Urdu Adab jtnonline2 167

فکر جب انقلاب دیکھے گی —– روشنی بے حساب دیکھے گی

( تحریر: —– سعید اختر) فکرانقلاب روشنی بے حساب

شعری مجموعہ: کاسۂ دل —– مصنف : ابرار عقیل

ابرار عقیل ڈیرہ اسماعیل خان کا وہ شاعر ہے جس کو سرائیکی اور اردو پر یکساں عبور حاصل ہے. مصنف کے پہلے شعری مجموعے ” مَچ ” نے سرائیکی شاعری میں نمایاں شہرت حاصل کی- اب ان کی اردو غزلوں کا پہلا مجموعہ ” کاسۂ دل ” اور مجموعی طور پر دوسرا شعری مجموعہ قارئین میں پزیرائی کے مراحل طے کررہا ہے-

—————————————————————————-
یہ بھی پڑھیئے : گفتگو اچھی لگی ذوق نظر اچھا لگا
—————————————————————————-

زیرِ نظر مجموعہ میں خواب، شجر، پرند، پھول، روشنی، پیاس، ثمر، دریا، جنوں، در، دیوار جیسی علامتیں اس کے تخیلات کی تجسیم کرتی نظر آتی ہیں- اسے طبع آزمائی کیلئے نسبتاً مانوس اور مترنم بحریں پسند ہیں- ” وہ رواں زمینوں میں رواں دواں سُخن کا مسافر ہے – – – وہ سہولت سے شعر کہتا ہے اور اپنے قارئین کو بھی آسانی میں رکھتا ھے” ( ڈاکٹر وحید احمد )

ایک بہادر اہلِ قلم

پروفیسر شہاب صفدر کاسۂ دل کے متعلق رقم طراز ہیں کہ مصنف کو سچ اور حق کا پورا شعور ہے- وہ ایک بہادر اہلِ قلم کی طرح حق کا ساتھ دینے کیلئے ہر وقت تیار نظر آتا ہے-

شاعری خدا اور بندے دونوں کیلئے محبت نامہ

طاہر شیرازی فرما تے ہیں ابرار عقیل فقیر منش شاعر ہے، اور ایک فقیر حقیقت کو تہہ در تہہ جاننے کے باوجود خود سیدھا سادہ اور پیچیدگیوں سے مبرا نظر آتا ہے- کاسۂ دل میں اس کو ایک فقیر منش شاعر کے روپ میں دیکھا جا سکتا ہے- ‘اس کی شاعری درویشی ہے – – – اس کی شاعری خدا اور بندے دونوں کیلئے محبت نامہ ہے-

لہجہ ترش نہیں

اردو کے معروف شاعر خورشید ربانی بھی کم و بیش اس سے ملتی جلتی رائے رکھتے ہیں- ان کے خیال میں ” ابرار عقیل نے زندگی کے تلخ تجربات اور مشاہدات کے بیان میں بھی اپنا لہجہ ترش نہیں ہونے دیا”-

غزلیں رواں دواں دریا جیسی

جناب عباس تابش کہتے ہیں ابرار کی غزلیں ڈھلانوں سے اتر کر کشادہ میدان میں پرسکون ہو کر رواں دواں دریا جیسی ہیں، وہ پُرہنگام اور چونکا دینے والے انداز میں سُخن طراز ہونے کے بجائے ملائم اور معتدل انداز سے اپنے خیالات کو اشعار میں ڈھالتا ہے- وہ غزل میں تجربے کرنے کا قائل نہیں، وہ روایت سے بڑے سلیقے کیساتھ استفادہ کرتا ہے. اس کے اشعار صناعِ سُخن سے مزین ہیں، مگر تصنع سے پاک ہیں- ” مضبوط مصرعوں کی بُنت اور تازہ کاری، ایسے وصف ہیں جو قاری کا دامنِ دل کھینچتے ہیں-”

Ibrab Aqill،Kasa e Dil

نمونے کے طور پر کاسۂ دل سے ابرار عقیل کے چند اشعار آپ کے ذوق کی تسکین کیلئے پیشِ خدمت ہیں-

شاید کوئی پرند کہیں قتل ہــو گیا — اُڑتے ہوئے ملے ہیں کئی پر ھوا کیساتھ
کچھ حقیقت بھی ہے فسانے میں — کچھ فسانہ بھی ہے حقیقت میں
تجھ کو دیکھا تو خود کو دیکھ لیا — یہ سہــولت تو ہے محبت میں
فقیہہِ شہر ہے مصروف فرقہ بندی میں — کسی بھی سمت سے اہلِ نظر نہیں اُٹھتے
ثمر کے واسطے ہر اک شجر نے — ہوا میں ہاتھ پھیلایا ہـوا ہے
ہم تو فقیر لوگ ہیں اور عشق کی نماز — پڑھتے ہیں تیری یاد میں دل کی ازان پر
صبح کی کھڑکی کھلنے پر یہ راز کھلا — رات کے دل میں اُترا تِیر اجالے کا
فکر جب انقلاب دیکھے گی — روشنی بے حساب دیکھے گی
شبنم گل کے پہلو میں سو جائے گی — پھول مگر انگڑائی لے کر جاگیں گے
کتنے دیوں کو روشنی خیرات ہـو گئی — خیمے میں جا کے جب وہ بجھانے لگے چراغ
پیاس کی تکریم کو پھر ایک دن — خالی مشکیزہ بھی گھر رکھنا پڑا
جو دوسروں کے خواب سنبھالے چلے گئے — کوئی تو اُن کے درد شمــــارے سنبھالتے
حضرتِ خضر کُوئے فانی میں — عرصۂ جاوداں کی بات کریں
بھر گئی ہے فضا پرندوں سے — کیا شکاری مچان چھوڑ گیا
مشکلیں فرقت کی کم ہو جائیں تو — امتحاں کو اور پرچہ بھیج دے
شجر کچھ ایسے بھی ہیں عقیل کہ جو — ہرے بھرے ہیں بہت اور ثمر نہیں رکھتے
کتنے پتوں نے بکھرنا ہے، بتا دیتا ہے — تیز جھونکا جو کبھی شاخ ہلا دیتا ہے
ایک دن مَیں بھی سرِ دشتِ جنوں جا پہنچا — لیکن ایک عمر مرے پاؤں کے چھالے نہ گئے
آ گیا ہے راس دریا پار کا موسم ہمیں — رابطے تعمیر کرنے کا ہنر بھی آ گیا
ہماری روح تھی بے چین اور سکوں کیلئے — تمہاری یاد کے گوشے میں اعتکاف کیا

”مجموعی طور پر ہم ابرار عقیل کو ایسا غزل گو شاعر کہہ سکتے ہیں جس کی سوچ اپنی ذات، سماج، اور حالات کی پوری طرح عکاسی کرتی ہے” (شہاب صفدر)

فکر جب انقلاب دیکھے گی — روشنی بے حساب دیکھے گی

ہمارے بچپن اور لڑکپن کا کچھ عرصہ محترم جناب ابرار عقیل کیساتھ گُزرا ہے، بہت سی یادیں دل و دماغ میں پنہاں ہیں- یقیناََ انہیں بھی سب کچھ یاد ہوگا کہ کیسے انہوں نے ایک بڑے بھائی کی طرح ہماری ہر مقام پر رہنمائی کی- مگر ایک عرصہ ہوا ان سے ملاقات ہی نہیں ہو سکی، روزگار اور معاش کے سلسلے میں 23 سال پردیس میں گُزار چکے، اور یہ معلوم نہیں مزید کتنا عرصہ حیات یونہی گُزارنا ہے-

ایسا کیوں —– ؟

فیس بُک پر اپنے محترم اُستاد جناب سعید اختر کی مذکورہ تحریر پڑھی تو جی چاہا اسے اپنی ویب سائٹ کی بھی زینت بناؤں تاکہ بھائی ابرار عقیل اور اپنے اُن دوستوں، بڑوں اور بزرگوں سے تجدیدِ دوستی و تعلق کر لوں – ایسا کیوں ؟ یہ ایک طویل داستاں ہے جس سے تھوڑا بہت محترم طاہر شیرازی صاحب آگاہ ہیں-
( تنویر بابر)

ایسی ہی منفرد اپ ڈیٹس کیلئے : ہمیں سوشل میڈیا پر فالو کریں

فکرانقلاب روشنی بے حساب
فکرانقلاب روشنی بے حساب

Leave a Reply