Punjab Lock Down

لاک ڈائون میں 30اپریل تک توسیع ،پنجاب حکومت کا بھی سرکاری دفاتر کھولنے کا اعلان

Spread peace & love
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اسلام آباد (سٹاف رپورٹر)وزیراعظم عمران خان نے کورونا وائرس کے باعث ملک بھر میں نافذ جزوی لاک ڈاؤن میں مزید 2 ہفتے کی توسیع کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ دوسرے ممالک کی مناسبت سے ہمارے ہاں کرونا سے کم افراد متاثر ہوئے ،ہمیں اللہ کا شکر ادا کر نا چاہیے تاہم کرونا کسی وقت بھی پھیل سکتا ہے، احتیاط کرنا نہیں چھوڑنا چاہیے، کرونا کا پھیلاؤ روکنے کے اقدامات کررہے ہیں ،

ابتک ہم ٹھیک چل رہے ہیں،خدانخواستہ بے قاعدگی ہوئی تو ہم اس کا مقابلہ نہیں کرسکیں گے ، سکول کالجز ، عوامی مقامات پر اگلے دو ہفتے لاک ڈاؤن برقرار رہے گا،تعمیراتی انڈسٹری کیلئے آج بدھ کو ایک آرڈیننس لارہے ہیں، تعمیراتی صنعت کو بہت بڑا ریلیف پیکیج دیں گے ،

رمضان المبارک میں اجتماعی عبادات کے حوالے سے کوئی بھی فیصلہ جید علما سے ملاقات کے بعد کیا جائے گا،ملک سے گندم کی سمگلنگ کا خطرہ ہے، اسمگلنگ کرنے والے منیجرکو نہیں مالک کوپکڑیں گے،رمضان کے مقدس ماہ میںسمگلنگ اور ذخیرہ کرنے والوں کیخلاف سخت آرڈیننس لا رہے ہیں جس کے بعد ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ منگل کو وزیراعظم عمران خان کی سربراہی میں نیشنل کوآرڈینیشن کمیٹی کا اجلاس ہوا جس میں فیصلہ کیا گیا کہ اگلے دو ہفتے بھی لاک ڈاؤن برقرار رہے گا۔قبل ازیں وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کے اجلاس میں ملکی معاشی صورتحال پر غور کیا گیا اور کئی اہم فیصلے کیے گئے۔

اجلاس میں کورونا وائرس کے باعث ملکی صورتحال پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا اور کابینہ نے لاک ڈاؤن میں 30 اپریل تک توسیع کی منظوری دی۔ ۔قومی رابطہ کمیٹی کے اجلاس کے بعد میڈیا بریفنگ میں وزیراعظم نے کہا کہ حکومت کو لاک ڈائون کی وجہ سے ہونے والی مشکلات کا احساس ہے۔وزیراعظم نے کہاکہ ساری دنیا میں لاک ڈائون ہوچکے ہیں،

ہم نے بھی لوگوں کو محفوظ رکھنے کے لیے لاک ڈائون کیا۔عمران خان نے کہا کہ مجھے سب سے زیادہ فکر دیہاڑی دارطبقے کی تھی۔انہوں نے کہا کہ کرونا اسی رفتار سے بڑھا تو صورتحال قابو میں رہے گی، اگر زیادہ تیزی سے بڑھا تو ہمارا موجود نظامِ صحت مقابلہ نہیں کرسکے گا۔ انہوںنے کہاکہ جس لحاظ سے یہ وائرس پھیل رہا ہے،

اگر اسی طرح پھیلا تو ہمارا صحت کا نظام اس کا بوجھ برداشت کر لے گا جہاں ہم نے اس کی مدد کیلئے وینٹی لیٹرز، ادویہ، حفاظتی کٹس وغیرہ منگوائی ہیں تاہم اگر ہم سے بداحتیاطی ہوئی اور یہ وائرس پھیلا تو پھر ہمارا نظام صحت اس بوجھ کو برداشت نہیں کر سکے گا۔ اس لیے ہم لاک ڈاؤن کو آگے لے کر جارہے ہیں

۔وزیراعظم نے کہاکہ کورونا وائرس کا پھیلاؤ روکنے کیلئے ہم نے کرکٹ میچ، گراؤنڈ، دکانیں، شاپنگ مال، شادی ہال سمیت جہاں بھی لوگ جمع ہوسکتے تھے ان سب کو بند کردیا کیونکہ اگر ایسا نہ کرتے تو وائرس تیزی سے پھیل سکتا تھا۔۔وزیر اعظم نے کہاکہ تعمیراتی صنعت میں رسک فیکٹر بہت کم ہے، تعمیراتی انڈسٹری کیلئے (آج) بدھ کو ایک آرڈیننس لارہے ہیں،

تعمیراتی صنعت کو بہت بڑا ریلیف پیکیج دیں گے اور تعمیراتی صنعت کھول رہے ہیں۔وزیراعظم نے کہا کہ ہم دو محاذوں پر لڑ رہے ہیں جس میں سے ایک کورونا وائرس کا پھیلاؤ روکنا ہے اور دوسرا مسئلہ بیروزگاری ہے جو سب جگہ پھیل چکی ہے اور ہمیں لاک ڈاؤن برقرار رکھتے ہوئے انہیں ریلیف فراہم کرنا ہے۔

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply