قتل، اقدام قتل دیگر سنگین جرائم اورفرقہ وارانہ فسادات میں ملوث کابینہ

Spread the love

نئی دہلی(جے ٹی این آن لائن رپورٹ)

بھارتی وزیراعظم مودی کی نئی کابینہ میں شامل 56 میں سے 22 وزراء کے

خلاف مختلف مجرمانہ مقدمات درج ہیں جبکہ 16 وزراء اپنے خلاف اقدام قتل اور

فرقہ ورانہ ہم آہنگی کو تباہ کرنے جیسے سنگین جرائم کے مقدمات کا اعتراف بھی

کر چکے ہیں۔ بھارت میں انتخابی سرگرمیوں پر نگاہ رکھنے والی غیر حکومتی

تنظیم ایسوسی ایشن فار ڈیموکریٹک ریفارمز (اے ڈی آر) کی طرف سے جاری

کردہ ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے وزیراعظم نریندر مودی کی نئی کابینہ میں شامل

56 وزیروں کے حلفیہ بیانات کے تجزیے سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ ان میں

سے 22 یعنی 39 فیصد وزراء کے خلاف مجرمانہ نوعیت کے مختلف مقدمات درج

ہیں جبکہ 16 یعنی 29 فیصد وزیروں کے خلاف سنگین نوعیت کے جرائم میں

ملوث ہونے کے الزامات کے تحت مقدمات چل رہے ہیں۔ جن وزیر وں کے خلاف

مجرمانہ نوعیت کے مقدمات زیر التواء ہیں، ان میں وزیراعظم مودی کے بعد سب

سے طاقتور سمجھے جانے والے رہنما اور حکمران بھارتیہ جنتا پارٹی کے قومی

صدر اور موجودہ وزیر داخلہ امیت شاہ بھی شامل ہیں۔ ان کے خلاف چار مقدمات

درج ہیں۔ امیت شاہ کو گینگسٹر سہراب الدین شیخ اور اس کی اہلیہ کوثر بی اور

تلسی رام پرجاپتی کے ماورائے عدالت قتل کے معاملے میں 2010ء میں جیل بھی

جانا پڑا تھا۔ البتہ بعد میں انہیں اس مقدمے میں عدالت نے بری کردیا تھا۔ امیت شاہ

کے خلاف قتل، جبراً پیسہ اینٹھنے اور اغوا کے الزامات میں مقدمات درج کیے

گئے تھے۔ ان پر گجرات کے فسادات اور متعدد فرضی تصادم کے معاملات میں

ملوث ہونے کے بھی الزامات لگائے گئے تھے۔ عدالت نے امیت شاہ کو 2010ء

سے 2012ء تک گجرات میں داخل ہونے سے بھی روک دیا تھا۔ ستمبر 2012ء

میں سپریم کورٹ نے انہیں گجرات واپس لوٹنے کی اجازت دے دی تھی، جس کے

بعد انہوں نے صوبائی اسمبلی کے الیکشن میں حصہ لیا تھا اور کامیاب ہوئے اور

وزیر اعظم مودی کے دست راست اور سب سے بھروسہ مند ساتھی بن گئے تھے۔

مودی کابینہ میں شامل ایک اورنام پرتاپ چندر سارنگی کا ہے۔ ان دنوں سوشل

میڈیا پر ان کا کافی چرچا ہے۔ حکمران بی جے پی انہیں نہایت ایماندار اور سادگی

پسند رہنما کے طور پر پیش کر رہی ہے اور انہیں مشرقی صوبے اوڈیشا کا مودی

قرار دیا جاتا ہے۔ سارنگی نے اپنے حلف نامے میں اپنے خلاف سات مجرمانہ

مقدمات کا ذکر کیا ہے، جس میں لوگوں کو دھمکانے، مذہب کی بنیاد پر مختلف

فرقوں کے درمیان منافرت پیدا کرنے اور جبراً پیسہ وصول کرنے کے الزامات

بھی شامل ہیں۔ دراصل پرتاپ چندر سارنگی کا نام اس وقت شہ سرخیوں میں آیا

تھا، جب 1999ء میں اوڈیشا کے کیونجھر ضلع کے منوہر پور گاؤں میں ایک

آسٹریلوی مسیحی مشنری گراہم اسٹینس اور ان کے دو کم عمر بیٹوں کو ایک جیپ

میں زندہ جلا دیا گیا تھا۔ اس واردات کے وقت سارنگی شدت پسند ہندو تنظیم

بجرنگ دل کے صوبائی صدر تھے۔ مسیحی برادری نے قتل کے اس بھیانک

واقعے کے لیے بجرنگ دکو ذمہ دار ٹھہرایا تھا۔ اس معاملے میں سارنگی کا رول

مشتبہ پایا گیا تھا حالانکہ ان کے خلاف کوئی ٹھوس ثبوت سامنے نہ آنے کی وجہ

سے انہیں بری کر دیا گیا تھا۔ مائیکرو، سمال اور میڈیم سائز صنعتوں اور ماہی

پروری کے وزیر پرتاپ چندر سارنگی نے اپنی وزارت کا حلف لینے کے بعد میڈیا

——- امیت شاہ ———————— پرتاب چندر سارنگی ——-

سے بات چیت کرتے ہوئے کہا’’میرے خلاف درج تمام مقدمات جھوٹے ہیں۔ میں

نے کرپشن کیخلاف سنجیدگی سے مہم چلائی اور سماج میں ہونے والی ناانصافیوں

کے خلاف آواز بلند کی ہے۔ اسی وجہ سے میں بدعنوان افسروں کی نگاہ میں

دشمن بن گیا۔ میں کئی کیسز میں بری ہو چکا ہوں اور آنے والے دنوں میں بقیہ تمام

کیسوں میں بھی بری کردیا جاؤں گا۔ سارنگی بجرنگ دل کے علاوہ ایک اور شدت

پسند ہندو تنظیم وشوا ہندو پریشد سے بھی وابستہ رہے ہیں۔ وہ 2004ء اور 2009ء

میں اوڈیشا اسمبلی کے رکن بھی رہے ہیں۔ 2014ء میں بھی انہوں نے پارلیمانی

الیکشن لڑا تھا لیکن ہار گئے تھے۔ اے ڈی آر کے ایک سروے کے مطابق بھارت

،

میں اٹھانوے فیصد ووٹروں کا کہنا تھا مجرمانہ پس منظر والے افراد کو ملکی

پارلیمان یا صوبائی اسمبلیوں میں نہیں آنا چاہیے۔ تاہم سبھی سیاسی جماعتیں اپنے

سیاسی فائدے کے لیے ایسے افراد کو اپنے امیدوار بناتی ہیں۔ اس طرح قانون

توڑنے والے مبینہ ملزمان ہی قانون ساز بن جاتے ہیں۔

Leave a Reply