f a t f , jtnonline 122

فٹیف پاکستان کی کارکردگی سے مطمئن، دہشتگردی کیخلاف اقدامات کی رپورٹ بھی پیش

اسلا م آباد (مانیٹرنگ ڈیسک ) ایف اے ٹی ایف نے پاکستان کی نئی رسک

اسسمنٹ اسٹڈی پر اظہار اطمینان کردیا،پاکستان سے پوچھے گئے اضافی سوالوں

کے جواب کے سیشن میں پاکستانی وفد نے تمام ارکان کے سوالوں کے جواب

دیئے،پاکستانی وفدنے بھارتی وفدکے سوالات کے جوابات بھی دیئے اور

دہشتگردی کیخلاف اٹھائے گئے اقدامات کی رپورٹ پیش کی ۔پیر کو پیرس میں

فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کااجلاس ہوا جس میں پاکستان کی جانب سے منی

لانڈرنگ اور دہشت گردوں کو سرمائے کی روک تھام کے حوالے سے پیش رفت

پر اطمنان کا اظہار کیا گیا ہے۔ایف اے ٹی ایف کا اجلاس پیرس میں ہوا جس میں

وزیر اقتصادی امور حماد اظہر کی قیادت میں پاکستانی وفدشرکت کررہا ہے۔وفد

نے اجلاس میں منی لانڈرنگ اور دہشت گردوں کو سرمائے کی روک تھام کیلئے

اٹھائے گئے اقدامات پرروشنی ڈالی اورآگاہ کیا کہ پاکستان نے27میں سے20نکات

پرمثبت پیش رفت کی ہے۔چین,ترکی اور ملیشیا نے پاکستان کی طرف سیاٹھائے

گئے اقدامات کو سراہا ہے۔اجلاس سے متعلق حتمی رپورٹ18اکتوبرکوجاری ہوگی

۔جبکہ وزارت خزانہ کے ذرائع کے مطابق پاکستان اورایف اے ٹی ایف کے

درمیان اہم مذاکرات ہوئے اجلاس میں پاکستان کی رپورٹ کاجائزہ لیاگیا ،پاکستان

کی نئی رسک اسسمنٹ اسٹڈی پرایف اے ٹی ایف نے اظہار اطمینان کیا ۔بعدازاں

پاکستان سے پوچھے گئے اضافی سوالوں کے جواب کاسیشن ہو جس میں پاکستانی

وفدکے تمام ارکانے سوالوں کے جواب دیئے،پاکستانی وفدنے بھارتی وفدکے

سوالات کے جوابات بھی دیئے ،پاکستان نے دہشتگردی کیخلاف رپورٹ پیش کی ۔

پاکستان میں ایف ٹی ایف کی 36 میں سے 9 سفارشات پر 100 فیصد جبکہ 27 پر

جزوی عمل درآمد کیا جا چکا ہے۔ دہشت گردوں کی فنڈنگ ختم کر دی گئی ہے

جبکہ تمام کالعدم تنظیموں کے بینک اکاؤنٹس مجمند کر کے اثاثے ضبط کر دئیے

گئے ہیں۔فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کے اجلاس میںپاکستان سے متعلق ایشیا

پیسفک گروپ کی رپورٹ کی توثیق کردی،چین، ترکی اور ملائیشیا نے پاکستان

کے اقدامات کو سراہامیں فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کا اجلاس پیر کو بھی جاری

رہا جس میں پاکستانی وفد کی سربراہی وزیر اقتصادی امور حماد اظہر کررہے

تھے۔وزارت خزانہ کے ذرائع کے مطابق ایف اے ٹی ایف نے پاکستان کی نئی

نیشنل رسک اسیسمنٹ کا جائزہ لیا، ابتدائی طور پر پاکستان کے اقدامات کو تسلی

بخش قرار دیا گیا ہے تاہم پاکستان کی طرف سے ایکشن پلان پرعملدرآمد کے

نکات پر ابھی مزید 2 دن غور کیا جائے گا۔پاکستان نے نئی نیشنل رسک اسیسمنٹ

اسٹڈی مکمل کرکے 150 صفحات کی رپورٹ بھجوائی تھی، جس میں دہشت گردی

کی مالی معاونت اور دہشت گردی کے خطرات کے حوالے سے 12 سے زائد

صفحات شامل ہیں۔ رپورٹ میں کالعدم تنظیموں کے خلاف کارروائیوں اور استغاثہ

سے متعلق آگاہ کیا گیا ہے۔ ایف اے ٹی ایف پاکستان کے حالیہ اقدامات سے مطمئن

ہوئی تو اسے ’گرے ایریا‘ کی فہرست سے خارج کرنے کی کارروائی شروع ہو

سکتی ہے۔ ناکافی پیش رفت کی وجہ سے پاکستان کے بارے اگلی سطح کے

اقدامات لینے پر غور کیا جائے گا۔ پاکستان کو ’گرے لسٹ‘ سے نکلنے کیلئے 12

ارکان کی حمایت درکار ہوگی۔ ۔ ذرائع نے بتایا کہ رپورٹ کے مطابق پاکستان نے

40 میں سے 36 اہداف میں پیش رفت کی۔رپورٹ میں دہشت گردی اور کرپشن

کیخلاف کوششوں کا اعتراف کرلیاگیا ،ممنوعہ تنظیموں کے اثاثے منجمند یا ضبط

کرنے پر زور دیا گیا ۔ذرائع کے مطابق منی لانڈرنگ میں ملوث بزنس، پیشوں کی

نگرانی موئر بنانے پر زور دیا گیا ۔منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی معاونت

کیخلاف اقدامات کا بھی ذکر کیا گیا ۔قانونی نظام میں شفافیت، صارفین کا مکمل

فنانشل ڈیٹا اکھٹا کرنے کا مطالبہ کیاگیا ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں