قوانین بنانے، نفاذ اور عملدرآمد کے مقاصد اور بگاڑ کی وجوہات--؟ 0

قوانین بنانے، نفاذ اور عملدرآمد کے مقاصد اور بگاڑ کی وجوہات–؟

Spread the love

(تحریر:– حامد ولید) قوانین بنانے کے مقاصد

اپنے اور لوگوں کیساتھ اپنے معاملات کو دیکھنے کے لئے خاندان سے شروع ہو

کر محلے اور ملک تک قوانین وضع کئے جاتے ہیں، اور ضروری نہیں ہوتا کہ

وہ تحریری شکل میں ہوں۔ مراد یہ کہ انسانی زندگی سے متعلق ہر فعل قانون کے

تابع ہوجاتا ہے جو گھر سے شروع ہو کر گھنٹہ گھر تک ہر شے کو اپنے احاطے

میں لے لیتا ہے، کیونکہ قوانین سازگار ماحول مہیا کرنے کیلئے بنائے جاتے ہیں۔

اس کے برعکس اگر طے شدہ رسموں رواجوں کو نظر انداز کیا جائے اور ہر

کوئی اپنی مرضی کرے تو بحران پیدا ہو جاتا ہے، خواہ وہ خاندان ہو یا معاشرہ!

حتیٰ کہ گاﺅں کی سادہ زندگی میں بھی اس بحرانی کیفیت کو بآسانی محسوس کیا

جا سکے گا۔ اگر انہیں رسموں رواجوں کو لکھ لیا جائے تو وہ تحریری قانون کی

شکل اختیار کر جائیگا کیونکہ قانون کی بنیاد تو عقل سلیم پر ہوتی ہے جو جس

شے کو جیسے تسلیم کر لے وہ ویسے ہی قانونی طور پر تصور کی جاتی ہے۔

=–= مزید تجزیاتی رپورٹس، کالمز اور بلاگ ( =–= پڑھیں =–= )

مسئلہ وہاں پیدا ہوتا ہے جہاں کہا جاتا ہے کہ رواجی قانون کے سامنے شریعہ

کے وراثتی قانون کو تسلیم نہیں کریں گے۔ ہم لڑکیوں کو وراثت میں حصہ نہیں

دیں گے۔ کبھی ولائت میں بھی یہی کہا جاتا تھا عورت کو وراثتی جائیداد نہیں دی

جائے گی۔ یہ بھی کہا گیا اسے ووٹ ڈالنے کا اختیار نہیں۔ بہت دیر بعد عورتوں

کو ووٹ ڈالنے کا حق دیا گیا۔ امریکہ میں ابھی بھی بعض ریاستوں میں عورتوں

کو مردوں کے مقابلے میں کم تنخواہ ملتی ہے، حالانکہ آئین اس کی اجازت نہیں

دیتا۔ ابھی تک امریکہ میں بھی Equal Rights Amendment نہیں آ سکی ہے۔

وہاں پر ابھی بھی سیاہ فام لوگوں کو مساوی حقوق نہیں دیئے جاتے۔ انہیں کم

تنخواہیں ملتی ہیں، آگے بڑھنے کے کم مواقع ملتے ہیں۔ دنیا بھر میں Black

Lives Matter کی تحریک دراصل امریکہ میں سیاہ فام لوگوں پر ہونے والے

ظلم و ستم کیخلاف ایک تازہ آواز اس کی واضح مثال ہے۔

=-،-= قوانین وضع کرنے کا مطلب ، انصاف کی توقع

قانون وضع کرنے کا مطلب یہ ہے کہ معاشرے کے افراد اپنے حقوق کو اجتماعی

دانش کے حوالے کر دیتے ہیں تاکہ اجتماعی بہتری یقینی بنائی جا سکے۔ اس کے

ساتھ ساتھ توقع کی جاتی ہے کہ ہم جس کے حوالے اپنے حقوق کر رہے ہیں وہ

ہمارے تنازعات پر صحیح فیصلہ صادر کریگا۔ وہ فریقین کے مابین فرق نہیں

کریگا کیونکہ یہ کسی قانون کی منشا نہیں ہوتی۔ ایک قانون کے تابع معاشرے

میں ثالث سے انصاف کی توقع ہوتی ہے۔ قانون کی عملداری اسی لئے مختلف

شعبوں کے قوانین سے لے کر سرحد پار لوگوں سے معاملات کو بھی طے کرتی

چلی جاتی ہے۔

=-،-= قوانین ریاضی کے برعکس، بیک وقت لچکدار بھی غیر لچکدار بھی

قانون ریاضی کا فارمولہ نہیں ہوتا، کیونکہ ایسا ہونے کی صورت میں اس کے

حتمی شکل اختیار کرنے کا خطرہ ہوتا ہے اور ہر ایک صورت میں چار بنانے

کے لئے دو کو دو میں ہی جمع کیا جائے گا۔ اس کے برعکس قانون میں دو جمع

دو کی بجائے ڈیڑھ اورآدھا ملا کر بھی دو بنانے کی گنجائش دی جاتی ہے۔ قانون

بیک وقت لچکدار اور غیر لچکدار ہونے کی خاصیت رکھتا ہے۔ نہ تو اسے تیز

دھار کے زور پر لاگو کیا جاتا ہے اور نہ ہی موم کی ناک کی طرح جدھر چاہیں

موڑ ا جا سکتا ہے۔

=-،-= شرعی قوانین میں بھی یہی فارمولا کار فرما، مگر تاثر غلط

شرعی قوانین کے بارے میں یہ تاثر درست نہیں کہ وہ غیر لچکدار قوانین کا

مجموعہ ہیں۔ ایسی باتیں وہ لوگ کرتے ہیں جن کو شرعی قوانین کا فہم نہیں۔

قصاص کے معاملے کو لے لیجئے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر بگاڑ پیدا ہو گیا تو

اسے دوبارہ سے اصل حالت میں لایا جائے۔ اب اگر کسی کا بھائی قتل ہو جائے

اور جواب میں وہ قاتل کو قتل کردے تو بھی اس کا اپنا بھائی دوبارہ سے زندگی

نہیں پا سکتا۔ ایسا کسی چوری شدہ چیز کے معاملے میں تو ہو سکتا ہے لیکن قتل

کے معاملے میں نہیں ہو سکتا۔ اسی لئے قصاص میں خون بہا کا تصور دیا گیا

ہے۔ اسلام کا مقصد فساد کو روکنا ہے اور کہا گیا کہ قتل کا بدلہ قتل ایک طریقہ

ہے جس سے معاشرے میں فساد رک جائیگا، لیکن مقتول کے لواحقین معاف کر

دیں تو یہ ان کے حق میں بہتر ہے۔ معاف کرنے کی صورت میں لواحقین دیت

کے حقدار ہوں گے۔ دیت کے تصور میں چاندی کی کم از کم مقدار مقرر کردی

گئی ہے، جس کے برابر رقم دی جاتی ہے، لیکن چاندی کی کم از کم حد اس لئے

رکھی گئی ہے کہ اس سے بڑھ کر بھی ادا کیا جا سکتا ہے۔ اسی طرح قطع ید کا

بنیادی تصور یہ ہے کہ اگر کسی نے جان بوجھ کر چوری کی ہے تو اس کا ہاتھ

کاٹ دیا جائے، لیکن اگر کسی ضرورت کی وجہ سے کی ہے تو ہاتھ نہیں کٹے

گا۔ ہاتھ کاٹنے کا مطلب یہ نہیں اسے جسمانی طور پر معذور کیا جائے بلکہ اصل

منشاء یہ ہے کہ دوسروں کی چیزوں تک اس کی رسائی روک دی جائے۔ چنانچہ

اگر اس کو حوالات میں بند کر دیا جائے تو بھی دوسروں کی چیزیں اس کی

دسترس سے باہر ہو جائیں گی۔

=-،-= قوانین کا مقصد بگاڑ کی روک تھام اور پُرامن معاشرے کا قیام

کوئی بھی قانون بشمول شرعی قانون غیر لچکدار نہیں ہو سکتا ہے کیونکہ اگر

قانون بدلتے زمانے کا ساتھ نہ دے سکے تو زمانہ اس کا ساتھ چھوڑ دیتا ہے۔

مثال کے طور پر ملکہ برطانیہ کے بارے میں قانون موجود ہے کہ اس کیخلاف

بات کرنے والے کو پھانسی کی سزا ہو گی لیکن آج اس کیخلاف کارٹون بھی

بنتے ہیں، فلمیں بھی بنتی ہیں اور زمانے کے حساب سے وہ قانون خاموش ہو

چکا ہے۔ اسی طرح شریعت میں زنا ثابت کرنے کے لئے چار گواہوں کی شرط

ہے۔ وہاں بھی یہی مقصد ہے کہ معاشرے میں فساد کو روکا جائے۔

=-،-= فساد روکنے کیلئے ہمارا 1973ء آئین پر اتفاق ضروری

ہمارے عائلی قوانین نکاح رجسٹر کروانے کا طریقہ بتاتے ہیں لیکن اگر نکاح اس

طریقے سے نہیں ہوا تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ فاسخ ہے۔ وہاں بھی مقصد

فساد روکنا ہے۔ پاکستان میں مختلف الرواج قومیتیں آباد ہیں۔ یہاں مسائل تب پیدا

ہوں گے اگر ہم اکٹھا رہنے کے لئے تیار نہ ہوں۔ ہمارے ہاں ملکی معاملات میں

فساد کو روکنے کا طریقہ یہی ہے کہ ہم بحیثیت قوم متحد رہیں۔ ہمارا اتفاق اگر

1973ء کے آئین پر ہے تو ہمارے اتحاد کے لئے وہ کافی ہے۔ ہمارے درمیان

کبھی کوئی ڈیڈلاک نہیں آئیگا اور ہم وسائل کی تقسیم پر عدم اتفاق کے باوجود

وسائل کی تقسیم کو یقینی بنانے پر متفق رہیں گے۔

قوانین بنانے کے مقاصد ، قوانین بنانے کے مقاصد ، قوانین بنانے کے مقاصد

قوانین بنانے کے مقاصد ، قوانین بنانے کے مقاصد ، قوانین بنانے کے مقاصد

=-= قارئین= کاوش پسند آئے تو اپ ڈیٹ رہنے کیلئے فالو کریں

Leave a Reply