halat e hazra jtnonline 122

لو جی لگ گیا ریورس گیئر—– مگر چوکنا رہنا ہوگا

Spread the love

(جتن آن لائن تجزیاتی رپورٹ) لگ گیا ریورس گیئر

کل تک بی جے پی بھارتیہ جنتا پارٹی کے جولوگ “کانگریس مکت بھارت” کا نعرہ چیخ چیخ کر لگارہے تھے اب خاموش ہیں- شاید اسلئے کہ اب بی جے پی کا ہی دائرہ سمٹنے لگا ہے- این ڈی اے بکھررہا ہے، مودی کے مصنوعی طلسم کی قلعی بھی کھلتی جارہی ہے، اور ایک ایک کرکے ریاستیں اسکی حکمرانی کی قید سے آزاد ہوتی جارہی ہیں۔ مزید پڑھیں

بی جے پی کی حکومت کا دائرہ سمٹنا شروع

تازہ ترین صورتحال یہ ہے کہ ملک کی 29 ریاستوں میں سے دس میں ہی بی جے پی کو مکمل اکثریت حاصل ہے، جبکہ دیگرچھ ریاستوں میں اس نے اپنے اتحادیوں کیساتھ یا پھر کچھ دوسری پارٹیوں سے ساز باز کرکے سرکاربنا رکھی ہے- یہ ریاستیں بہار، میگھالیہ، ناگالینڈ، تمل ناڈ، گوا، سکم اور میزورم ہیں- بہارمیں وہ جنتا دل یوکی اتحادی بنی ہوئی ہے، جبکہ وہ تمل ناڈو میں سرکارمیں شامل ضرورہے مگر قانون سازاسمبلی میں اس کا ایک بھی ممبرنہیں ہے۔ اپنی حکمرانی کا دائرہ بڑھانے کے جنون میں بی جے پی نے یہ بھی کیا کہ جن ریاستوں میں اسے اکثریت حاصل نہیں تھی وہاں بھی اس نے مرکزمیں اقتدارکا فائدہ اٹھا کر سرکاربنالی مثال کے طورپر گوا ہے- جہاں اسے محض پندرہ سیٹوں پر ہی کامیابی ملی تھی جبکہ کانگریس سترہ سیٹیں جیت کر سب سے بڑی پارٹی بن کر ابھری تھی مگر بی جے پی نے سب اصول اور قوانین کو بالائے طاق رکھ کر سرکاربنالی- لگ گیا ریورس گیئر

29 سے کم ہو کر 10 ریاستوں تک محدود

میزورم میگھالیہ اور ناگالینڈ تو اس کی بدترین مثالیں ہیں- میگھالیہ میں ساٹھ اسمبلی حلقوں میں اسے محض دوسیٹوں پر کامیابی ملی تھی مگر اس نے نیشنل پیوپلز پارٹی، یونائیٹیڈ ڈیموکریٹک پارٹی، پیوپیلز ڈیموکریٹک فرنٹ اور ہل اسٹیٹ اور پیوپیلز ڈیموکریٹک پارٹی کیساتھ مل کر سرکاربنالی- میزورم میں چالیس سیٹوں میں بی جے پی کو محض ایک سیٹ ہاتھ لگی تھی مگر یہاں بھی اس نے میزونیشنل فرنٹ کے ساتھ مل کر سرکاربنائی، جس نے ستائیس سیٹوں پر کامیابی حاصل کی تھی- ناگالینڈ میں ساٹھ اسمبلی حلقے ہیں جن میں سے بارہ حلقوں میں بی جے پی کامیاب ہوئی تھی مگریہاں بھی اس نے نیشنل ڈیموکریٹک پروگریسیوپارٹی کے ساتھ سازباز کرکے سرکاربنالی- سکم میں بتیس میں سے بارہ سیٹوں پر بی جے پی کامیاب ہوئی مگر یہاں بھی اس نے سکم کرانت کاری مورچہ کے انیس ممبروں کو ملا کر سرکاربنانے میں جلد بازی کا مظاہرہ کیا- لگ گیا ریورس گیئر

کانگریس مکت بھارت کا چیخ چیخ کر نعرہ لگانے والے اب خاموش

ریاست وار اگر تجزیہ کیا جائے تو جو نتائج سامنے آتے ہیں وہ اس دعویٰ کی قلعی کھول دیتے ہیں جو بی جے پی کے لیڈر اب تک کرتے آئے ہیں۔ سائوتھ ایشین وائر کے مطابق پورے ملک میں مجموعی طورپر 4120 اسمبلی حلقے ہیں جن میں 1322 اسمبلی حلقوں میں ہی بی جے پی کو کامیابی حاصل ہوئی ہے جبکہ این ڈی اے میں شامل دوسری پارٹیوں کے پاس 409 ممبران اسمبلی ہیں- کانگریس مکت بھارت کا خواب دیکھنے والی بی جے پی کی اصل حالت تو یہ ہے کہ آندھرا میں 175 ممبران اسمبلی میں محض 2 ممبربی جے پی کے ہیں- کیرالہ کی 140 سیٹوں میں محض ایک سیٹ بی جے پی کے پاس ہے- پنجاب میں کل 177 ممبران اسمبلی میں صرف 3 ممبربی جے پی کے ہیں- تلگانہ کی 119 اسمبلی سیٹوں میں صرف ایک سیٹ بی جے پی کے حصہ میں ہے- مغربی بنگال جہاں 244 سیٹیں ہیں تمام تر شرانگزیوں کے باوجود بی جے پی کے حصہ میں 14 سیٹیں ہی ہیں- دہلی کی 70 سیٹوں میں صرف تین سیٹیں اس کے پاس ہیں- پانڈیچری کے 30 اسمبلی حلقوں میں کسی پر بھی بی جے پی کو کامیابی نہیں حاصل ہوئی ہے۔ لگ گیا ریورس گیئر

مودی کے مصنوعی طلسم کی قلعی کھل چکی

این ڈی اے یعنی قومی جمہوری محاذ کی تشکیل 1998 میں ہوئی تھی جس کے چیئرمین اٹل بہاری باجپئی تھے تب اس میں 13 پارٹیاں شامل تھیں- 1998 سے 2004 تک مرکز میں این ڈی اے کی سرکار رہی بعد میں کانگریس کی قیادت میں یو پی اے نے پورے دس برس حکومت کی- 2014 میں این ڈی اے دوبارہ اقتدارمیں آیا اور نریندرمودی وزیراعظم بنے، اس وقت تک کچھ اور پارٹیاں بھی اس میں شامل ہوچکی تھیں اور ان کی تعداد 13 سے بڑھ کر 19 ہو گئی تھی- مگر جوں جوں وقت گزرا اس اتحاد میں انتشار پھیلنے لگا اور ایک ایک کرکے کئی پارٹیاں بی جے پی کا ساتھ چھوڑگئیں- مارچ 2018 میں تیلگودیشم این ڈی اے سے الگ ہوئی- دسمبر 2018 راشٹریہ لوک سمتا پارٹی نے بہارمیں این ڈی اے کا ساتھ چھوڑدیا- دسمبر 2018 میں بی جے پی کو تب زبردست سیاسی جھٹکا لگا جب مدھیہ پردیش، راجستھان اور چھتیس گڑھ میں کانگریس کے ہاتھوں اسے ہارکا سامنا کرنا پڑا- تلنگانہ میں بھی اسے کوئی کامیابی نہیں ملی- پھر اکتوبر2019 میں ہریانہ اور مہارشٹرمیں الیکشن ہوئے، ہریانہ میں بی جے پی اپنے طورپر اقتدارمیں تھی جبکہ مہاراشٹرمیں شیوسینا اس کے ساتھ تھی- ہریانہ میں وہ اکثریت سے دور رہی ، مگر مرکزمیں اقتدارکا فائدہ اٹھا کر اس نے کچھ دوسرے لوگوں سے سازبازکرکے اپنی عزت بچالی، لیکن مہاراشٹر میں اس بارشیوسینا کی سیاسی حکمت عملی بھاری پڑی جس کی وجہ سے وہ سرکارنہیں بناپائی-

ریاستیں ایک ایک کرکے اسکی حکمرانی کی قید سے آزاد ہوتی جارہی ہیں، رپورٹ

ایک بڑا سیاسی جھٹکا تواسے اس وقت لگا جب تمام تر نظریاتی اختلاف کے باوجود کانگریس اور این سی پی نے بی جے پی کو اقتدارسے دوررکھنے کے لئے شیوسینا کو اپنی حمایت دیدی۔ کانگریس اور این سی پی نے اصولی طورپر شیوسینا کو حمایت دینے کا فیصلہ کرلیا تھا مگر اس سے پہلے کے بات آگے بڑھتی، وہاں صدرراج نافذ کردیا گیا جبکہ ریاستی گورنرکو حکومت سازی کیلئے شیوسینا کو وقت دینا چاہئے تھا مگر تھوڑے عرصہ کے بعد اچانک وہاں صدر راج ہٹانے کا اعلان ہوگیا اور آئین وقانون کی دھجیاں اڑاتے ہوئے فڑنویس کو وزیراعلی کاعہدہ دلوادیاگیا- این سی پی لیڈراجیت پوارکو نائب وزیراعلی بنا دیا گیا اوردعویٰ کیا گیا کہ این سی پی نے بی جے پی کی حمایت کردی ہے یہ سارا کام دن نکلنے سے پہلے ہی ہوگیا، کابینہ نے صدر راج ہٹانے کی سفارش کی صدرجمہوریہ نے صبح چاربجے اٹھ کراس پردستخط بھی کردیئے اور فڑنویس نے گورنرہاؤس جا کر حلف بھی لے لیا مگر سپریم کورٹ کی ہدایت پر اپنی اکثریت ثابت کرنے کے قبل ہی انہوں نے استعفی بھی دیدیا- لگ گیا ریورس گیئر

کانگریس شیوسینا اور این سی پی میں پھوٹ کا گمان غلط ثابت ہو چکا

بی جے پی شاید اس گمان میں تھی کے فڑنویس کو حلف دلاتے ہی کانگریس شیوسینا اور این سی پی میں پھوٹ پڑجائے گی، اور اقتدارکے لالچ میں بہت سے ممبران اسمبلی ان پارٹیوں سے ٹوٹ کر بی جے پی سے آملیں گے، مگر ایسا نہیں ہوا، بی جے پی کی ہرچال ناکام رہی اور وہاں جو کچھ ہوا اس نے بی جے پی اور اس کی سیاست دونوں کو بری طرح آشکار کردیا۔ لگ گیا ریورس گیئر

این ڈی اے میں شامل کچھ دوسری پارٹیاں سمجھ چکیں بی جے پی نے انہیں بندھوا مزدور بنا رکھا ہے

بی جے پی 2014 سے اقتدارمیں ہے جس کا اس نے ریاستوں میں بھی ہر ممکن طریقہ سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کی ہے- گوا اور شمال مشرقی ریاستوں میں صورتحال سے یہ اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ ان ریاستوں میں کیسی چالاکی سے بی جے پی نے اکثریت میں نہ ہونے کے باوجود اقتدار ہتھیا لیا، دراصل اس کے پیچھے مقصدیہ تھا کہ زیادہ سے زیادہ ریاستوں میں سرکاربنا کر یا سرکارمیں شامل ہو کر بی جے پی کے حق میں ایک طرح کی ہوا بنائی جائے اور عوام کو اس کے ذریعہ گمراہ کیا جائے- لیکن پہلے پنجاب اس کے بعد مدھیہ پردیش، راجستھان اور چھتیس گڑھ میں ہارکے بعد یہ سلسلہ کسی حد تک رک گیا، مگر اب مہاراشٹرمیں جو کچھ ہوا اس کے بعد این ڈی اے میں شامل کچھ دوسری پارٹیوں کو بھی لگنے لگا ہے کہ بی جے پی نے انہیں بندھوا مزدور بنا کررکھا ہوا ہے- سچائی یہ ہے کہ اپنی حکمرانی کے دائرہ کو بڑھانے کے جنون میں بی جے پی نے سی بی آئی اور ای ڈی کا خوب استعمال کیا۔ لگ گیا ریورس گیئر

این سی پی کے شردپوار کا بیان بھارتیہ جنتا پارٹی کے طلسم کی قلعی کھول چکا

کچھ لوگ تو ان دونوں سے ڈر کر ہی بی جے پی کا ہمنوا بننے پر مجبورہوگئے اور جن لوگوں کو ان سے ڈرایا نہیں جا سکا انہیں لالچ دی گئی، حال ہی میں این سی پی کے شردپوار کا ایک بیان اخباروں میں آچکا ہے جس میں انہوں نے یہ انکشاف کیا کہ وزیراعظم مودی نے انہیں اقتدار کا لالچ دیا تھا، اہم بات یہ ہے کہ وہ اس دام میں گرفتارنہیں ہوئے اور وزیراعظم مودی اور ان کے دست راس امت شا کو مہاراشٹرمیں زبردست ہزیمت اٹھانی پڑی- اہم بات یہ ہے کہ قوم پرستی کا کارڈ بھی مہارشٹر و ہریانہ میں ناکام رہا اور رام مندرکے حق میں آئے فیصلہ کا بھی بظاہر کوئی اثرنظرنہیں آیا، چنانچہ اب این آرسی اور شہریت ترمیمی بل کا شوشہ چھوڑ دیا گیا، جن کے ذریعہ اکثریت کو یہ باورکرانے کی دانستہ کوشش ہورہی ہے کہ ان کا اصل نشانہ مسلمان ہیں، بی جے پی ابتدا ہی سے اکثریت کی بالادستی کی سیاست کرتی آئی ہے، اس کا اسے خوب سیاسی فائدہ بھی ہوا اور اب وہ ان دونوں ایشوزکے ذریعہ اکثریت کو اپنے حق میں متحد کرکے پورے ملک میں ایک بار پھر فرقہ وارانہ صف بندی قائم کرنے کی دانستہ کوشش کررہی ہے، لیکن بی جے پی کے لوگ قدرت کے اس اصول کو بھول چکے ہیں، کہ اگر عروج کو سلیقہ سے سنبھال کر نہ رکھا جائے تو زوال طے ہے- بی جے پی کو عروج توملا مگر وہ اسے سنبھال نہیں سکی شاید یہی وجہ ہے کہ اب دھیرے دھیرے اس کا دائرہ سمٹتا جا رہا ہے۔ لگ گیا ریورس گیئر

متنازعہ شہریت بل نے رہی سہی کثر پوری کردی …. مگر پاکستان کو چوکنا رہنا ہوگا

متنازعہ شہریت بل پاس کرکے تو گویا اس نے اپنے پاؤں پر کلہاڑی مار ہی دی ہے جس کی وجہ سے کئی ایسی ریاستیں بھی اس کی مخالف ہو گئی ہیں جو اس کی حلیف تھیں- عالمی برادری بھی متنازعہ شہریت بل کی وجہ سے مودی سرکار سے نالاں نظر آتی ہے- لیکن پاکستان کیلئے جو زیادہ اہم اور سمجھنے سمیت اس کا پیشگی حل ڈھونڈنے والی بات ہے وہ یہ ہے کہ آئندہ انتخابات میں کانگریس کے بڑی اکثریت کیساتھ اقتدار میں آنے سے خطے اور اس کی سیاست و استحکام پر کیا اثرات مرتب ہونگے؟-

لگ گیا ریورس گیئر

Leave a Reply