rabbit and squarel jtnonline

لاک ڈاﺅن، جنگلی حیات ہوئی آزاد، نایاب سرخ گلہریوں، خرگوشوں کی شامت

Spread peace & love
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ریڈ کلف، سڈنی، اوٹاوا، نیو جرسی (جتن آن لائن، خصوصی رپورٹ) لاک ڈاؤن گلہری خرگوش

کرونا وائرس لاک ڈاؤن کے باعث جنگلی جانوروں کی نقل و حرکت اپنے عروج پر پہنچ گئی ہے۔ جنگلی جانور ویران گلیوں، ساحلوں اور دیہی علاقوں میں لطف اندوز ہو رہے ہیں، کیونکہ ٹریفک میں ڈرامائی طور پر کمی واقع ہوئی ہے۔

—————————————————————————–
یہ بھی پڑھیں : برطانیہ میں چوہوں اور مکڑوں کا ہلہ، ایک اوروباؤ کا خطرہ
—————————————————————————–

جنگلی حیات امور کی نگرانی کرنیوالی عالمی ٹیم نے انکشاف کیا ہے، کہ جنگلی حیات چرانے والا مافیا لاک ڈاﺅن کی آڑ میں متحرک ہو گیا ہے، اور اسے باآسانی اپنا شکار وافر مقداد میں دستیاب ہو رہا ہے۔ جنگلی حیات کا تحفظ کرنیوالوں کی جانب سے سرخ گلہریوں کی موت کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ یہ گلہریاں برطانیہ میں پائی جاتی ہیں-

گلہریوں کی دُم کی عالمی سطح پر زبردست مانگ

تفصیلات کے مطابق ان گلہریوں کی دُم سے اعلیٰ درجے کے پیٹنگ برش بنائے جاتے ہیں، جن کی عالمی سطح پر زبردست مانگ ہے، کیونکہ سرخ گلہری کے بال انتہائی ملائم اور مضبوط تصور کئے جاتے ہیں۔ آئل پینٹنگ تخلیق کرنیوالے نقاش اس پینٹنگ برش، کو حاصل کرنے کیلئے بڑی قیمت دینے کو تیار ہوتے ہیں، اس کے باوجود سرخ گلہری کی دُم والا پینٹنگ برش آسانی سے دستیاب نہیں ہوتا۔

لاک ڈاؤن کے باعث شکاریوں کی موجیں

لاک ڈاﺅن کے باعث اس دھندے سے وابستہ شکاریوں کی موجیں لگ گئی ہیں، کیونکہ لاک ڈاﺅن کے باعث وہ آسانی سے عوام اور پولیس کی نظروں میں نہیں آتے، اور اپنا کام آسانی سے کر رہے ہیں۔ ان سرخ گلہریوں کو پکڑنے کیلئے خشک پتوں کی آڑ میں پھندے لگائے جا رہے ہیں، جن میں وہ پھنس کر ہلاک ہو رہی ہیں۔

قارئین : ہماری یہ کاوش پسند آئے تو اپنے دوست احباب کو ضرور شیئر کریں

مافیا ان گلہریوں کی دُم کاٹ کر لے جاتے ہیں، اور اس کا باقی کا دھڑ دیگر جانوروں کی خواراک کے کام آجاتا ہے۔ مانیٹرنگ ٹیم کے مطابق سرخ گلہریوں کے تعداد میں تیزی سے کمی دیکھنے میں آئی ہے۔ مخصوص مافیا ان کو پکڑنے کیلئے خاص مقامات پر پھندتے لگا رہا ہے۔

تھائی لینڈ میں ہاتھیوں کی بقاء کو بھی شدید خطرہ

انگلینڈ میں ایک سروے کے مطابق اب صرف 15 ہزار ہی سرخ گلہری باقی بچی ہیں، اور ان کا بھی لاک ڈاﺅن کی آڑ میں شکار کیا جا رہا ہے۔ اس سے قبل یہ اطلاع ملی تھی، کہ عالمی لاک ڈاﺅن کے باعث تھائی لینڈ میں 1 ہزار کے قریب، ہاتھیوں کی بقاء کو شدید خطرات لاحق ہیں، اور ہاتھی بھی کرونا وائرس کا شکار ہو سکتے ہیں۔

آسٹریلیا، کینیڈا اور امریکی ریاستوں میں خرگوشوں کا دھڑا دھڑ شکار

آسٹریلیا، کینیڈا اور امریکی ریاستوں میں خرگوشوں کی بھی شامت آ گئی ہے، لاک ڈاﺅن کے باعث جنگلی حیات کی یہ واحد مخلوق ہے، جو کساد بازاری کا کھل کر فائدہ اٹھا رہی ہے، اور انہیں باغات و کھلے کھیتوں میں باآسانی سبزیاں اور اجناس دستیاب ہیں، کیونکہ انہیں کاٹنے والا ہی دستیاب نہیں۔

کالے اور سفید خرگوش شکاریوں کی بڑی پسند

شکاریوں نے یہاں بھی اپنا ہاتھ دکھانا شروع کر دیا ہے۔ یہ کالے، سفید خرگوش پہلے مالکان کی نظر میں تھے، اور انہیں چھپنے کی رعایت بھی حاصل تھی، اسلئے ان کا استحصال نہیں ہو رہا تھا، لیکن اب وہ کھل کر باہر آ کر دندنا رہے ہیں، اور یوں خفیہ شکاریوں کی نظروں میں بھی آ گئے ہیں۔ یہ شکاری ان خرگوشوں کو، غیر قانونی طور پر پکڑ کر، نہ صرف ان کے گوشت سے لطف اندوز ہو رہے ہیں، بلکہ ان کی کھال کو محفوظ کئے جا رہے ہیں، تا کہ جیسے ہی حالات معمول پر آئیں، وہ انہیں بیچ کر منافع کما سکیں۔

منفرد خبروں سے اپڈیٹ رہیں ، ہمیں سوشل میڈیا پر فالو کر کے

لاک ڈاؤن گلہری خرگوش

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply