prime-minister imran khan

قوم پاکستان کو جلد تبدیل اور اوپر جاتا دیکھے گی، عمران خان

Spread the love

واشنگٹن(جے ٹی این آن لائن مانیٹرنگ ڈیسک)

وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے قوم پاکستان کو ہرسال تبدیل اور اوپر جاتا

دیکھے گی کیونکہ طاقتور کا احتساب شروع ہوچکا، جیل سے باہر نکلنے کے

خواہشمند لوٹا پیسہ واپس دیں اور جائیں۔ اللہ نے جو پاکستان ہمیں دیا یہ کسی کو

اندازہ نہیں کتنی بڑی نعمت ہے، یہ ایک خاص نعمت ہے، جمہوریت میں میرٹ ہے

بادشاہت میں نہیں، اس لیے بادشاہت پیچھے رہ گئی اور جمہوریت میرٹ پر آئی

لیڈر شپ کی وجہ سے آگے نکل گئی، امریکہ میں میرٹ پر لیڈرشپ اچھی آتی رہی

اسلئے وہ آگے نکل گیا، ہندوستان کی مثال دیتے ہوئے وزیراعظم کا کہنا تھا مغل

بادشاہ آئے، اورنگزیب کے بعد اس کے بچوں میں صلاحیت نہیں تھی اسلئے وہ

سلطنت ترقی نہ کرسکی، اسی طرح سلطنت عثمانیہ بھی زوال کا شکار ہوئی۔

قائد اعظم ٌ کے بعد ملک کو ایک ہی لیڈر ملا وہ تھا ذوالفقار علی بھٹو

ہمارے ملک میں قائداعظم ؒکے بعد ایک لیڈر ذوالفقار علی بھٹو آئے اس کے بعد

کوئی نہیں، گزشتہ رات واشنگٹن میں کیپیٹل ون ایرینا میں پاکستانی کیمونٹی سے

خطاب کر تے ہوئے انکا مزید کہنا تھا ملٹری ڈکٹیٹر نے نواز شریف کو وزیراعظم

اور شہباز شریف کو وزیر اعلیٰ بنایا، آصف زرداری اور بلاول لیڈر اس طرح بن

گئے کہ کہا کاغذ پر ہماری اہلیہ اور والدہ لکھ کر گئی ہیں، اسی طرح ولی خان

فیملی میں ہوا اور مولانا فضل الرحمن بھی ایسے ہی آئے۔ میرٹ کے بغیر معاشرہ

آگے نہیں بڑھتا، چین کی کمیونسٹ پارٹی میں بہترین جمہوریت رائج ہے، حضرت

عمر جیسے مدینہ کے لیڈر گزرے جنہیں عام آدمی پوچھتا ہے چادر کہاں سے آئی؟

اور انہوں نے جواب دیا لیکن یہاں دیکھیں کرپشن پر بات ہوتی ہے تو کہتے ہیں

کیوں نکالا؟ دراصل یہ نیا پاکستان بن رہا ہے، پاکستان تیزی سے ترقی کررہا تھا،

یہ بھی پڑھیں: وزیراعظم کی واشنگٹن میں اہم شخصیات سے ملاقاتیں

ایشیا میں پاکستان کی مثال دی جاتی تھی، ہماری بیورو کریسی ٹاپ کی بیورو

کریسی تھی، ہسپتالوں کا معیار تھا جبکہ تعلیمی معیار بلند تھا لیکن آہستہ آہستہ ہم

نے پاکستان کو زوال پذیر ہوتے دیکھا اصل تباہی 1985ء میں غیرجماعتی الیکشن

میں ہوئی جب پہلی بار سیاست میں پیسہ چلنا شروع ہوا، سیاستدانوں کو خریدا گیا۔

یہاں سب حکومت کیخلاف اکھٹے ہوگئے ہیں، فضل الرحمن اسلام کو لے آئے ہیں

اور پہلی بار پاکستان کی اسمبلی ڈیزل کے بغیر چل رہی ہے، سیکولر بلاول بھی

ساتھ مل گیا ہے، ن لیگ بھی ان کیساتھ ہے، یہ سب اکھٹے ہوگئے ہیں اور ان کا

ایک ہی مقصد ہے این آر او، مجھے بیرون ملک سے سفارشیں کرائی گئیں، ایک

بادشاہ نے بھی سفارش کی، اگر طاقتور کا احتساب کردیا، بے نامی جائیدادیں

ضبط کر لیں اور بیرون ملک گیا پیسہ واپس لے آئے تو یہی ہے وہ وقت جب

پاکستان بدلے گا۔ دنیا بھر میں جہاں لوگوں کو اوپر آنے کا موقع ملتا ہے وہاں

پاکستانیوں کو اوپر آتے دیکھا ہے کیونکہ پاکستانی باصلاحیت ہیں لیکن میرٹ نہ

ہونے کی وجہ سے انہیں پاکستان میں مواقع نہیں ملتے، ہمیں میرٹ کا سسٹم بحال

کرنا ہے، ہم پہلی بار سرکاری سکولوں میں ایک نصاب لانے کی کوشش کررہے

ہیں، مدرسوں کی تنظیموں سے معاہدہ کرکے مدرسے کے بچوں کو عصری علوم

دینے کا کام جاری ہے تاکہ وہاں سے بھی ڈاکٹر و انجینئر بنیں کیونکہ 25 لاکھ

بچے مدرسے میں جاتے ہیں۔ خاندانوں کی سیا ست اور جاگیر دارانہ نظام ختم ہوگا

تب ہی میرٹ آئے گی تحریک انصاف پہلی پارٹی ہے جس میں میرا کوئی رشتہ دار

کسی عہدے پر نہیں نہ میرا کوئی دوست ملے گا، ہم آپ کو میرٹ پر نئے لیڈر

دکھائیں گے۔ ہمارے ملک میں معدنیات کے اربوں ڈالر کے ذخیرے موجود ہیں،

مزید پڑھیں: وزیراعظم کا انسداد منی لانڈرنگ کیلئےاقدامات تیز کرنے کا حکم

یہاں تو سو سال تک بجلی کی کمی ہونی ہی نہیں چاہیے، اربوں ٹن کوئلہ تھر میں

موجود ہے لیکن بدقسمتی ہے ریکوڈک کا جرمانہ ہوا، نہیں پتا سپریم کورٹ نے یہ

کنٹریکٹ کیوں ختم کیا؟ وہاں صرف ایک جگہ 200 ارب ڈالر کا تانبہ پڑا ہے، اس

معاملے کے پیچھے بھی کرپشن تھی پیسے مانگے جارہے تھے، بڑی کمپنیاں

پاکستان میں اسی لیے نہیں آتیں، جن کمپنیوں سے ملا ہر کمپنی یہی کہتی ہے ہم

سے رشوت مانگی جاتی ہے لیکن اب کمپنیاں پاکستان ضرور آئیں گی۔ پاکستان میں

فی گائے 6 لیٹر دودھ دیتی ہے، اگر ہم گائے کا دودھ 6 سے 12 کردیں تو دودھ

ایکسپورٹ کر سکتے ہیں لیکن ہم اس پر توجہ نہیں دیتے مگر اب ایسا نہیں ہوگا،

وزیراعظم کی کیپٹل ون ایرنیا میں کیا گیا خطاب دیکھیئے اور سنیئے

ہم بہتری لائیں گے اور باہر سے لوگ پاکستان میں نوکری کرنے آئیں گے، یہاں

موجود لوگ اپنے بچوں کو پاکستان بننے کا مقصد بتائیں اسے ایک اسلامی فلاحی

ریاست بننا تھا جو مدینہ کی ریاست تھی جو قرآن و سنت کے اصولوں پر مبنی

تھی۔ یہ مشکل وقت ہے جو چند ماہ یا سال بھر رہے گا لیکن ہم ملک کو مشکل سے

نکال کر دکھائیں گے، جو تاجر کہتے ہیں ہم رجسٹرڈ نہیں ہونگے وہ سن لیں انہیں

ملک کو قرضوں کی دلدل سے نکالنے کیلئے رجسٹرڈ اور ٹیکس دینا پڑے گا، 10

سال پہلے پاکستان کا قرضہ 6 ہزار ارب روپیہ تھا جو 30 ہزار ارب تک پہنچ گیا،

ہمیں گزشتہ دو حکومتوں سے یہی پیسہ واپس لینا ہے، پھر کہتا ہوں انہیں جو کرنا

ہے کرلیں، دھرنا دینا ہے تو کنٹینر دیتا ہوں، جلسے کرنا ہے تو وہ کریں میں پی ٹی

آئی کے ورکرز بھیج دیتا ہو تاکہ ان کے جلسے جلوس تھوڑے تو کامیاب ہوں لیکن

یہ لوگ یہ یاد رکھیں پیسہ تو انہیں ہر حال میں دینا پڑے گا۔

مقدمات ہم نے نہیں انہوں نے خود بنائے، ہم نے نیب، ایف آئی اے کو آزاد کیا

وزیراعظم نے نواز شریف پر تنقید کرتے ہوئے کہا وہ کہتے ہیں کھانا اچھا نہیں،

ایئر کنڈیشنر لگا دو اب ٹی وی چاہیے، اگر یہی سب کچھ جیل میں دینا ہے تو یہ

سزا تو نہیں ہوئی، ایئر کنڈیشنر اور ٹی وی جیل سے نکالیں گے جس پر مریم بی

بی بہت شور مچائیں گی۔ آصف زرداری کو بھی دیکھ رہا ہوں وہ جیل جاتے ہی

ہسپتال پہنچ جاتے ہیں، آپکو بھی ہم جیل میں رکھیں گے جہاں ٹی وی اور ایئر

کنڈیشنر نہیں ہوگا، اسی طرح خاقان عباسی کہتے تھے اگر میں نے کچھ کیا ہے تو

جیل میں ڈال دیں لو ہم نے انہیں بھی جیل میں ڈال دیا اور اسی طرح مولانا فضل

الرحمن کہتے ہیں کیا ہم سب اس وقت اکٹھے ہونگے جب جیل میں ہوں گے؟ میں

انہیں کہتا ہوں یقیناً ایسا ہوگا۔

ٹرمپ سے ملاقات میں پاکستان اور پاکستانیوں کو شرمندہ نہیں ہونے دوں گا

ڈونلڈ ٹرمپ کے سامنے پاکستان کا مقدمہ رکھوںگا، امریکی پاکستان کمیونٹی کیلئے

بات کروں گا اور آپ کو بالکل شرمندہ نہیں ہونے دوں گا۔ کرکٹ کاسب سے زیادہ

ٹیلنٹ پاکستان میں ہے، اپوزیشن جماعتیں کہتی ہیں ان کیساتھ انتقامی کارروائی

عمران خان کر رہا ہے، میں کہتا ہوں ہم نے تو کوئی بھی مقدمہ ان پر قائم نہیں کیا

یہ سب مقدمات انہوں نے خود ایک دوسرے پر بنائے، ہاں صر ف نیب، ایف آئی

اے اوردیگر قانون نافذ کرنیوالے اداروں کو آزاد ضرور کیا،نون لیگ کو پتہ ہی

نہیں ان کی پارٹی کیا ہے، فخر ہے آج میری بات کو امریکہ بھی تسلیم کر چکا کہ

افغانستان مسئلے کا حل فوجی نہیں، مذاکرات ہیں۔

علامہ اقبال ؒ اور شاہ ولی اللہؒ نے بھی یہی کہا مسلمان دنیا میں بادشاہت کی وجہ

سے پیچھے رہ گئے۔ ہمارانظام تعلیم نچلے طبقے کواوپرنہیں آنے دیتا، پہلی

بارسرکاری سکولوں میں یکساں نصاب لانیکی کوشش کررہے ہیں، جاگیردارانہ

نظام ختم ہوگا تو ملک میں میرٹ آئیگا، پاکستان دیکھتے ہی دیکھتے ترقی کریگا،

چین سے جو معاہدے کئے ہیں ان کی بدولت پاکستان ترقی کرے گا، دنیا پاکستان

میں نوکری کیلئے آئے گی ، ہر قوم کا ایک نظریہ ہوتا ہے اور پاکستان بنا تو اسکا

بھی واضح نظریہ تھا، قائد اعظم ؒ ، علامہ اقبال ؒ دونوں ایسے ذہن تھے جو صدیوں

بعد ملتے ہیں ۔ اسلامی فلاحی ریاست کے نظریئے پر ہی پاکستان کا قیام عمل میں

لایا گیا، وہ فلاحی ریاست کون تھی وہ ریاست مد ینہ تھی۔ جہاں انصاف، فلاح

انسانیت، رحم، کمزوروں، بیوائوں، یتیموں، مسکینوں کو پہلی مرتبہ ریاست نے

اپنی ذمہ داری قرار دیا اور انہیں اوپر اٹھایا، پہلی مرتبہ وہیں سے ہی امراء سے

پیسہ لینے اور غرباء کو دنیا ریاست مدینہ سے نظام بنا۔ غلاموں، خواتین کو حقوق

بھی ریاست مدینہ سے ہی ملے، پاکستان کرکٹ ٹیم کو بھی ٹھیک کرنے کا فیصلہ

کر لیا ہے اور اگلے ورلڈ کپ میں آپ کو اپنی ٹیم یکسر مختلف نظرآئے گی،

وزیر اعظم عمران خان کے تقریب سے خطاب کرنے سے قبل وزیر خارجہ شاہ

محمود قر یشی کا منفرد نوعیت کی اس تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہنا تھا

اوورسیز پاکستانیوں نے ثابت کردیا آپ زندہ قوم ہیں، پاکستانیوں کے جوش کو

دیکھ کرناقدین پریشان ہیں، پاکستانیوں میں ایک نیا جذبہ نظر آرہا ہے، عمران خان

پہلے وزیراعظم ہیں جوکمرشل فلا ئٹ سے امریکہ پہنچے، انہوں نے فائیو اسٹار

ہوٹل نہیں پاکستان ہاؤس میں قیام کا فیصلہ کیا، ہمیں اوورسیز پاکستانیوں پرفخر

ہے، ماضی میں حکمران پاکستان کولوٹ کرسرمایہ بیرون ملک منتقل کرتے رہے،

اوورسیز پیسہ کما کربیرون ملک سے پاکستان بھیجتے ہیں، اوورسیز آپ سے

منسلک ہیں تو نمل اور شوکت خانم ہسپتال وجود میں آئے، یہ وہ طبقہ ہے جو

لٹیروں سے نجات چاہتا تھا، ہم امریکہ کشکول لیکرنہیں آئے۔ نئے پاکستان کا وژن

جانیئے: سی پیک کو کوئی خطرہ نہیں، فیز 2 معاہدہ طے پاچکا، شاہ محمود

ٹرمپ انتظامیہ اور دیگر امریکی قیادت کو بتانے آئے ہیں، اگر اوورسیز پاکستانی

نہ ہوتے تو شاید تحریک انصاف کی بنیاد نہ ہوتی۔ عمران خان امریکہ کیساتھ

تعلقات بہتر کرنے آئے ہیں مگر برابری کی سطح پر، ہم چاہتے ہیں پاکستان کی مدد

سے ہی افغانستان میں امن آئے، امریکی کمپنیوں کو سی پیک میں سرمایہ کاری

کی دعوت دی ہے۔ شاہ محمود قریشی نے اس موقع پر شرکاء تقریب سے کہا نیا

پاکستان کا خواب ہم سب نے ملکر پورا کرنا ہے اور اس خواب کو شرمندہ تعبیر

کرنے کیلئے ہم سب کو عمران خان کے ہاتھ مضبوط کرنا ہونگے-

واشنگٹن ڈی سی کے مشہور کیپٹل ون ایرینا میں ہونیوالی یہ تقریب اب تک کی

امریکی تاریخ میں پاکستان کمیونٹی کی سب سے بڑی تقریب تھی، ایرینا میں

20,000 لوگوں کی گنجائش ہے مگر 19,000 پاکستانی امریکیوں نے پہلے ہی

شرکت کیلئے رجسٹریشن کرالی تھی، عمران خان کے خطاب سے کئی گھنٹے قبل

ہی ایرینا لوگوں سے بھرگیا، جلسے میں بہت سے جذباتی مناظر بھی دیکھے گئے۔

پاکستانی شہریوں کی بڑی تعداد یہاں پہنچی جنہوں نے پاکستان اور تحریک انصاف

کے پرچم اٹھا رکھے تھے، جلسہ گاہ میں موجود تمام بیس ہزار نشستیں بھرگئیں

جبکہ کئی ہزار افراد باہر موجود رہے۔ تمام افراد انتہائی پرجوش تھے جو پاکستان

اور تحریک انصاف کے حق میں نعرے لگاتے رہے۔ یہ کسی بھی جماعت کا اپنی

نوعیت کا امریکہ میں سب سے بڑا اور منفرد جلسہ ثابت ہوا۔ مبصرین کا کہنا ہے

واشنگٹن میں اس سے پہلے اس انداز کا کبھی اتنا بڑا جلسہ نہیں ہوا۔

Leave a Reply