فیصل آباد چیمبر نے پالیسی سازی میں ہمیشہ کلیدی کردار ادا کیا ، علمدار حسین

Spread the love

فیصل آباد چیمبر آف کامرس اینڈانڈسٹری کے سات ہزار ممبروں کا تعلق مختلف شعبوں سے ہے جن کو مجموعی طور پر سو ٹریڈز میں تقسیم کیا گیا ہے تاکہ ان کے مخصوص مسائل کو جامع حکمت عملی کا حصہ بنایا جاسکے۔ یہ بات فیصل آباد چیمبر آف کامرس اینڈانڈسٹری کے صدر سید ضیاءعلمدار حسین نے آج فیصل آباد چیمبر کی قائمہ کمیٹی برائے لائزن ود ٹریڈ ایسوسی ایشنز کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ اس اجلاس میں خاص طور پر ایمبرائیڈری ایسوسی ایشن کے عہدیداروں نے بھی شرکت کی۔ انہوں نے بتایا کہ فیصل آباد چیمبر کا شمار ملک کے تین بڑے اور اہم چیمبروں میں ہوتا ہے جو ملکی معیشت کے استحکام کے ساتھ ساتھ اپنے ممبروں کے مسائل کے حل کیلئے بھی کوشاں ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پالیسی سازی میں فیصل آباد چیمبر نے ہمیشہ کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ اس وقت نافذ العمل ٹیکسٹائل پالیسی بھی فیصل آباد چیمبر کی تیار کر دہ ہے جبکہ ہر سال بجٹ کی تیاری کیلئے بھی سفارشات دینے کا سلسلہ جاری ہے۔ انہوں نے بتایا کہ بزنس کمیونٹی کے مسائل کے حل کرنے کیلئے اعلیٰ سرکاری شخصیتیں باقاعدگی سے فیصل آباد چیمبر آتی رہتی ہیں جن سے براہ راست رابطوں کے ذریعے ممبران کے جائز مسائل کو حل کرانے کی کوشش کی جاتی ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ ان کے دور میں وزیر خزانہ اسد عمر ، صنعت و تجارت اور سرمایہ کاری بارے وزیر اعظم کے مشیر رزاق داﺅد ، وفاقی وزیر ریلویز شیخ رشید احمدکے علاوہ کئی صوبائی وزراءاور غیر ملکی سفیر بھی فیصل آباد چیمبر آچکے ہیں جن کی وجہ سے تاجر اور صنعت کار برادری کو درپیش بیشتر مسائل حل کرلئے گئے ہیں جبکہ باقی کو حل کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔ انہوں نے فیصل آباد شہر کی مجموعی ترقی میں بھی فیصل آباد چیمبر کے کردار کو سراہا اور بتایا کہ مقامی انتظامیہ کے تعاون سے اب تک کھیلوں کے چار بڑے ایونٹ کرائے جا چکے ہیںجبکہ فیصل آباد ائیر پورٹ کی توسیع اور فیصل آباد سے کراچی کیلئے براہ راست تیز رفتار مسافر اور گڈز ٹرینیں چلانے پر بھی کام جاری ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس وقت بھی تاجروں کی بڑی تعداد فیصل آباد چیمبر کی ممبر نہیں جس کی وجہ سے نہ صرف ان کے مسائل حل نہیں ہورہے بلکہ اُن کو حکومتی سطح تک رسائی بھی نہیں مل رہی ۔ انہوں نے ایمبرائیڈری ایسوسی ایشن سے درخواست کی کہ وہ اپنے زیادہ سے زیادہ ممبروں کو فیصل آباد چیمبر کا ممبر بننے کی ترغیب دیں تاکہ نہ صرف فیصل آباد چیمبر کی طاقت میں اضافہ ہو بلکہ ان کے جائز مسائل کو بھی حل کرایا جا سکے۔ ایسوسی ایشن کے چیئرمین حاجی محمد ارشد نے انہیں مدعو کرنے پر فیصل آباد چیمبر کا شکریہ ادا کیا اور بتایا کہ اس وقت یہ شعبہ ٹیکسٹائل کا ایک اہم شعبہ بن چکا ہے جس میں کام کرنے والے مزدوروں کی تعداد ایک لاکھ سے زائد ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ڈالر کی قیمت میں اضافہ سے اُن کی درآمدات مہنگی ہو گئی ہیں اور مالی مسائل کی وجہ سے شہر کی چالیس فیصد صنعتیں بند پڑی ہیں۔ اس طرح جہاں یہ انڈسٹری کو نقصان ہور ہا ہے وہاں مزدوروں کا روزگار بھی متاثر ہو رہا ہے۔ چیئرمین قائمہ کمیٹی رانا سکندر اعظم خاں نے بتایا کہ چیمبر اس شہر کی تاجر برادری کا مشترکہ پلیٹ فارم ہے جہاں سے اٹھنے والی آواز کو وفاقی ، صوبائی اور مقامی سطح پر انتہائی توجہ سے سنا جاتا ہے اس لئے ایمبرائیڈری سے تعلق رکھنے والے تاجروں کو بھی اس کا ممبر بننا چاہیے تاکہ ان کے مسائل کو حل کرایا جا سکے۔ آخر میں چوہدری طلعت محمود نے ممبروں کا شکریہ ادا کیا جبکہ اس تقریب میں رانا اکرام اللہ، مرزا محمد افضل مغل، ثناءاللہ خاں نیازی اور ملک اسامہ سعید اعوان نے بھی شرکت کی۔

Leave a Reply