Oh My God 58

دشمنی اور تنازعات، فوجی سرمایہ کاری بلند ترین سطح تک جا پہنچی

Spread the love

میونخ(جتن آن لائن مانیٹرنگ ڈیسک) فوجی سرمایہ کاری

دشمنی اور تنازعات کے باعث فوجی سرمایہ کاری میں بے پناہ اضافے کی وجہ سے گزشتہ سال 2019ء میں عالمی سطح پر دفاعی اخراجات دہائی کی بلند ترین سطح تک جا پہنچے جس کے ذمہ دار امریکہ اور چین ہیں۔ مزید پڑھیں

امریکہ چین میں مسابقت کے باعث عسکری اخراجات میں 4 فیصد اضافہ

انٹرنیشنل انسٹیٹیوٹ فار اسٹریٹیجک اسٹڈیز(آئی آئی ایس ایس) نے اپنی تحقیق میں کہا ہے کہ دو بڑی طاقتوں کے درمیان مسابقت، نئی فوجی ٹیکنالوجیز اور یوکرائن سے لیبیا تک چھائے جنگ کے بادل ایک برس قبل کے مقابلے میں ان اخراجات میں 4 فیصد اضافے کا سبب بنے۔ آئی آئی ایس ایس کا کہنا تھا بیجنگ کا فوج کو جدید بنانے کا پروگرام واشنگٹن کیلئے خطرے کی گھنٹی ہے اور امریکی دفاعی اخراجات کو آگے بڑھانے میں مدد کررہا ہے۔ اپنی سالانہ رپورٹ ملٹری بیلنس میں ادارے نے کہا 2018ء سے 2019ء تک صرف امریکہ کے دفاعی اخراجات میں 53 ارب 40 کروڑ ڈالر کا اضافہ اس قدر زیادہ ہے کہ برطانیہ کے پورے دفاعی بجٹ کے برابر ہے۔ فوجی سرمایہ کاری

خطرے کے تصورات میں تیزی بھی فوجی اخرجات میں اضافے کی بڑی وجہ

میونخ یونیورسٹی میں رپورٹ متعارف کروانے کی پریس کانفرنس میں گفتگو کرتے ہوئے آئی آئی ایس ایس کے سربراہ جان چپ مین نے کہا کہ معیشتوں کے مالی بحران کے اثرات سے نکلنے پر اخراجات میں اضافہ ہوا، لیکن اس اضافے کی ایک وجہ خطرے کے تصورات میں تیزی بھی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ امریکہ اور چین دونوں نے اپنے اپنے دفاعی اخراجات میں 6.6 فیصد اضافہ کر کے انہیں بالترتیب 68 ارب 46 کروڑ ڈالر اور 18 ارب 11 کروڑ ڈالر کی سطح تک پہنچا دیا۔ فوجی سرمایہ کاری

یورپی ممالک کے فوجی اخرجات میں اضافے کا سبب صدر ٹرمپ کا الزام

دوسری جانب یورپ نے روس کے حوالے سے بڑھتے ہوئے تحفظات کے باعث دفاعی اخراجات 4.2 فیصد بڑھائے لیکن اس سے براعظم کے دفاعی اخراجات دوبارہ 2008ء کی سطح پر پہنچ گئے جہاں عالمی مالیاتی بحران کی باعث بجٹ میں کٹوتیوں سے قبل تھے۔ اس کیساتھ نیٹو کے یورپی اراکین امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی تسلی کیلئے اخراجات میں اضافے کی درخواست کررہے ہیں جو ان پر مفت خوری کا الزام لگاتے رہتے ہیں۔
واضح رہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے یورپی اتحادیوں بالخصوص جرمنی پر 2014ء کے نیٹو وعدے پر عمل نہ کرنے پر سخت تنقید کی تھی جس کے تحت انہیں اپنی مجموعی ملکی پیداوار (جی ڈی پی) کا 2 فیصد دفاع پر خرچ کرنا تھا۔

یہ بھی پڑھیں : ٹرمپ چین کے دشمن کیوں؟

فوجی سرمایہ کاری

Leave a Reply