لورالائی،دہشتگرد حملہ 10شہید،21زخمی

Spread the love

بلوچستان کے ضلع لورالائی میں دہشتگردوںکے ڈی آئی جی پولیس لورا لا ئی کے دفتر پر حملے کے نتیجے میں9پولیس اہلکاروں سمیت10افراد جاںبحق جبکہ 21افراد زخمی ہوگئے ہیں ،سکیورٹی فورسز کے جوابی حملے میں ایک حملہ آور ہلاک جبکہ تین حملہ آوروں نے خود کو اڑا لیا ، حملے کی ذمہ داری کالعدم تحریک طالبان پاکستان نے قبول کر لی ۔تفصیلات کے مطابق گزشتہ روز ضلع لورالائی میں ڈی آئی جی آفس پر 4دہشت گردوں نے اس وقت حملہ کیا جب دفتر میں پولیس آسامیوں کےلئے ٹیسٹ و انٹرویو ہورہے تھے ،عینی شاہدین کے مطابق پولیس کی وردی پہنے 2دہشتگردوں نے منگل کو دوپہر 12.40منٹ پر دفتر میں داخل ہونے کی کوشش کی گیٹ پر موجود اہلکاروں نے بہادری ودلیری کا مظاہرہ کرتے ہوئے حملہ آوروں پر فائرنگ شروع کی جبکہ دو حملہ آور دفتر کی عقبی دیو ا ر پھلانگ کر داخل ہوگئے ،چاروں حملہ آوروں نے سب سے پہلے ہینڈ گرینڈ آفس میں پھینکے جسکے بعد فائرنگ شروع کرکے ڈی آئی جی آ فس میں داخل ہوگئے ،پولیس کی فائرنگ سے ایک حملہ آور جواے ڈی آئی جی کے دفتر کے کھڑکی تک پہنچ گیا تھا زخمی ہو گیا اور اس نے اسی حا لت میں ایڈیشنل آئی جی کے دفتر کےساتھ ہی خود کو اڑا لیا جبکہ دیگر تین دفتر کے اندر داخل ہونے میں کامیاب ہوگئے ،حملے کے وقت دفتر میں ڈی آئی جی پولیس نثار احمد خان ،ایس پی لورالائی برکت حسین کھوسہ اور پولیس کے دیگر پندرہ آفسران بھی آفس میں موجود تھے ،حملے کے وقت ٹیسٹ اور انٹرویو دینے والے 700سے زائد امیدوار بھی موجود تھے، حملہ ہوتے ہی بھگدڑ مچ گئی اکثر امیدواروں نے دیوار پھلا نگ کر اپنے آپکو بچایاجبکہ کئی امیدوار دیوار پھلانگتے ہو ئے زخمی بھی ہوگئے، حملے کے بعد حملہ آوروں اور پولیس کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ شروع ہوگیا حملے کی اطلاع ملتے ہی پولیس ،اے ٹی ایف اور فرنٹیئرکور بلوچستان کے اہلکار جائے وقوعہ پر پہنچ گئے اورعلاقے کو گھیر ے میں لیکر آپریشن شروع کردیاجبکہ بعد ازاں ایس ایس جی کے دستے اور پاک فوج کے ہیلی کاپٹر بھی کوئٹہ سے آپریشن میں حصہ لینے کےلئے پہنچ گئے پولیس اور ایف سی اہلکارڈی آئی جی پولیس نثار احمد خان اور دیگر 15پولیس افسران کو بحفاظت دفتر سے نکالنے میں کامیاب ہو گئے
دہشتگردوں نے ڈی آئی جی آفس میں داخل ہونے کے بعد ہینڈ گرینڈ پھینکے اور فائرنگ کا سلسلہ شروع کرکے بعد ازاں ڈی آئی جی کے رہائشی بنگلے میں داخل ہوگئے ،آپریشن اور فائرنگ کا تبادلہ 5گھنٹے تک جاری رہی شام پانچ بجکر تیس منٹ پر دیگر 3دہشتگردوں نے اپنے آپ کو دھماکے سے اڑا لیا،شہید اہلکاروں میں جاوید اقبال ،نعمت اللہ ،غلام محمد ناصر ،اے ٹی ایف حوالدار صادق علی ،امیر زمان آفریدی ،صلاح الدین ساکن میختر ،محمد نواز ،خالقداد کدیزءاور سلطان مسیح جبکہ زخمیوں میں محمد نواز ،شاہد خان ،محمد علیم ،امیر خان ،محیب خان ،نجیب اللہ ،دنیا خان ،محمود شاہ ،انور جان ،عبداللہ ،محمد علی ،اختر محمد ،محمد سالک ،عبدالرزاق ،ذیشان ،محمد اخلاص ،تیمر خان ،قادر خان عبدلدیان ،مطیع اللہ اور احسان اللہ شامل ہیں،دو زخمیوں کو تشویشناک حالت میں ملتان منتقل کردیئے گئے ہیںتمام شہدا کے جسد خاکی سول ہسپتال لورالائی اور سی ایم ایچ لورالائی منتقل کردیئے گئے۔ آئی ایس پی آر کے مطابق فوجی جوانوں نے 800امیدواروں کو بحفاظت عمارت سے نکالا، 5گھنٹے کے کلیئرنس آپریشن کے بعد عمارت کو مکمل طور پر کلیئر کر د یا گیا۔

Leave a Reply