ق لیگ اورپی ٹی آئی میں اختلافات شدید، عمران ، بزدار حکومتوں کو خطرات لاحق

Spread the love

پنجاب میں سپیکر چوہدری پرویز الٰہی کے قریبی صوبائی وزیر معدنیات عمار یاسر کے استعفیٰ نے وفاقی اور صوبائی حکومت کیلئے خطرے کی گھنٹی بجا دی۔ وفاقی وزیر ہاﺅسنگ طارق بشیر چیمہ پہلے ہی گورنر پنجاب کی مداخلت کے برملا اظہار کر چکے ہیں۔ مسلم لیگ (ق) اگر پی ٹی آئی سے الگ ہوگئی تو پنجاب اور وفاقی میں تحریک انصاف کی حکومت کا دھڑکن تختہ یقینی ہوجائے گا۔ چوہدری شجاعت حسین اور چوہدری پرویز الٰہی کو استعفیٰ بھجوانے والے عمار یاسر چوہدری پرویز الٰہی کے شاگرد شمار ہوتے ہیں اوروہ ہی انہیں سیاست میں لے کر آئے ۔ سیاسی حلقوں کا کہنا ہے عمار یاسر کا استعفیٰ دینا بالکل ایسے ہی ہے جیسے چوہدری پرویز الٰہی نے استعفیٰ دےدیا ہے۔ عمار یاسر نے اپنے استعفے میں مداخلت کے وہی الزام دہرائے ہیں جو ایک ویڈیو میں چند ماہ پہلے وزیر ہاﺅسنگ طارق بشیر چیمہ نے چوہدری پرویز الٰہی اور جہانگیر ترین کی موجودگی میں گورنر پنجاب چوہدری سرور کی بے جا مداخلت سے متعلق الزامات لگائے تھے۔ یہ ویڈیو دانستہ طور پر بنا کر پھر دانستہ طور پر ہی لیک کی گئی تاکہ وزیراعظم عمران خان تک پیغام پہنچ جائے اور پھر ویڈو پیغام کے بعد عمران خان فوری طور پرلاہور پہنچ گئے تھے اور مسلم لیگ (ق) کے تحفظات اور خدشات کو وقتی طور پر دور کردیا گیا تھا لیکن عمار یاسر کے استعفیٰ نے ثابت کردیا مرض اپنی جگہ موجود ہے ۔ پی ٹی آئی نے مداخلت چھوڑی اور نہ ہی مسلم لیگ (ق) کے وزراءکو اطمینان نصیب ہوا۔ پنجاب کے وزیر معدنیات کے استعفیٰ سے سابق صدر آصف علی زرداری کے موقف کو تقویت ملی ہے جس میں سابق صدر نے گزشتہ روز کہا تھا میں مختلف پارٹیوں سے رابطے میں ہوں اور جب چاہوں حکومت گرا سکتا ہوں۔ مسلم لیگ (ق) کی قیادت اور آصف علی زرداری کا یارانہ اس بات کا ثبوت ہے کہ دونوں مل کر کسی بھی وقت پانسہ پلٹ سکتے ہیں۔

Leave a Reply