51

قومی اسمبلی ،مسٹر 10 پرسنٹ کے ذکر پر شور شرابا، اراکین گتھم گتھا

Spread the love

اسلام آباد (سٹاف رپورٹر) قومی اسمبلی میں مسٹر 10 پرسنٹ کے ذکر پر اپوزیشن

ارکان نے وفاقی وزیر عمر ایوب کی نشست کا گھیراؤ کر لیا۔ آغا رفیع اللہ حکومتی

ارکان سے گتھم گتھا ہوگئے، عمر ایوب کی تقریر کے دوران پیپلزپارٹی نے شدید

احتجاج کیا۔ اس سے قبل ا وفاقی وزیر توانائی عمر ایوب نے قومی اسمبلی میں

اظہار خیال کرتے ہوئے کہا حفیظ شیخ نے تفصیل سے اعدادو شمار کے ساتھ بات

کی، دوسری طرف بدقسمتی سے اپوزیشن نے بغیر دلیل کے بات کی، خیال تھا

اپوزیشن سے حکومت کو تجاویز ملیں گی، اپوزیشن کو سمجھنا ہوگا کہ حقائق سے

آپ آنکھ نہیں چرا سکتے، خیال تھا ماضی کی غلطیوں پر شرمندہ ہو کر اچھی

تجاویز دیں گے۔عمر ایوب کا کہنا تھا زیادہ نوٹ چھاپنے کا خمیازہ عمران خان

حکومت نے بھگتا، اپوزیشن کے ارکان اپنا ماضی بھول گئے ہیں، ن لیگ نے 5

سال میں 101 فیصد زیادہ نوٹ چھاپے، مسلم لیگ (ن) 30 ہزار ارب قرض چھوڑ

کرگئی، پیپلزپارٹی کی حکومت نے قرض 15 ہزار ارب تک پہنچا دیا، 30 ہزار

قرض لینے کا خمیازہ سب بھگت رہے ہیں۔وفاقی وزیر نے مزید کہا پیپلزپارٹی نے

وہ معاہدے کیے جو آج گلے پڑے ہوئے ہیں، رینٹل پاور پلانٹ کا بھی خمیازہ

پاکستان نے بھگتا، سابق حکومت نے بجلی چوری پر قابو نہیں پایا، کرپشن کی وجہ

سے یہ لو گ پھنس گئے، اس وجہ سے چیخ رہے ہیں، ماضی میں کاشتکاروں کو

چکما دیا گیااور صنعتوں کا بیڑاغرق کر دیا گیا۔اس سے قبل مشیر خزانہ عبدالحفیظ

شیخ نے کہا کہ تمام مسائل کی جڑ 30 ہزار ارب کا قرض ہے، حکومت آئی تو

جاری کھاتوں کا خسارہ ریکارڈ سطح پر تھا، ملک میں ڈالر کا نہ ہونا بحران کی

بڑی وجہ ہے، روپے تو چھاپ سکتے ہیں ڈالر نہیں، گزشتہ 7 ماہ میں پٹرولیم

مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ نہیں ہوا۔ قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے

ہوئے کہا مشیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ نے کہا 72 سال میں کوئی وزیراعظم مدت

پوری نہ کرسکا، اس دوران ہم ٹیکس کولیکشن اور سرمایہ کاروں کو راضی کرنے

میں بھی کامیاب نہ ہوسکے، سوچنا ہوگا ایسا کیا ہے کہ گروتھ ریٹ برقرار نہیں رہ

سکتا ؟ معیشت کے اثرات براہ راست لوگوں پر پڑ رہے ہیں۔حفیظ شیخ کا کہنا تھا

ترقی کرنی ہے تو اپنے لوگوں پر دھیان دینا ہوگا، ہمیں طے کرنا ہے ملک کو آگے

لے کر جانا ہے یا نہیں، معاشی استحکام کیلئے حکومت کام کر رہی ہے، کوشش

کروں گا سیاسی بحث اور پوائنٹ سکورنگ نہ کروں، ترقی یافتہ ممالک نے

تجارت کیلئے ماحول پیدا کیا، 1960 کے دوران معیشت میں بہتری آئی جو 4 سال

میں ختم ہوگئی۔ مشیر خزانہ نے مزید کہا کہ فیصلہ ہوا تھا ایکس چینج ریٹ کو

فکس رکھنا ہے، وزیراعظم کتنا بھی طاقتور ہو کرنسی کی قدر کو حکم سے نہیں

روک سکتا، کرنسی کی قدر میں کمی روکنے کیلئے ڈالر پھونکے گئے، 2 ہزار

300 ارب روپے آمدن سے زیادہ خرچ کیے گئے، بحران کی وجہ یہ ہے کہ ملک

میں ڈالر نہیں، ہم نے قرض بھی ڈالرز میں لیے۔حفیظ شیخ کا کہنا تھا سابق حکومت

میں ایکسپورٹ کی گروتھ زیرو تھی، 95 ارب ڈالر کا غیر ملکی قرض اور سالانہ

20 ارب کا بوجھ تھا، جاری کھاتوں کا خسارہ ڈالر اور زرمبادلہ کے ذخائر بتاتا

ہے، اقدامات نہ اٹھائے تو ہم بھی ناکام ہو جائیں گے، ملکی زراعت نے بھی اس

انداز میں ترقی نہیں کی، زراعت کا گروتھ ریٹ بھی زیرو ہے۔مشیر خزانہ نے کہا

توانائی کا شعبہ تباہی کا باعث بن سکتا ہے، ادارے بل اکٹھے کرنے میں کامیاب

نہیں ہو رہے، ہم بحران میں داخل ہو چکے تھے، ملک دیوالیہ نظر آرہا تھا، ہمیں

کوئی قرض دینے کو تیار نہیں تھا، پہلی ترجیح تھی کہ پاکستان کو دیوالیہ ہونے

سے بچائیں، سعودی عرب سے قسطوں میں تیل خریدا، 2008 اور 2013 میں

آنیوالی حکومتیں آئی ایم ایف کے پاس گئیں، کوئی بھی خوشی سے آئی ایم ایف کے

پاس نہیں جاتا۔حفیظ شیخ کا کہنا تھا جاری کھاتوں کے خسارے کا بہت بڑا خطرہ

تھا جسے ہم نے مینج کیا، پہلے سال میں جاری کھاتوں کا خسارہ 20 ارب ڈالر سے

13 ارب ڈالر پر لایا گیا، ایکسپورٹرز کیلئے اقدامات سے پہلے 7 ماہ میں

ایکسپورٹ میں قدرے بہتری آئی، ایکسپورٹ بڑھانے کیلئے موثر اقدامات کیے، ہم

نے فیصلہ کیا جو بھی ایکسپورٹر ہوگا اس پر زیرو ٹیکس ہوگا۔مشیر خزانہ نے کہا

کہ کامیاب جوان پروگرام کے تحت نوجوانوں کو کاروبار شروع کرنے کیلئے آسان

قرض فراہم کر رہے ہیں، ہم چاہتے ہیں کمزور اور غریب ترین طبقے کی مدد

کریں، کمزور ترین طبقوں کیلئے پروگراموں کا بجٹ 192 ارب کیا جو تاریخ میں

کبھی نہیں ہوا۔

Leave a Reply