parliament

سینیٹ الیکشن بذریعہ اوپن بیلٹ ترمیمی بل پیش کرنے پر قومی اسمبلی بنی سینما ہال

Spread the love

اسلام آباد (جے ٹی این آن لائن پاکستان نیوز) قومی اسمبلی سینما ہال

سینیٹ الیکشن کے طریقہ کار میں تبدیلی کیلئے ترمیمی بل قومی اسمبلی میں پیش

کر دیا گیا۔ اپوزیشن نے شدید ہنگامہ آرائی کرتے ہوئے ایجنڈے کی کاپیاں پھاڑ

دیں، سپیکر قومی اسمبلی پر جانبداری کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا یہ ایوان پی ٹی

آئی نہیں، اسلامی جمہوریہ پاکستان کا ہے۔ اڑھائی سال سے نظر انداز کیا جا رہا

ہے، اپوزیشن نے آئینی پیکیج مسترد کر دیا، آئینی ترمیمی بل پر ایوان سیٹیوں اور

ایک دوسرے کیخلاف نازیبا الفاظ سے ”سینما حال” کا منظر پیش کرتا رہا-

یہ بھی پڑھیں: قومی اسمبلی میں مسٹر 10 پرسنٹ کا ذکر، شور شرابا، اراکین گتھم گتھا

حکومتی و اپوزیشن ارکان تقریروں کے دوران ایک دوسرے کیخلا ف ہوٹنگ اور

احتجاج کرتے رہے جس کی وجہ سے سپیکر کو متعدد بار اجلاس کی کارروائی

ملتوی کرنا پڑی، اپوزیشن ارکان نے سپیکر ڈائس کا گھیراﺅ بھی کیا، دونوں

اطراف سے مسلسل احتجاج کی وجہ سے آئینی ترمیم بل پر 3 گھنٹے تک مزید

کارروائی آگے نہ بڑھ سکی۔

یہ بھی جانیئے: قومی اسمبلی میں وزیراعظم کو سلیکٹڈ کہنے پر پابندی

تفصیلات کے مطابق وفاقی وزیر قانون بیرسٹر فروغ نسیم نے قومی اسمبلی میں

آئین میں 26 ویں آئینی ترمیم کرنے کا بل پیش کر دیا، اس بل میں سینیٹ الیکشن

اوپن کرنے اور دوہری شہریت والوں کو الیکشن لڑنے کی اجازت دینے کی ترامیم

شامل ہیں۔ اس موقع پر اجلاس سے خطاب میں وزیر قانون فروغ نسیم کا کہنا تھا

حکومت چاہتی ہے سینیٹ الیکشن اوپن بیلٹ سے ہو، اپوزیشن سے درخواست ہے

ان کے اراکین آئین پڑھ لیا کریں، آئین میں ترمیم لانا کیا غیر آئینی ہے؟

اس موقع پر اپوزیشن کی جانب سے شدید ہنگامہ آرائی کرتے ہوئے بل کے ایجنڈے

کی کاپیاں پھاڑ دی گئیں۔ پیپلز پارٹی کے رکن قومی اسمبلی آغا رفیع اللہ نے سپیکر

کے ڈائس کے سامنے کھڑے ہو کر نعرے بازی شروع کردی اور کہا یہ حلالہ نہیں

ہونے دیں گے، اس موقع پر اپوزیشن کے دیگر ارکان بھی سپیکر ڈائس کے سامنے

آ گئے اور احتجاج کرنا شروع کر دیا- سپیکر قومی اسمبلی نے ن لیگ کے محسن

شاہنواز رانجھا کو کہا کہ آپ بل پر بات کریں لیکن اپوزیشن کے اراکین نے انہیں

بھی بات کرنے سے روک دیا، اپوزیشن کے احتجاج پرسپیکر قومی نے کہا آپ

معلوم نہیں کیا کھاتے ہیں، آپ کی بڑی اونچی آواز ہے۔

سپیکر قومی اسمبلی نے رہنما( ن) لیگ احسن اقبال کو بولنے کا موقع دیا تو احسن

اقبال نے کہا حکومت کی انتقامی کاروائی کا نشانہ بن کر شہبازشریف، خورشید

شاہ، خواجہ آصف جیل میں ہیں کیا یہ اپوزیشن کو دبانا نہیں، پوری اپوزیشن ہاتھ

کھڑے کرکے بتائے کیا وہ سپیکر چیئر کو غیر جانبدار سمجھتی ہے، جس طرح

اسمبلی چل رہی ہے ہمیں شدید اعتراض ہے، چاہتے ہیں کارروائی قوائد و ضوابط

کے مطابق چلے، یکطرفہ کاروائی نہیں چلنے دیں گے، جمہوریت دو پہیوں سے

چلتی ہے جس میں ایک حکومت اور دوسرا اپوزیشن ہے، اپوزیشن کا کام تنقید

کرنا، حکومت کا کام صبر سے سننا ہوتا ہے، ان سے ان کا نام پوچھو تو کہتے ہیں

فلاناں چور فلاناں ڈاکو ہے، وزیراعظم نے فون کا ڈرامہ رچایا جس میں کوئی

ویژن نہیں تھا، پچھلے دس دن سے پٹرول کی قیمت سے متعلق خبریں چل رہی

ہیں، اپوزیشن کی سب سے بڑی جماعت ( ن ) لیگ ہے، ہمارے کتنے توجہ دلاؤ

نوٹسز کو ایجنڈا پر لایا گیا؟ ہمارے مائیک کو بند کر دیا جاتا ہے، ہر منتخب رکن

اسمبلی کو بولنے کا حق ہے۔ ایوان میں احتجاج کرنا ہمیں پسند نہیں، ہم چاہتے ہیں

کارروائی دستور کے مطابق ہو۔ 26 ویں آئینی ترمیم کے بل پر ہمیں شدید تحفظات

ہیں۔ اس پر سپیکر قومی اسمبلی نے کہا میں آپ کا چیلنج قبول کرتا ہوں، میرے

سیکرٹریٹ میں آئیں اور دیکھیں آپ کے کتنے آئٹم ایجنڈہ پر آئے ہیں۔

= قارئین =ہماری کاوش پسند آئی ہو گی،اپ ڈیٹ رہنے کیلئے ہمیں فالو کریں=

اس موقع پر اپوزیشن ارکان احسن اقبال، راجہ پرویز اشرف ، اسعد محمود و دیگر

کا کہنا تھا آئینی پیکیج کسی کیلئے نہیں صرف اور صرف فرینڈز آف عمران خان

کیلئے ہے، آئین کو دوستان ِعمران کیلئے استعمال نہیں ہونے دینگے، چیئرمین

سینیٹ کیخلاف عدم اعتماد کے وقت پی ایم کی زیر نگرانی ہارس ٹریڈنگ ہوئی،

اس وقت سینیٹ کی شفافیت کا غم نہیں تھا کیا؟ جن امیدوراروں کو آپ کی اپنی

پارلیمانی پارٹی ووٹ ڈالنا نہیں چاہتی تو حکومت کو آئینی ترمیم یاد آگئی، آئینی

ترمیم کے ذریعے حکومت دوہری شہریت کے ڈکلیئریشن کو ریگولرائز کرنا چاہتی

ہے تاکہ وفاقی وزیر نااہلی سے بچ جائے، حکومت اگر انتخابی اصلاحات کرنا

چاہتی ہے تو پارلیمانی کمیٹی بنائے، جبکہ وزیر قانون فروغ نسیم، مشیر پارلیمانی

امور بابر اعوان نے اپوزیشن کے احتجاج کے جواب میں کہا آئینی ترمیم کا واحد

مقصد سینیٹ انتخابات کا شفاف انعقاد ہے، قوم دیکھ رہی ہے کہ عمران خان نے

زبانی نہیں بلکہ عملی طور پر سینیٹ انتخابات کو شفاف بنانے کیلئے کام کیا ہے،

اپوزیشن نعرے لگائے نے کی بجائے دلائل کیساتھ ہمیں راغب کرے، احتجاج اور

ڈیسک بجانا کوئی جواز نہیں، اپوزیشن قوم کے سامنے کھل کر بات کرے، آپ

دھاندلی کرنا یا اسے ختم کرنا چاہتے ہیں۔

قومی اسمبلی سینما ہال ، قومی اسمبلی سینما ہال

Leave a Reply