اس مناسبت سے مرحوم کے

اہل خانہ، دوست احباب اور شوبز انڈسٹری کی جانب سے لیجنڈ استاد امانت علی

خان کی خدمات پر انہیں خراج تحسین پیش کرنے اور ان کی روح کے ایصال

ثواب کیلئے خصوصی دعائیہ تقریبات کا انعقاد کیا جا رہا ہے-

یہ بھی پڑھیں: نامور کامیڈین لیجنڈ اداکار لہری دلوں میں آج بھی زندہ
———————————————————————–

شام چوراسی ہوشیار پور پنجاب کے پٹیالہ گھرانہ سے تعلق رکھنے والے لیجنڈ

استاد امانت علی نے 1922ء میں بھارت کے صوبہ پنجاب کے علاقہ شام

چوراسی ہوشیار پور میں اختر حسین خان کے ہاں جنم لیا۔ استاد امانت علی خان

تقسیم برصغیر کے بعد پاکستان آئے اور لاہور میں ریڈیو پاکستان سے اپنے فنی

سفر کا آغاز کیا۔

ملی نغموں، غزلوں، کلاسیکل گیتوں میں شہرت و مقبولیت کی اعلیٰ منزلوں کو چھوا

اپنی شاندار خدمات پر پرائیڈ آف پرفارمنس کا اعزاز کرنے والے استاد امانت علی خان نے گائیکی کی تربیت اپنے والد سے حاصل کر کے ملی نغموں، غزلوں اور کلاسیکل گیتوں میں شہرت کی انتہائی بلندیوں اور مقبولیت کی اعلیٰ منزلوں کو چھوا۔

اے وطن پیارے وطن، انشا جی اٹھو جیسے ملی نغمے غزلیں آج بھی زبان زد عام

انہوں نے سیکڑوں کی تعداد میں انتہائی خوبصورت، دلفریب اور روح کو لبھانے والے نغمات و غزلیں گائیں، جن میں اے وطن پیارے وطن، انشا جی اٹھو اب کوچ کرو، اے میرے پیار کی خوشبو، یہ آرزو تھی، موسم بدلا، یہ نہ تھی ہماری قسمت، کب آﺅ گے، ہونٹوں پہ کبھی ان کے میرا نام ہی آئے وغیرہ اب بھی زبان زد عام ہیں۔

قارئین : ہماری کاوش پسند آئے تو شیئر ، اپڈیٹ رہنے کیلئے فالو کریں
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply