Facebook logo

عالمگیرکرونا وائرس وباء کے خلاف جنگ میں فیس بک پیش پیش

Spread peace & love
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

لندن(جے ٹی آن لائن ٹیکنالوجی نیوز) فیس بک پیش پیش

نوول کرونا وائرس کوویڈ۔19 سے متعلق غلط خبریں اور معلومات کےخلاف مہم کے تحت ،فیس نے ایک نیا ٹول متعارف کیا ہے۔

——————————————————————————
یہ بھی پڑھیں: سماجی رابطوں کا بڑا پلیٹ فارم ٹوئٹر بھی فیس بک کی راہ پر
——————————————————————————

فیس بک پر اگر کوئی کرونا وائرس سے متعلق، غلط معلومات کو لائیک یا تبصرہ کرتا ہے، تو اسے خبردار کیا جائے گا۔ سابقہ وقت میں بھی کئے گئے، لائیکس اور تبصروں کےخلاف کاروائی کرتے ہوئے مواد کو پیج سے نکال دیا جائے گا، اور تبصرہ کرنےوالے صارف کو متنبہ کیا جائےگا۔ یہ ٹول، نیوزفیڈ پر نظر آئے گا، اور اس میں عالمی ادارہ صحت، کے ایسے لنکس دیئے جائیں گے، جس میں کرونا سے متعلق توہمات کو مسترد کیا گیا ہے۔ فیس بک کی جانب سے قبل ازیں بھی ایسا کیا تھا تھا، جبکہ بوگس پیجز کو لائک کرنےوالوں کو خبردار کیا جاتا تھا۔ فیس بک کی جانب سے کرونا وائرس کی وبا سے نمٹنے کیلئے متعدد اقدامات کیے جارہے ہیں۔

تلنگانہ میں ہوا کرونا کی مصدقہ خبروں کیلئے اردو میں چیٹ بوٹ کا آغاز

بھارت کی ریاست تلنگانہ کی حکومت کی جانب سے نوول کرونا وائرس کوویڈا۔19 وباء سے متعلق، مصدقہ خبروں کی فراہمی کیلئے واٹس ایپ پر اردو زبان میں چیٹ بوٹ شروع کیا گیا ہے۔

قارئین : خبر اچھی لگے تو لائیک ضرور کریں

ریاست میں کرونا وائرس کی روک تھام کیلئے حکومت کی جانب سے متعدد اقدامات کئے جارہے ہیں، جبکہ اس سلسلہ میں لوگوں تک صحیح خبر اور معلومات پہنچانے کیلئے بھی حکومت سنجیدہ ہے۔ قبل ازیں کرونا وائرس کے تعلق سے عوام کو مصدقہ اطلاعات کی فراہمی کیلئے تیلگو اور انگریزی میں واٹس ایپ، چیٹ بوٹ کا آغاز کیا گیا تھا، تاہم اب یہ سہولت اردو زبان میں بھی دستیاب ہو گئی ہے۔

اپ ڈیٹ رہنے کیلئے : ہمیں سوشل میڈیا پر فالو کریں

محکمہ انفارمیشن ٹیکنالوجی کے پرنسپل سیکرٹری جیش رنجن کے مطابق، اردو میں اس سہولت کی عدم دستیابی کی شکایات موصول ہوئی تھیں، جبکہ ریا ست میں اردو کو دوسری سرکاری زبان کا درجہ حاصل ہے۔ اس مسئلہ کی یکسوئی کرتے ہوئے، حکومت نے اردو میں بھی وائٹس ایپ چیٹ بوٹ کا آغاز کیا ہے۔

فیس بک پیش پیش

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply