قومی اسمبلی سے دوبارہ زینب الرٹ بل منظور

اسلام آباد(سٹاف رپورٹر)سینیٹ کے بعدقومی اسمبلی سے دوبارہ بچوں سے زیادتی کے مجرموں کو

سزا سے متعلق زینب الرٹ بل کثرت رائے سے منظور کر لیا گیا۔ جماعت اسلامی نے بل میں بچوں

کو زیادتی کے بعد قتل کرنے پر عمر قید کی سزا کو سزائے موت میں تبدیل کرنے کا ایک بار پھر

مطالبہ کیا۔پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں سے منظوری کے بعد صدر مملکت داکٹر عارف علوی کے

دستخطوں سے بل باقاعدہ قانون بن جائے گا۔بل کے تحت بچوں کے خلاف جرائم پر زیادہ سے زیادہ

14سال اور کم سے کم 7سال قید کی سزا ہوگی،بچوں کی گمشدگی پر پولیس2گھنٹے کے اندر مقدمہ

درج کرنے کی پابند ہوگی،عدالتیں بچوں سے متعلق جرائم کے مقدمات کا 3ماہ کے اندر فیصلہ کریں

گی،ڈائریکٹوریٹ جنرل زینب الرٹ، رسپانس و ریکوری بچوں کے حوالے سے مانیٹرنگ کا کام کرے

گا اور ہیلپ لائن 1099کے ساتھ مل کر کام کیا جائے گا۔بدھ کوقومی اسمبلی کا اجلاس سپیکر اسد

قیصر کی زیر صدارت ہوا۔اجلاس میں وفاقی وزیر انسانی حقوق ڈاکٹر شیریں مزاری نے سینیٹ سے

ترامیم کیساتھ منظور ہونے والا زینب الرٹ ،ردعمل اور بازیابی بل 2020 دوبارہ منظوری کیلئے پیش

کیا اور کہا کہ قومی اسمبلی سے یہ بل ایک بار منظور ہو چکا ہے مگر اسکے بعد سینیٹ میں بل میں

کچھ ترامیم کیساتھ منظور کیا گیا ہے،اسلئے اس کی دوبارہ منظوری ضروری ہے۔خواجہ آصف نے

کہا کہ یہ اسلام آباد کیلئے بل ہے، ہر ٹریفک سگنل پر 5سے 6سال کے بچے گاڑیاں صاف کر رہے

ہیں، چند ماہ قبل بچوں کا بل پاس کیا تھا، بعض قانون سازی این جی اوز کیلئے کی جاتی ہے کیونکہ

وہ فنڈنگ کرتے ہیں، پہلے جو بچوں کیلئے قانون سازی کی ہے، چوکوں پر اشاروں سے بچوں کو

ہٹایا جائے، یہ ٹھیکیدار ہیں، والدین کو تھوڑے پیسے دے کر بچوں سے کام کرواتے ہیں، قانون سازی

پر عمل نہیں ہوتا ہے۔جماعت اسلامی کے رکن مولانا اکبر چترالی نے بل کی مخالفت کرتے ہوئے کہا

کہ بچوں سے زیادتی پر سزائے موت نہ دے کر درندوں کو شہہ دی جارہی ہے، بچوں سے زیادتی کی

سزا پھانسی رکھی جائے،بل میں سزائے موت اور قصاص کو ختم کردیا گیا ہے۔وزیر مملکت پارلیمانی

امور علی محمد خان نے کہا کہ سینیٹ میں سراج الحق صاحب نے اس پر بات کی تھی اور بچوں کو

زیادتی کے بعد قتل کرنے والوں کو عمر قید کی بجائے سزائے موت کا مطالبہ کیا تھا۔ہم نے سینیٹ

میں انکو یقین دہانی کروائی تھی کہ آپ بعد میں بل میں ترمیم لے آئیں ہم اسکی حمایت کریں گے۔ڈاکٹر

شیری مزاری نے کہا کہ یہ قوم کا مسئلہ ہے،بل پر اپوزیشن جماعتوں کی حمایت پر شکریہ ادا کرتی

ہوں۔سپیکر قومی اسمبلی نے بل کی شق وار منظوری کے بعد کثرت رائے سے بل منظور کرلیا۔

جماعت اسلامی کے مولانا عبدالاکبر چترالی نے بل کی مخالفت کی۔پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں سے

منظوری کے بعد صدر مملکت داکٹر عارف علوی کے دستخطوں سے بل باقاعدہ قانون بن جائے گا۔

بل کے تحت بچوں کے خلاف جرائم پر زیادہ سے زیادہ 14سال اور کم سے کم 7سال قید کی سزا

ہوگی۔ قومی کمیشن برائے حقوقِ بچگان کا نام تبدیل کر کے زینب الرٹ، رسپانس اینڈ ریکوری ایجنسی

کردیا جائے گا۔بل کے مطابق کسی بھی بچے کے اغوایاجنسی زیادتی کے واقعہ کا مقدمہ درج ہونے

کے تین ماہ کے اندر اندر اس مقدمے کی سماعت مکمل کرنا ہوگی۔ پولیس بچے کی گمشدگی یا اغوا

کے واقعہ کی رپورٹ درج ہونے کے دو گھنٹوں کے اندر اس پر کارروائی کرنے کی پابند ہوگی۔ بل

کے مطابق وزیراعظم کی طرف سے گمشدہ اور لاپتہ بچوں کے حوالے سے ایک ڈائریکٹر جنرل

تعینات کیا جائے گا، ڈائریکٹر جنرل کے ساتھ افسران اور اہلکار بھی تعینات کیے جائیں

گے،ڈائریکٹوریٹ جنرل زینب الرٹ، رسپانس و ریکوری بچوں کے حوالے سے مانیٹرنگ کا کام

کرے گا اور ہیلپ لائن 1099کے ساتھ مل کر کام کیا جائے گا۔ زینب الرٹ، ریسپانس اینڈ ریکوری بل

کی نگرانی وفاقی چائلڈ پروٹیکشن ایڈوائزری بورڈ کرے گا، کسی بھی بچے کے لاپتہ ہونے کی

صورت میں پی ٹی اے اتھارٹی فون پر بچے کے بارے میں پیغامات بھیجے گی اور بچہ گم ہونے کی

صورت میں دو گھنٹے کے اندر مقدمہ درج ہو گا۔

Leave a Reply

%d bloggers like this: