لاہوریوں نے لاک ڈاون کا مذاق بنا دیا

Spread peace & love
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

لاہور(جنرل رپورٹر)شہریوں کی غیرسنجیدگی کی انتہا، شہر لاہور میں لاک ڈاؤن کی کھلم کھلا خلاف ورزی دیکھنے میں آرہی ہیں ،شہر میں کرونا وائرس کی موجودگی اورلاک ڈائون کو شہریوں نے مذاق بنا لیا ہے، سڑکوں پر پولیس برائے نام ناکے لگا کر بھی یہ تاثر دے میں محو ہے کہ لاک ڈاؤن ایک تماشا ہے۔

گزشتہ روز دن بھر سڑکوں پرمٹر گشت ،کینال روڈ پر موٹر سائیکلوں، گاڑیوں اور رکشوں کی بھرمار دکھائی دی۔ سڑکوں کے علاوہ گلی محلوں میں منچلے نوجوان دفعہ 144کی دھجیاں اڑا رہے ہیں، گلیاں اور بازار عوام کی جگہ جگہ ٹولیوں سے بھر ے پڑے ہیں،

پسماندہ اور درمیانے درجے کی آبادیوں میں دکانیں کھل چکی ہیں، ایسے لگ رہا ہے جیسے شہر میں قانون نام کی کوئی چیز نہیں، یہی صورتحال رہی تو کرونا وائرس کے پھیلاؤ میں اضافہ ہوگا ،دوسری جانب مال روڈ اورملحقہ سڑکوں پر بھی ٹریفک رواں دواں نظر آئی جبکہ ڈبل سواری پرپابندی بھی لو گو ں کوگھروں میں بیٹھنے پرمجبور نہ کرسکی۔

پولیس پکڑ دھکڑ اورانتظامیہ دفعہ 144 کی پابندی پر عملدرآمدکرانے میں ناکام ثابت ہوئی ۔واضح رہے جہاںصوبہ بھر میںکرونا وائرس کے مزید 49 کیس سامنے آنے سے تعداد 2336 ہو گئی، لاہور میں کرونا وائرس کے 373 کنفرم مریض ہیں، صوبائی دارالحکومت کے 18علاقوں کو ریڈزون اور 14کو کرونا وباء کی وجہ سے سیل کیا جا چکا ہے ۔

مگر لاہور کی انتظامیہ خواب خرگوش کے مزے لے رہی ہے اورلگتا ہے پورے شہر کو عوام کے اس غیر سنجیدہ رویے کو بڑھاوا دے کر کرونا کا شکار کرنا ہے ۔یہ بھی واضح ہے لاہور ملک کا وہ شہر ہے جہاں کرونا وائرس کے سب سے زیادہ مریض روز سامنے آرہے ہیں اور ان میں مسلسل اضافہ ہوتا جا رہا ہے،

اس حوالے سے سیانے شہریوں کا کہنا ہے شہر میں لاک ڈائون کی کھلی خلاف ورزی کی بڑی وجہ یہ ہے کہ وزیراعظم لاک ڈاؤن کیخلاف تھے ان کی منشا کے بر عکس لاک ڈاؤن کرایا گیا ،یہی وجہ ہے کہ کوئی پوچھنے والا نہیں اور ایسے لگ رہا ہے جیسے سول اداروں کو اس پر عملدرآمد سے منع کردیا گیا ہے۔

پیشنٹ پروٹیکشن کونسل آف پاکستان کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ ایسے لگ رہا ہے جیسے شہر میں حکومت نام کی کوئی چیز اور نہ ہی کوئی قانون پر عملدرآمد کرنیوالا موجود رہ گیا ہے۔ حکومت حالات کی سنگینی کو سمجھے اور لاک ڈائون پر مکمل عملدرآمد کروائے تاکہ کرونا وائرس کا پھیلائو رک سکے۔

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply