دنیا کے آلودہ ترین شہروں میں لاہور اول، کراچی کا تیسرا نمبر

دنیا کے آلودہ ترین شہروں میں لاہور اول، کراچی کا تیسرا نمبر

Spread the love

لاہور، کراچی (جے ٹی این آن لائن نیوز) لاہور اول کراچی تیسرا

صوبہ پنجاب کا دارالحکومت لاہور دنیا کے آلودہ ترین شہروں کی فہرست میں

پہلے اور صوبہ سندھ کا دارالحکومت کراچی تیسرے نمبر پر آ گئے، دونوں

شہروں کی فضاء مضر صحت قرار دیدی گئی، دنیا کے آلودہ شہروں میں بھارتی

دارالحکومت نئی دہلی دوسرے نمبر ہے۔ تفصیلات کے مطابق ایئر کوالٹی انڈیکس

سے معلوم ہوا ہے کہ کراچی اور لاہور کی فضا مضرصحت ہے، لاہور میں آلودہ

ذرات کی مقدار 163 اور کراچی میں 154 پرٹیکیولیٹ میٹرز ریکارڈ کی گئی،

جس کے وجہ سے گزشتہ صبح 10 بجے کی فہرست میں لاہور دنیا کے آلودہ

ترین شہروں کی فہرست میں پہلے اور کراچی تیسرے نمبر پر تھا، جبکہ دنیا کے

آلودہ شہروں میں بھارت کا شہر دہلی دوسرے نمبر پر موجود ہے۔

=-= پاکستان سے متعلق مزید تازہ ترین خبریں ( =–= پڑھیں =–= )

تفصیلات کے مطابق درجہ بندی کے تحت 151 سے 200 درجے تک آلودگی

مضر صحت ہے، 201 سے 300 درجے تک آلودگی انتہائی مضر صحت ہے

جبکہ 301 سے زائد درجہ خطرناک آلودگی کو ظاہر کرتا ہے۔ دوسری طرف

صوبہ پنجاب میں سموگ پر قابو پانے کے لیے دفعہ 144 نافذ کر دی گئی،

صوبے بھر میں دفعہ 144 کا نفاذ ایک ماہ کیلئے کیا گیا ہے، جس کے تحت

فصلوں کی باقیات، ٹائر اور ربڑ کی مصنوعات جلانے پر پابندی ہوگی، اس

حوالے سے محکمہ داخلہ پنجاب نے نوٹی فکیشن بھی جاری کر دیا ہے-

=-،-= صوبہ پنجاب سے متعلق مزید خبریں ( =،= پڑھیں =،=)

نوٹیفکیشن میں حکام کی جانب سے کہا گیا ہے کہ سموگ کے خطرے سے نمٹنے

کے لیے فوری اقدامات کیے جا رہے ہیں جن کے تحت فضاء کو سموگ سے

بچانے کیلئے پرانے ڈیزائن کے بھٹوں کو بھی بند رکھا جائے گا۔ صوبے میں

دفعہ 144 کا نفاذ اس لیے کیا گیا کیونکہ رواں برس بھی لاہور سمیت صوبہ

پنجاب میں میں سموگ پھیلنے کا خدشہ ہے، جس کے پیش نظر جوڈیشل واٹر اینڈ

انوائرنمنٹل کمیشن متحرک ہو گیا ہے، اس حوالے سے منعقدہ اجلاس میں اہم

فیصلے کیے گئے، چئیرمین کمیشن علی اکبر نے سموگ کی روک تھام کے لیے

ہنگامی اقدامات کا حکم جاری کیا، فصلوں کی باقیات کو جلانے پر پابندی عائد کر

دی گئی ہے اور خلاف ورزی پر سخت کارروائی کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے، جبکہ

فضائی آلودگی کا سبب بننے والے صنعتی یونٹس کے خلاف بھی کارروائی کی

جائے گی۔

=-.-= صوبہ سندھ کی مزید خبریں ( == پڑھیں == )

اس حوالے سے جوڈیشل واٹر اینڈ انوائرمینٹل کمیشن کے چئیرمین جسٹس (ر)

علی اکبر قریشی نے کہا کہ نومبر میں سموگ کا خدشہ موجود ہے جو کرونا کے

پھیلاؤ کا سبب بھی بن سکتا ہے، اسی لیے محکمہ ماحولیات سموگ پر قابو پانے

کے لیے متحرک رہے، 15 اکتوبر سے واسا کی تمام ہیوی مشینری کا استعمال

محدود کرنے سمیت، 31 اکتوبر سے ہفتے میں ایک دن واسا افسران، اور عملے

کا سائیکل پر دفتر آنے کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے، سموگ کی بڑی وجہ ٹریفک

ہے، متعلقہ محکمہ دھواں چھوڑنے والی ٹرانسپورٹ کے خلاف کارروائی نہیں

کررہا، دھواں چھوڑنے والی گاڑیوں کے خلاف اب سخت کارروائی کی جائے

گی۔

لاہور اول کراچی تیسرا ، لاہور اول کراچی تیسرا ، لاہور اول کراچی تیسرا

لاہور اول کراچی تیسرا ، لاہور اول کراچی تیسرا ، لاہور اول کراچی تیسرا

=-= قارئین= کاوش پسند آئے تو اپ ڈیٹ رہنے کیلئے فالو کریں

Leave a Reply