دنیا کی آبادی کے پانچویں حصے کو کرونا وائرس کا شدید خطرہ لاحق ہے، عالمی ماہرین

لاک ڈاؤن، چلی میں بھوک پر ہنگامے، برازیلی عوام عدم تحفظ پرسراپا احتجاج

Spread peace & love
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سنتیا گو،زیورخ(جے ٹی این آن لائن خصوصی رپورٹ) لاک ڈاؤن چلی ہنگامے

چلی کے دارالحکومت سنتیاگو میں نوول کرونا وائرس کی وباء سے بچاؤ کیلئے

لگائے گئے لاک ڈاؤن کے دوران شہر بھر میں خوراک کی کمی واقع ہو گئی، جس

کے حصول کیلئے شہری لاک ڈاؤن کی خلاف ورزی کرتے ہوئے سڑکوں پر نکل

آئے، جنہیں کنٹرول کرنے کیلئے پولیس نے سختی کی، تو صورتحال کشیدہ ہو

گئی، اور عوام مشتعل ہو گئے، جس پرعوام اور پولیس میں شدید جھڑپیں شروع ہو

گئیں، نتیجے میں متعدد افراد زخمی ہو گئے۔

——————————————————————————
یہ بھی پڑھیں : مغرب کو کرونا وباء کے بعد ایک اور سنگین بحران کا خطرہ
——————————————————————————

مقامی ٹیلی ویژن پر پولیس کو ایل بوسک میں مظاہرین کو منتشر کرنے کیلئے ان

پر آنسو گیس اور پانی کا استعمال کرتے ہوئے دکھایا گیا جبکہ مظاہرین پولیس پر

پتھراؤ کرتے اور آگ لگاتے دکھائی دیئے-

بھوک اور کام کی کمی سے انتہائی پیچیدہ صورتحال کے سامنے کا اعتراف

ڈسٹرکٹ میئر سادی میلو نے بتایا کہ بھوک اور کام کی کمی کی وجہ سے ایک

انتہائی پیچیدہ صورتحال کا سامنا کرنا پڑا۔ بعد ازاں چلی کے صدر سیبیسٹیئن پینارا

نے اس بات کی یقین دہانی کرائی کہ حکومت اگلے ایک آدھ ہفتے میں فوڈ کی 25

لاکھ باسکٹ اور دیگر ضروری اشیا فراہم کردے گی۔ جس پر مشتعل شہریوں نے

احتجاج ختم کردیا اور گھروں کو لوٹ گئے-

کرونا وباء، متاثرین کی تعداد میں برازیل دنیا کا تیسرا بڑا ملک بن گیا

کرونا وائرس کے متاثرین کی تعداد کے اعتبار سے برازیل امریکہ اور روس کے بعد دنیا کا تیسرا بڑا ملک بن گیا، اسوقت برازیل میں مصدقہ متاثرین کی تعداد 255،000 سے زیادہ ہے۔ جبکہ برازیل اموات کے لحاظ سے بھی دنیا میں چھٹے نمبر پر ہے، جہاں وائرس سے 16853 افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔

وباء سے نمٹنے کیلئے برازیلی وفاقی و صوبائی حکومتوں میں تضاد

مبصرین کے خدشے کے مطابق برازیل میں متاثرین اور اموات کی حقیقی تعداد کہیں زیادہ ہو سکتی ہے۔ برازیل میں وباء سے نمٹنے سے متعلق واضح تقسیم پائی جاتی ہے۔ خطوں کے گورنرز نے لاک ڈاون کا نفاذ کر رکھا ہے، جبکہ برازیل کے صدر کا کہنا ہے یہ اقدامات وائرس سے بھی زیادہ خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں۔

——————————————————————————
دوستو : ہماری کاوش پسند آئے تو شیئر کریں، فالو کریں اپڈیٹ رہیں
——————————————————————————

گزشتہ روز ایسے ہی ایک علاقے ساؤ پاؤلو کے ایک فیولا یعنی کچی آبادی کے مکینوں نے ریلی نکالی، جس میں انھوں نے حکومت سے ان کے تحفظ سے متعلق مزید اقدامات اٹھانے کے بارے میں کہا۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق شہر میں مارچ سے لاک ڈاؤن نافذ ہے، جبکہ ان فیولاز میں رہنے والوں کی اکثریت گھروں میں بھی محفوظ نہیں ہے۔

لاک ڈاؤن چلی ہنگامے

Leave a Reply