قومی کرکٹرز جانیں اور ان کے ہم وطن

Spread the love

گزشتہ دنوں نظر کے سامنے سے ایک خبر گزری جس کو پڑھنے کے بعد میں یہ

سوچنے پر مجبور ہو گیا کہ ملک میں عام شہری تو اداروں کی غلطیوں کا شکار

ہیں ہی ان کے ساتھ مشہور و معروف شخصیات بھی ان کی نااہلی کا شکار بنے

بیٹھے ہیں۔ سلمان بٹ قومی کرکٹ ٹیم کا وہ جانا پہچانا نام ہے جن کو ملکی و غیر

ملکی سطح پر قوم کی نمائندگی کا جب بھی موقع ملا انہوں نے اپنی پرفارمنس سے

ثابت کیا کہ ان کی کرکٹ ابھی بہت باقی ہے۔ موصوف نے ابھی حال ہی میں ایک

ایسا کارنامہ سر انجام دیا کہ پاکستان کرکٹ بورڈ شاید اس سے بے خبر بنا بیٹھا ہے

۔اے کرکٹ کی لسٹ میں انہوں نے اپنی ٹیم کے لیے بنائی گئی سنچریوں میں اضافہ

کرتے ہوئے جیک کیلس جیسے عظیم کھلاڑی کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ خبر تو

اچھی ہے مگر کیا کریں ہم اس ملک کے باسی ہیں جہاں سینئرز کی بجائے

جونیئرز کو ترجیح دے کر ایسے سینئرز کی توہین کی جاتی ہے جو ملکی ریکارڈ

میں دوسرے نمبر پر ہوں۔ سلمان بٹ نے اس لسٹ میں اپنی بنائی گئی سنچریوں کی

تعداد میں اضافہ کرتے ہوئے دوسرا نمبر حاصل کر لیا ہے امید ہے وہ اس لسٹ

میں موجود پہلے نمبر کے بلے باز سعید انور کو بھی جلد پیچھے چھوڑ دیں گے۔

قومی ٹیم ہی کے اوپننگ بلے باز خرم منظور اس لسٹ میں تیسرے نمبر پر

براجمان ہیں اور وہ بھی اپنی پرفارمنس سے جلد اس لسٹ میں پہلے یا دوسرے

نمبر پر آنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ میرے ذہن میں یہ خیال بھی جنم لے چکا

تھا کہ سلمان بٹ اور خرم منظور کو ہجرت کرکے کہیں ایسے ملک چلے جانا

چاہئے جہاں ان کو ہاتھوں ہاتھ لیا جائے۔ ایسی صورتحال کے ستائے ہوئے کتنے

ہی کھلاڑی ہجرت کرکے جاچکے اور غیر ملکی ٹیم میں اپنا سکہ بھی جمارہے

ہیں پھرچاہے وہ عمران طاہر ہو یا عثمان قادر۔ ہوسکتا ہے ان کے بھی دل میں یہ

خیال آیا ہو لیکن شاید وہ اس ڈر سے کہ ’’ لوگ کیا کہیں گے کہ اپنا ملک عزیز

نہیں‘‘ اپنا خیال جھٹک دیتے ہوں۔ اگر یہ جملہ صرف کرکٹرز کیلئے ہی مخصوص

ہے تو پھر ان کا کیا کیاجائے جو باہر کے ملکوں میں اپنے بیوی بچوں کاپیٹ پالنے

کی غرض سے پردیس کاٹ رہے ہیں؟ بہر حال مجھے کیا کرکٹرز جانیں اور ان

کے ہم وطن۔ میں کیوں ’’بیگانی شادی میں عبداللہ دیوانہ‘‘ بنوں؟

اگر قومی ٹیم کی موجودہ صورتحال کو دیکھا جائے تو یہ بات قابل غور ہے کہ

فخر زمان ،امام الحق،سمیع اسلم جیسے اوپننگ بلے باز اس لسٹ سے کوسوں دور

ہیں یہ تینوں بلے بازڈومیسٹک کرکٹ تو کھیل رہے ہیں لیکن انہیں اس جگہ پر

پہنچنے کے لیے کافی لمبی چھلانگ لگانی پڑے گی۔ خیر یہ ہماری قوم کا المیہ ہے

کہ ہم اپنی ڈومیسٹک ٹیم کے پرفارمر کو ٹاپ پر ہونے کے باوجود نظر انداز کرتے

ہیں ۔جو ان کے ساتھ سراسر نا انصافی ہے۔ پاکستان کے موجودہ اور سابقہ کئی

لیجنڈز اسی ڈومیسٹک لیول کی کرکٹ سے ملک کو ملے ہیں۔ یہ الگ بات ہے کہ

آج جدید دور میں کرکٹ جتنی فاسٹ ہو چکی ہے ہم کھلاڑی بھی جدید کرکٹ سے

ہی ڈھونڈ رہے ہیں ۔ٹی ٹوئنٹی کرکٹ کے سبب آ ج اس کھیل کا دیوالیہ نکلنے والا

ہے کیوں کہ اب لوگوں کی توجہ مختصر کرکٹ کی طرف زیادہ ہوتی جا رہی ہے ۔

اوپر سے سونے پہ سہاگہ ملکی و غیر ملکی لیگز نے پوری کر دی۔ ان لیگز سے

نا تو ہمیں حنیف محمد، جاوید میانداد، انضمام الحق، سعید انور، عمران خان،محسن

حسن خان، وسیم اکرم وقار یونس جیسے عظیم کھلاڑی مل سکتے ہیں نا ہی ملیں

گے ۔ لہذٰا ہمیں ڈومیسٹک کرکٹ میں پرفارم کرنے والے کھلاڑیوں کی طرف توجہ

دینی ہو گی ۔ سلمان بٹ ہوں یا خرم منظور یا کوئی اور پلیئر اگر سلیکشن کمیٹی کو

منظور ہو گا تو چاہے آپ نے کچھ نا کیا ہو آپ کو کسی دورے کے لیے سلیکٹ کر

کے پورا دورہ باہر بٹھا کر یا کھلا کر دکھا دیں گے۔ ورنہ پاپڑ بیلتے بیلتے ان کے

ہاتھوں میں چھالے بھی پڑ جائیں تو بھی سلیکشن کمیٹی کے کانوں میں جوں نہیں

رینگے گی۔ پھر اگر کوئی کھلاڑی اصولوں کی پابندی کے خلاف بات کرتا ہے تو

اس ہمیشہ کے لیے پابندی لگا دی جاتی ہے یا پھر اسے قومی ٹیم میں شامل نا کیئے

جانے کی سزا دی جاتی ہے ۔ سلمان بٹ اور خرم منظور بھی شایداسی صورتحال

سے دو چار ہیں ۔اگر بولیں گے تب بھی سزا نا بولنے پر تو ٹیم میں شامل نا ہونے

کی سزا مل ہی رہی ہے ۔

(تجزیہ:…. حافظ عمر سعید)

Leave a Reply