دنیا کی آبادی کے پانچویں حصے کو کرونا وائرس کا شدید خطرہ لاحق ہے، عالمی ماہرین

قطب شمالی میں ریکارڈ توڑ آتشزدگی نے عالمی ماہرین کو کر دیا پریشان

Spread peace & love
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ماسکو(جے ٹی این آن لائن نیوز) قطب شمالی ریکارڈ آتشزدگی

قطب شمالی ( نارتھ پول) میں روس کے علاقے جمہوریہ سکھا میں لگنے والی

آگ کا دھواں ہزاروں میل دور تک پھیل گیا۔کرہ فضائی پر نظر رکھنے والے

ادارے” سی اے ایم ایس“ نے اپنی رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ قطب شمالی

کے دائرے میں واقع جنگلات سے گھرے علاقے میں لگی آگ نے ماضی کے

تمام ریکارڈ توڑ دیئے ہیں ، وہاں سے اٹھنے والے دھوئیں اور کاربن ڈائی آکسائیڈ

کی مقدار اب تک سب سے زیادہ بتائی جا رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں : ڈھاکہ میں ہولناک آتشزدگی، 81 افراد ہلاک، 50 زخمی
————————————————————————-

گزشتہ 18 سال سے قطب شمالی کی صورتحال کی نگرانی کرنےوالے سی اے

ایم ایس ادارے کی رپورٹ کے مطابق جس علاقے میں آگ بھڑک رہی ہے اس کا

رقبہ کینیڈا کے رقبے کے ایک تہائی حصے کے برابر ہے اور اس سے اٹھنے

والا دھواں ماضی کے مقا بلے میں زیادہ گہرا ہے، جبکہ یہ آگ زیادہ مدت تک

روشن رہتی ہے۔ایک سینئر سائنسدان اور جنگلات میں لگنے والی آگ کے امور

کے ماہر مارک پارنگٹن نے کہا ہے کہ ہم قطب شمالی کے دائرے میں جنگل میں

لگنے والی آگ کے واقعات میں تیزی اور اضافہ دیکھ رہے ہیں،جو اسقدر زیادہ

ہے کہ اس نے سب کو حیران کر دیا ہے۔

خطے کا موسم بھی آگ بھڑکانے کیلئے مواقف ہے، سائنسدان

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس کی وجہ موسمِ گرما کا خشک اور گرم ماحول ہوتا ہے جو آگ بھڑکنے کےلئے سازگار حالات کو جنم دیتا ہے۔امریکی خلائی ادارے ناسا کی ایک سائنسدان الزبتھ ہوئے نے اس واقعہ پر ردعمل میں کہا کہ قطب شمالی میں آگ سے زمین کی زیریں سطح تباہ ہو رہی ہے جس کے نتیجے میں بڑی مقدار میں کاربن ڈائی آکسائیڈ فضا میں شامل ہو رہی ہے۔ کاربن ڈائی آکسائیڈ کے زیادہ اخراج کا مطلب ماحول کا زیادہ گرم ہونا اور آگ لگنے کے زیادہ واقعات پیش آنا ہے۔الزیتھ کے مطابق جب سرد اور نمی والے خطے خشک پڑتے ہیں تو وہاں آگ بھڑکنے کےلئے ماحول زیادہ سازگار ہو جاتا ہے۔ آگ لگنے کی وجوہات میں انسانی عمل، آسمانی بجلی کا خشک درختوں اور جھاڑیوں پر گرنا، یا زمین میں دبی ہوئی پرانی آگ کا دوبارہ زندہ ہو جانا ہے۔

دھوئیں سے آسمان ، جلے ذرات سے برفانی علاقہ ڈھک گیا،حدت بڑھنے لگی

سیٹلائٹ سے حاصل ہونےوالی تصاویر سے ظاہر ہوتا ہے کہ دھوئیں میں شامل جلے ہوئے باریک ذرات آہستہ آہستہ زمین پر گر رہے ہیں جو نہ صرف انسانی صحت کےلئے نقصان دہ نہیں بلکہ جب وہ قطب شمالی میں برف پر گرتے ہیں تو اس پر ایک ہلکی سی کالی اور بھوری چادر بچھا دیتے ہیں جس سے سورج کی حرارت اور شعاعیں منعکس ہونے کی بجائے جذب ہو جاتی ہیں اور گلوبل وارمنگ میں اضافے کا سبب بنتی ہیں۔

قارئین : ہماری کاوش پسند آئے تو شیئر ، اپڈیٹ رہنے کیلئے فالو کریں

قطب شمالی ریکارڈ آتشزدگی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply