Jaswant Singh

قائد اعظم پر کتاب لکھنے کی پاداش میں بی جے پی بدر جسونت سنگھ چل بسے

Spread peace & love
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جودھ پورانڈیا( جے ٹی این آن لائن مانیٹرنگ ڈیسک ) قائداعظم کتاب جسونت سنگھ

بھارت کے سابق وزیر خارجہ، وزیر دفاع جسونت سنگھ کا 82 سال کی عمر

میں حرکت قلب بند ہونے سے انتقال ہو گیا، جن کی آخری رسومات ریاست

راجستھان کے ضلع جودھ پور میں ان کے فارم ہاؤس میں ادا کر دی گئیں، کرونا

وباء کے باعث چہرے پر ماسک پہننے اور معاشرتی فاصلے کو برقرار رکھتے

ہوئے درجنوں کنبہ کے افراد اور قریبی دوست، اور ان کے بیٹے منویندر سنگھ

آخری رسومات کے موقع پر موجود تھے۔ اس موقع پر بھارتی فوج کی جانب

سے انجہانی کی خدمات پر انہیں خراج تحسین پیش کرنے کیلئے پھولوں کی

چادر بھی چڑھائی گئی۔

===: یہ بھی پڑھیں، سابق بھارتی صدر پرناب مکھرجی کا کرونا سے انتقال
————————————————————————-

میڈیا رپورٹ کے مطابق جسونت سنگھ سنہ 2014ء میں اپنے گھر میں گِر پڑے

تھے اور اس کے بعد انہیں آرمی ہسپتال میں داخل کیا گیا تھا۔ اس کے بعد سے

وہ گھر اور ہسپتال کا چکر کاٹتے رہے۔ انہیں رواں سال جون میں ایک بار پھر

ہسپتال میں داخل کیا گیا-آرمی ہسپتال ( ریسرچ اینڈ ریفرل ) کے ڈاکٹرز کے

مطابق 82 سالہ جسونت سنگھ اتوار کی صبح 6 بجکر 55 منٹ پر چل بسے۔

===: سابق وزیراعظم اٹل بہاری واجپئی کے قریبی ساتھی تھے

سابق وزیراعظم اٹل بہاری واجپئی کے قریبی ساتھی، جسونت سنگھ کا طویل اور

ممتاز سیاسی کیریئر رہا، جس نے ہندوستان کے وزیر خارجہ، دفاع اور وزیر

خزانہ کی حیثیت سے خدمات انجام دیں۔ وہ ملک کے سب سے طویل عرصے تک

کام کرنیوالے پارلیمنٹیرینز میں سے ایک تھے۔ جسونت سنگھ نے اجمیر کے میو

کالج میں تعلیم حاصل کی اور 1950ء اور 60 کی دہائی میں بھارتی فوج میں

سینٹرل انڈیا ہارس رجمنٹ میں خدمات سرانجام دیں اور بعد میں استعفیٰ دے کر

سیاست میں آ گئے۔

===: بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے ان کی موت پر دُکھ کا اظہار

بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے ان کی موت پر دُکھ کا اظہار کیا اور انھیں

مختلف سماجی اور سیاسی نظریے والے شخص کے طور پر یاد کیا۔ نریندر

مودی نے مسٹر سنگھ کی موت پر صدمے کا اظہار کیا اور کہا جسونت سنگھ

نے پہلے ایک سپاہی کی حیثیت سے فوج میں خدمات انجام دیں جبکہ انکی سیاسی

جدوجہد کا عرصہ بھی بہت طویل ہے۔

===: آبائی شہر جسول، آسیان سے بطور آزاد امیدوار پہلا انتخاب لڑا

جسونت سنگھ نے اپنے آبائی شہر جسول کے قریب، آسیان سے آزاد امیدوار کی

حیثیت سے اپنا پہلا انتخاب لڑا تھا۔ ان کا سیاسی کیریئر 1980 کے دہائی میں

قومی سیاست میں آنے کے بعد، چار لوک سبھا انتخابات جیتنے اور راجیہ سبھا

کے پانچ سالہ رکن پارلیمنٹ بننے کے بعد شروع ہوا۔ اہم موڑ اس وقت آیا جب

انھوں نے 1970 کی دہائی میں اٹل بہاری واجپائی سے ملاقات کی۔ ان کی

دوستی زندگی بھر قائم رہی۔

===: جسونت سنگھ کو ادب سے خاص دلچسپی تھی

اٹل بہاری واجپائی اور جسونت سنگھ کو ادب سے خاص دلچسپی تھی۔ جسونت

سنگھ کے بیٹے مانویندر نے اپنے ایک مضمون میں لکھا کہ ان کے والد کو اکثر

“اٹل جی کا ہنومان” بھی کہا کرتے تھے۔

وزیر دفاع راجناتھ سنگھ ، بی جے پی رہنما رام مادھاو، راجستھان کے وزیر

اعلی اشوک گہلوت سمیت سوشل میڈیا پر بہت سے افراد نے تعزیت کے ٹویٹ

کیے۔

===: جسونت سنگھ کو 2009 میں بی جے پی سے 6 سال کیلئے نکال دیا گیا

جسونت سنگھ کو پاکستان کے بانی محمد علی جناح پر کتاب لکھنے اور ان کی

تعریف کرنے پر سنہ 2009 میں بی جے پی سے چھ سال کے لیے نکال دیا گیا

تھا لیکن پھر بعد میں انھیں پارٹی میں شامل کر لیا گیا۔ اسی دوران انھوں نے آزاد

امیدوار کے طور پر اپنے آبائی انتخابی علاقے سے انتخابات میں شرکت کی تھی

اور ٹائمز آف انڈیا کی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان کے معروف سیاست دان

اور حروں کے روحانی پیشوا پیر پگاڑا نے بارمیڑ میں اپنے پیروکاروں سے

جسونت سنگھ کو ووٹ دینے کی اپیل کی تھی۔

===: حروں کے روحانی پیشوا پیر پگاڑا کی اپیل

باڑ میر میں اس وقت تقریباً ڈھائی لاکھ سندھی مسلم ووٹرز تھے۔ جسونت سنگھ

کے بیٹے نے اخبار کو بتایا تھا کہ اس برادری کے لوگوں نے انھیں یہ خبر دی

تھی کہ ان کے پیر صاحب نے انھیں ان کے والد یعنی جسونت سنگھ کو ووٹ

دینے کے لیے کہا ہے۔

قارئین : ہماری کاوش پسند آئے تو شیئر ، اپڈیٹ رہنے کیلئے فالو کریں

قائداعظم کتاب جسونت سنگھ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply