فون کالز پر ٹیکس

فون کالز،ایس ایم ایس، انٹرنیٹ پر ٹیکس لگانے کا فیصلہ واپس

Spread the love

فون کالز پر ٹیکس

اسلام آباد (جے ٹی این آن لائن نیوز) وفاقی وزیر خزانہ شوکت ترین نے وزیر اعظم اور کابینہ کی

مخالفت کے بعد موبائل کالز، انٹرنیٹ ڈیٹا اور ایس ایم ایس پر ٹیکس لگانے کی تجویز واپس لینے کا

اعلان کرتے ہوئے کہا ہے 40 لاکھ غریب ترین لوگوں کو بلاسود قرضے دئیے جائینگے ،کمرشل

بینکوں سے سرمایہ کاری کروا رہے ہیں، ضمانت حکو مت کی ہوگی، 70 سال سے چھوٹے کاشت

کار کو کچھ نہیں ملا،غریب کسان کو پانچ لاکھ روپے تک قرض ملے گا ،حکومت کی چادر چھوٹی

ہے ،سب کوآسانیاں نہیں دے سکتے، مہنگائی کی شرح 10 فیصد سے کم رکھنے کی کوشش کریں

گے،صحت کارڈ ایک ہیلتھ انشورنس ہے ،اس کا دائرہ مزید بڑھائیں گے، آئی ایم ایف کیساتھ مذاکرات

جاری ہیں ،چھٹا جائزہ جولا ئی تک چلے گا، ستمبر تک معاملات طے ہوجائیں گے، گھبرائیں نہیں

،رواں سال ٹیکس وصولیاں 4700 ارب روپے تک پہنچ جائیں گی، پاکستان غذائی قلت ( فوڈ ڈیفیسٹ)

کا شکار ملک بن چکاہے، وزیر اعظم کی ہدایت پر زراعت پر حکومت مراعات دے رہی ہے اور مزید

دینی پڑی تو دیں گے،آئندہ 3 سے 6 ماہ میں پینشز میں بڑی اصلاحات لارہے ہیں، 2013ء میں اسحاق

ڈار نے گردشی قرضہ ختم کردیا تھا،تاہم بعد میں پھربڑھنا شروع ہوا، اگلے سال میں گردشی قرضے

بڑھنے نہیں دیں گے،برآمدات بڑھا کر ہمیں ڈالر کمانے ہیں، آئندہ مالی سال 500 ارب روپے اضافی

ٹیکس جمع کریں گے ، بجلی اور گیس کے بلوں کے ذریعے نان فائلر تک پہنچ جائیں گے،بڑے

ریٹیلرز کی 1500 ارب کی سیل ہے، تمام بڑے سٹورز پر سیلز ٹیکس لگیں گے، صارفین پکی پرچی

لیں گے تو انعام دیں گے، ہم دالیں، گندم اور چینی بھی امپورٹ کررہے ہیں، اپنی فصلوں پر توجہ نہیں

دی اب اس پر توجہ دیں گے ،ہم منی بجٹ نہیں لائیں گے، انکم ٹیکس دینے والوں پر مزید بوجھ نہیں

ڈالیں گے، ڈویلپنگ ملکوں میں ان ڈائریکٹر ٹیکس بڑھتے ہیں ،پرائیویٹ سیکٹر کیساتھ مل کر کام

کریں گے ، جب تک سرمایہ کاری نہیں ہوگی تو معیشت کیسے بڑھے گی؟، فی الوقت ہماری سیونگز

کی شرح 15 سے 16 فیصد ہے ، ہمیں اسے بڑھانا ہوگا، سعودی عرب کیساتھ موخر ادائیگیوں پر تیل

کی خریداری کے حوالے سے بات چیت مکمل ہوگئی، توقع ہے عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں

کمی ہونا شروع ہوجائیگی۔ہفتہ کو یہاں وفاقی وزیر خسرو بختیار ، مشیر تجارت عبد الرزا ق داؤد ،

معاون خصوصی ثانیہ نشتر و دیگر معاشی ٹیم کے ارکان کے ہمراہ پوسٹ بجٹ پریس کانفرنس کرتے

ہوئے انہوں نے کہا ہر کام اﷲ کے فضل سے ہوتا ہے، اور اﷲ ہی نے ہمیں وسیلہ بنایا اور ہم نے

گروتھ بجٹ پیش کیا، معاشی بہتری کے اثرات عام آدمی تک پہنچیں گے۔ اخوت پروگرام نے ڈیڑھ سو

ارب روپے کے چھوٹے قرضے دئیے ہیں جس سے ریکوری 99 فیصد تک ہوئی۔ حکومت کے پاس

اتنی گنجائش نہیں کہ ایک سال میں 500 سے 600 ارب روپے دے، عوام کو قرضے ہول سیل

فنانسنگ، کمر شل بینکوں سے دلارہے ہیں۔ کمرشل بینک جب غریب عوام کو قرضے دیں گے تو ہم

انہیں ضمانت دیں گے کہ یہ پیسے واپس آئیں گے۔انہوں نے بتایا ثانیہ نشتر ہر خاندان کی آمدن کے

حوالے سے ایک سروے کر رہی ہیں، اس کے مطابق یہ قرضے دیے جائیں گے، غریب کیساتھ

سیاست نہیں کرنی چاہے وہ ملک کے کسی بھی کونے میں ہو۔ کاشتکار کو ڈیڑھ لاکھ روپے ہر فصل

کا دیں گے، ٹریکٹر لیز کرنے کے 2 لاکھ روپے دیں گے اور شہری علاقوں میں 5 لاکھ روپے تک کا

بلا سود قرضہ دیں گے تاکہ وہ کاروبار کرسکے۔ہم ہر خاندان کو اپنی چھت دیں گے، اس کی حد 20

لاکھ روپے تک ہے کیونکہ شہری علاقوں میں زمینیں مہنگی ہیں، اس کے علاوہ جب غریب کے گھر

کوئی بیمار ہوجاتا ہے تو انہیں علاج کیلئے پیسوں کے مسائل کا سامنا ہوتا ہے اور انہیں اپنی چیزیں

بیچنی پڑ جاتی ہیں تاہم صحت کارڈ سے ان کے مسائل کا حل ہوگا۔ ہم چاہتے ہیں اِسکل ڈیولپمنٹ پر

کام کریں تاکہ غریبوں کو روزگار مل سکے۔ حکومت نے معاشی نمو کو سب تک منتقل کیا ہے اور

اس بجٹ میں پی ایس ڈی پی، صنعتوں زراعت وغیرہ سب کو مراعات دی ہیں تاہم اب ہمارا چیلنج

مستحکم نمو لانا ہے۔وزیر خزانہ نے کہا ملک کے قابل اکانومسٹ کو اکٹھا کرکے میں ان سے یہ سوال

کیا تھا کہ ہمارے ملک کی مستحکم نمو کیوں نہیں ہوتی تو انہوں نے کہا جب آپ کی معیشت میں طلب

بڑھتی ہے تو درآمد بڑھتی ہے اور برآمد اتنی نہیں بڑھتی جس سے ڈالر کم ہوتے ہیں اور وہ آپ

چھاپ نہیں سکتے تو آپ کی مالیاتی صورتحال کمزور ہوجاتی ہے اور آپ کو آئی ایم ایف کے پاس

جانا پڑتا ہے۔وزیر خزانہ نے کہا اسی وجہ سے ہم ہر وقت آئی ایم ایف کے پاس جاتے ہیں، ہمیں ڈالر

کمانے ہیں جو ہم برآمدات سے ہی کماسکتے ہیں۔ ہماری برآمدات جی ڈی پی کا 8 فیصد ہے، کوشش

ہے آئندہ 8 سے 10 سال کے درمیان اسے 20 فیصد تک لے جائیں۔اس کے علاوہ ماہرین نے کہا تھا

ہمیں اپنی سیونگز بڑھانی ہوں گی اس کے ذریعے سرمایہ کاری ہوگی۔ جب تک سرمایہ کاری نہیں

ہوگی تو معیشت کیسے بڑھے گی، فی الوقت ہماری سیونگز کی شرح 15 سے 16 فیصد ہے اور ہمیں

اسے بڑھانا ہوگا۔ ہمارے پاس ریونیو نہیں، ریونیو ایف بی آر اور صوبے اکٹھا کرتے ہیں، ہم نے اس

پر کافی چیلنجنگ ٹاسک دیا ہے کہ وہ 47 کھرب تک اکٹھا کریں گے۔ کہا جارہا ہے یہ کیسے ہوگا، ہم

یہ پورا کرلیں گے، جیسا خان صاحب کہتے ہیں، گھبرانے کی ضرورت نہیں ۔ ہم نے اسے آئندہ سال

کیلئے 58 کھرب کردیا ہے، تو لوگ کہہ رہے ہیں کہ یہ رسک ہے، ہم نے بہت لوگوں کی معلومات حا

صل کرلی ہیں جو ٹیکس نہیں دیتے، ہم اب ان کے پاس جائیں گے۔ آئی ایم ایف سے یہی مذاکرات

ہوئے ہیں جو ٹیکس دے رہے ہیں ان پر ٹیکس نہیں لگائیں گے بلکہ مزید لوگوں کو ٹیکس نیٹ میں

لائیں گے۔شوکت ترین نے کہا 10 ہزار پی او ایس استعمال کیے ہیں جس سے 150 سے 125 ارب کی

فروخت ریکارڈ کی ہے، یہ کچھ بھی نہیں، صرف امتیاز سٹور کی فروخت 2 سے 3 سو ارب کی ہے

مطلب انہوں نے پورے ظاہر ہی نہیں کیے میں اور کا نام نہیں لینا چاہتا۔ چاہتے ہیں مزید اداروں کو

اِس پی او ایس نظام میں لے کر آئیں۔ پی او ایس پر آنے کے بعد ریٹیلر کچی پرچی پر کام کرنا شروع

کردیں گے تو اسے روکنے کیلئے صارفین سے پکی پرچی طلب کریں گے اور اس پر 25 کروڑ

روپے تک کے انعامات دیں گے جسے بڑھا کر ایک ارب روپے تک لے کر جائیں گے۔ صارف خود

جاکر ان کا گلا پکڑیگا کہ ہمیں پکی پرچی چاہیے ہیں، یہ ترکی اور دیگر ممالک میں بھی طریقہ کار

اپنایا جاچکا ہے ۔4 علاقوں کو ٹریک اینڈ ٹریس میں لے کر آئیں گے، ہم کرسکتے ہیں گزشتہ سال ہم

نے بغیر پی او ایس کے 160 ارب اکٹھا کیا ۔ ہمارا ریونیو ہدف جارحانہ ضرور ہے تاہم اگر ہم نے یہ

کرلیا تو ایک مالی خلا ہمیں ملے گی جس کو ہم زراعت میں استعمال کرسکیں گے۔ ہمارا ملک خوراک

کی کمی کا شکار ہے اور اس کا مطلب ہے کہ ہم اہم چیزیں درآمد کر رہے ہیں، ہم نے فصلوں پر توجہ

نہیں دی اور اب ہم اس پر توجہ دیں گے۔ہم برآمدات میں جو مراعات دے سکتے تھے دی ہیں، ہم

صرف ٹیکسٹائل تک محدود نہیں رہے بلکہ خصوصی اقتصادی زونز سے ٹیکسز ختم کردیے ہیں تاکہ

چین سے سرمایہ کار یہاں آئے اور چیزیں بنا کر برآمد کریں اور ڈالر کمائیں۔ ہم نے بجلی اور

انفراسٹرکچر سمیت اقتصادی زونز پر خرچے کردئیے ہیں اور ہمیں یہ پیسے واپس کرنے ہیں اگر ڈالر

نہیں کمائیں گے تو پیسے کیسے واپس کریں گے۔ہم آئی ٹی میں نمو کو بڑھانا چاہتے ہیں جو اس وقت

40 سے 45 فیصد پر ہے اور اسے 100 فیصد تک لے جانا چاہتے ہیں۔ برآمدات کے شعبے میں تقریباً

تمام خام مال پر ٹیکس صفر کردئیے ہیں کیونکہ زراعت کے بعد سب سے زیادہ روزگار صنعتیں دیتی

ہیں، اس کے علاوہ ہاؤسنگ کا شعبہ بھی ترقی کر رہا ہے اور بینکس مطمئن ہیں کہ وہ پیسے جو دیں

گے وہ ریکور ہوجائیں گے۔ہماری مارک ایپ کی شرح 12 سے 14 فیصد تھی جو لوگوں کیلئے

مناسب نہیں تھی کیونکہ کرائے کو اور قسطوں کا موازنہ کیا جاتا تھا تو کرایہ 10 ہزار ہو تو قسط 20

ہزار ہوتی تھی۔ عمران خان نے اس پر چھوٹ دے کر لوگوں کی پہنچ تک اسے لے کر آئے ہیں اور

امید ہے یہ شرح مزید نیچے جائے گی اور مڈل کلاس کو بھی گھر مل سکیں گے۔ سب سے زیادہ ہم

نے پاور سیکٹر پر سبسڈیز میں اضافہ کیا ہے اور تمام ڈسکوز کو ٹھیک کرکے ان کی نجکاری کردیں

گے تاکہ ہماری نمو صلاحیتی ادائیگی کا استعمال شروع کردیں گی۔ ہمیں 5 سے 7 سال کا وقفہ چاہیے

جس میں ہم ان صلاحیتی ادائیگی کو موخر کرسکیں۔ پاور سیکٹر کو مالیاتی طور پر مستحکم بنانا ہے،

اگر ایسا نہ کریں گے تو ہمیں ٹرانسمیشن میں پیسے جو درکار ہیں اس میں پرائیوٹ سیکٹر پیسے نہیں

ڈالے گا۔ ہمیں سرکاری ملازمتوں کو بہتری کرنے کی ضرورت ہے جو ملازمین زیادہ کام کرتے ہیں

اور جو کم کرتے ہیں ان میں فرق ہونا چاہیے، بہت بڑی تبدیلی کی ضرورت ہے لیکن یہ حکومت ان

مشکلات سے نہیں گھبراتی۔ ہمیں حکومتی نظام کو 60 کے دہائی جیسا بنانا ہے، ایک سے 2 سال میں

یہ نہیں ہوگا، اس نظام میں بہت سیاسی مداخلت ہوگئی ہے جسے ٹھیک کرنے کیلئے 5 سے 7 سال

لگیں گے اور اس کے بعد تنخواہوں کے مسئلے حل ہوجائیں گے ۔ پاور سیکٹرکو پیسے دینگے گے تو

انہیں یہ بھی کہیں گے اپنی کارکردگی، ریکوری بہتربنائیں، نقصانات کم کریں ۔ اگر بیرونی منڈیوں

میں کوئی بھونچال نہ آئے تو مہنگائی کی شرح 10 فیصد کم رہے گی۔ جب تک زرعی پیداوار نہیں

بڑھے گی خوراک کے معاملے خود کفیل نہیں ہوں گے اس وقت تک بین الاقوامی قیمتوں کے اتار

چڑھاؤ سے متاثر رہیں گے۔ ہم کاشتکاروں کو پیداور بڑھا نے کیلئے مراعات دے رہے ہیں اور

آڑھتیوں کی منافع خوری روکنے کیلئے ہمیں کولڈ اسٹوریج قائم کرنے کیساتھ ایسا نظام قائم کرنا ہوگا

جس میں کاشتکار کا استحصال نہ ہو اور وہ مڈل مین کے بجائے براہِ راست ہول سیل مارکیٹوں میں

زرعی اجناس فروخت کرے۔ گڈ گورننس کی کوششیں کی جارہی ہیں اور ہر ضلع میں عہدیدار ان

چیزوں کی نگرانی کر کے خامیوں کی نشاندہی کریں گے، اور مختصر مدت کیلئے 4 سے 5 اہم اور

روزمرہ استعمال کی اجناس کے ذخائر بنائیں گے اور جن منڈیوں کی قیمتیں زیادہ ہوئی وہاں بھیج دی

جائیں گی۔شوکت ترین نے کہا ترقی پذیر ممالک ٹیکس بیس بڑھانے کیلئے شروع میں بالواسطہ ٹیکسز

کا ہی سہارا لیتے ہیں اور جب آمدن مستحکم ہوجاتی ہے تو براہِ راسٹ ٹیکس بڑھنا شروع ہوتے ہیں۔

وزیر خزانہ نے کہا کہ آئی ایم ایف اور ہماری منزل ایک ہے وہ چاہتے ہیں کہ ہم پائیدار ترقی کی

جانب جائیں اور پھر آہستہ آہستہ نمو کریں جبکہ ہمارا مؤقف یہ ہے کہ ٹیرف اور انکم ٹیکس میں

اضافہ کرنا مناسب طریقہ نہیں ہے اور ہم ٹیرف کے بجائے گنجائش کا استعمال بڑھائیں، ریکوری

زیادہ کریں، لائن لاسزز کم کریں جس میں تھوڑا وقت لگے گا جس سے ہمارا اور آپ کا مقصد پورا

ہوگا۔ ہم ڈیجیٹائزیشن کر کے ٹیکس بیس کو وسیع کریں گے، یہ آئندہ جون تک کا منصوبہ ہے۔ ہمارے

پاس اس وقت بین الاقوامی مارکیٹ میں اور بھی راستے ہیں جہاں سے پیسے اکٹھے کرسکتے ہیں۔6

کھرب روپے اکٹھا کرنے کیلئے پیٹرولیم لیوی نہیں بڑھائیں گے ہم انتظار کریں گے، ایران سے پابندی

ہٹنے کی صور ت میں وہ تیل کی پیداوا ر بڑھا دیں گے جس کی وجہ سے قیمتوں میں کمی آئے گی

اور اس کے اثرات ہم اپنے پاس بھی رکھیں گے ساتھ ہی سعودی عرب کیساتھ تاخیر کی ادائیگیوں کے

حوالے سے بات چیت ہوگئی ہے لہٰذا پیٹرولیم کی قیمت میں اضافہ نہیں ہوگا۔ پہلے ٹیکس بیس 3800

ارب تھی اور معیشت سکڑ رہی تھی شرح نمو 2.1 فیصد تھی تو شبر زیدی اسلئے 55 سو ارب روپے

ریونیو کا ہدف پانے میں ناکام رہے تاہم آج 4700 ٹیکس بیس ہے اور شرح نمو 5 فیصد ہے۔ ٹیکس

ریونیو ٹارگٹ میں زیادہ رسک نہیں اور کہیں کمزوری آئی بھی تو ہم منی بجٹ نہیں لائیں گے۔ احساس

پروگرام ڈیڑھ کروڑ خاندانوں کا احاطہ کرے گا لیکن ٹرکل ڈاؤن گروتھ میں ایک سے دو سال کے

عرصے میں جب نوکریاں بڑھیں گی تو مڈل اور لوئر مڈل کلاس کی صورتحال بہتر ہونا شروع

ہوجائے گی۔یوٹیلیٹی اسٹورز کی تعداد بڑھا کر 10 ہزار کرنا چاہتے ہیں اور اسے کمپیوٹرائزڈ کرنا

چاہتے ہیں جس کے تحت ہر خاندان کو ایک کوٹا دے دیا جائے گا تا کہ لوئر مڈل اور مڈل کلاس کو

تحفظ دیا جائے۔ پہلے ٹریک اینڈ ٹریس کے ذریعے غیر قانونی طور پر سگریٹ بنانے والوں کو پکڑا

جائیگا لیکن ہم ایسا اقدام نہیں اٹھانا چاہتے جسے دوسری جانب سے سپورٹ نہ کرسکیں۔ نچلے طبقے

کو کاروبار کیلئے پیسے دے رہے ہیں جبکہ نوجوانوں کی اسکلز ڈیویلپمنٹ کیلئے پروگرام لارہے

ہیں، جس سے گھرانے خوشحال ہونا شروع ہوں گے۔پنشن بہت بڑا مسئلہ ہے جس کی وجہ سے امریکا

میں بھی بڑے بڑے ادارے ناکام ہوگئے اسلئے ہم اصلاحات کریں گے اور آئندہ 3 سے 6 ماہ میں آپ

کو بڑی تبدیلی نظر آئے گی کیونکہ یہ ہماری، صوبوں اور فوج کیلئے برداشت سے باہر ہوگئی ہے۔

بجلی بنانے کی صلاحیت بہت زیادہ بڑھ گئی ہے جس کی ادائیگیاں 2023 میں 18 کھرب روپے سالانہ

تک پہنچ جائیگی اور یہ وہ بجلی ہے جو ہم استعمال نہیں کرتے۔ پاور پلانٹس بن گئے ہیں جنہیں ختم

نہیں کیا جاسکتا ، ہماری شرح نمو اتنی ہونی چاہیے تو اس بجلی کو استعمال کرسکے تا کہ ہم گنجائش

کی ادائیگیاں نہ کریں بلکہ وہ بجلی فروخت کر کے اپنے قرضے اتاریں اور پاور سیکٹر کو فعال

بنائیں۔اس موقع پر وفاقی وزیر صنعت و پیداوار خسرو بختیار نے بتایا ٹریکٹرز کی پیداور بڑھے گی

تو چھوٹی صنعتیں جو پارٹس بناتی ہیں ان کی پروڈکشن بھی بڑھے گی، 9 فیصد کی نمو رواں سال

رہی ہے تاہم ہم نے چیلنج خود کو 6 فیصد کا دیا ہے۔پرائیوٹ سیکٹر انویسٹمنٹ اور سیونگز کی شرح

میں آہستہ آہستہ تبدیلیاں آئیں گی۔برآمدات کو تقویت دینے کیلئے انقلابی اقدامات کیے گئے ہیں،

صنعتوں کا پہیہ چلنے کیلئے بجلی اور گیس کی ضرورت ہے۔معیشت کا پہیہ تب ہی چلے گا جب

صنعتون کا پہیہ چلے گا۔آٹو سیکٹر آدھی صلاحیت پر چل رہا ہے، 800 سی سی سے کم کی گاڑیوں

کی قیمت کم کر رہے ہیں اور باقی سی سیز پر بھی بات چیت چل رہی ہے اور آٹو پالیسی بڑی جامع

ہوگی۔ ہمارا فلسفہ میک اِن پاکستان کا ہے، گلوبل ایکسپورٹ ویلیو چین میں پاکستان کے آٹو سیکٹر کو

ڈالنا ہے۔ ہمارے معاشی حب کراچی میں زمین بہت مہنگی ہے، کراچی میں 1500 ایکڑ کا خصوصی

زون پی ایس ڈی پی میں رکھا گیا ہے۔ برآمدات پر مبنی صنعتیں یہاں آئیں اور انہیں زمین لیز پپر دی

جائے گی۔ صنعتی نمو میں ہم انجینئرنگ پر بھی توجہ دے رہے ہیں، ملک کے اندر مستحکم نمو رکھنا

ہے تو برآمدات کو بڑھانا ہوگا۔وفاقی وزیر تجارت عبدالرزاق داؤد نے کہا ہماری مرکزی حکمت عملی

دو حصوں میں ہے ایک برآمدات اور ایک میک اِن پاکستان۔ہمیں ابھی بھی ڈالرز چاہیے ہیں، ہمیں

ٹیکسٹائل پر انحصار نہیں کرنا، اس صنعت نے بہت اچھا پرفارم کیا اور اسے اگلے سال ہم نے 20

ارب تک پہنچنے کا ہدف دیا ہے۔ ہماری توجہ انجینئرنک، فارما، آئی ٹی، موبائل فونز، جوتے، فوڈ

پروسیسنگ وغیرہ ہیں، رواں سال ان میں سے فارماسیوٹیکل کے نتائج اچھے آئے ہیں اور آئندہ سال

اس پر زیادہ توجہ دیں گے۔ برآمدات سے پہلے ہمیں چیزیں پاکستان میں بنانی ہوں گی، پچھلے سال کی

نسبت ہم نے امسال خام مال پر ڈیوٹیزمیں سب سے زیادہ کمی کی ہے۔اسکا پھل رواں اور آئندہ سال

سامنے آئیگا، پاکستان میں چیزیں بنیں گی اور کاروبار کی لاگت کم ہوجائیں گی اور ہماری برآمدات

بڑھیں گی۔وزیر تخفیف غربت ثانیہ نشتر نے کہا احساس پروگرام کیلئے اس بجٹ میں 260 ارب

روپے مختص ہیں، یہ وزیر اعظم کا ترجیحی پروگرام ہے۔ 10 بڑے پروگرام جو اس فنڈ سے چلیں

گے ان پروگرامز میں سب سے پہلے احساس ایمرجنسی کیش کے دوسرے مرحلے کا آغاز ہے جس

کے تحت ایک کروڑ 20 لاکھ خاندانوں کو 12 ہزار روپے پہنچائے جائیں گے۔ احساس کفالت میں

جنوری سے 6 ماہی قسط 12 ہزار کی بجائے 13 ہزار کی ہوگی، اس میں ایک کروڑ لوگوں کو شامل

کرنے جارہے ہیں، یہ پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا سماجی تحفظ کا پروگرام بن رہا ہے، اس میں

اپیل کا اختیار بھی شامل کر رہے ہیں تاکہ لوگ جیسے جیسے ضرورت ہو ہم تک اپنی بات پہنچا سکیں

اور ہم ان پر رد عمل دے سکیں۔ اس کے علاوہ اس پروگرام کی ادائیگی کیلئے دو بینکوں سے شراکت

داری ہونے کی وجہ سے ادائیگی کے وقت لوگوں کی قطار لگ جاتی تھی اور اب ہم عوام کو کسی

بھی بینک میں اپنے اکاؤنٹ کھولنے کا اختیار دے رہے ہیں۔احساس برائے خصوصی افراد میں 20

لاکھ خاندان شامل ہوں گے، رواں سال ہم احساس نشونما پروگرام کو 50 ضلع تک لے کر جائیں گے

اور 150 احساس نشونما سینٹر کھولیں گے۔ احساس کے تعلیمی وضائف کی پالیسی کو پاکستان کے

سارے اضلاع تک لے گئے ہیں، نظام ڈیجیٹل کردیا ہے اور اب صرف پرائمری نہیں سیکنڈری کے

بچوں کو بھی یہ وضائف دیے جائیں گے ،وظیفوں کو بھی بڑھا دیا گیا ہے اور لڑکوں سے زیادہ

لڑکیوں کا وظیفہ کردیا گیا ہے۔رواں سال 65 ہزار میرٹ پر اسکالر شپس دی ہیں اور آئندہ سال بھی

اتنی ہی دی جائیں گی۔ ہم احساس تحفظ کے نام سے نیا پروگرام لے کر آئیں گے، یہ ان لوگوں کیلئے

ہے جن کے پاس صحت کارڈ نہیں اور جو سرکاری ہسپتالوں میں جاتے ہیں۔پناہ گاہوں کا سلسلہ پھیلایا

اور اس کا معیار بہتر رکھا جائے گا، کوئی بھوکا نہ سوئے پروگرام میں بھی وسعت آئے گی۔ احساس

پروگرام کے دائرے کے نیچے ملک کے 110 اضلاع میں بلا سود قرضے کا پروگرام بھی چل رہا

ہے۔ احساس اشیا کے پروگرام پر بھی غور کیا جارہا ہے اور آئندہ ماہ یوٹیلیٹی اسٹورز پر اس پر عملدر

آمد شروع ہوجائے اور اس کے ذریعے کمزور طبقے کو دکان سے سستی اور متواسط طبقے کو عام

قیمتوں میں اشیا فراہم کی جائیں گی۔ احساس ڈیجیٹل ہنر کا بھی پروگرام حکومت لارہی ہے جس کیلئے

بھی فنڈ بجٹ میں مختص ہے۔ثانیہ نشتر نے کہاکہ سروے 92 فیصد مکمل کرلیا گیا اور اس سے

پاکستان کے ہر گھر کی معاشی صورتحال سامنے آئے گی، جون کے آخر تک یہ مکمل کرلیا جائیگا۔

وزیر خزانہ

فون کالز پر ٹیکس

ستاروں کا مکمل احوال جاننے کیلئے وزٹ کریں ….. ( جتن آن لائن کُنڈلی )
قارئین : ہماری کاوش پسند آئے تو شیئر ، اپڈیٹ رہنے کیلئے فالو کریں

Leave a Reply