اسرائیلی بمباری، مزید 24 فلسطینی شہید، اسلامی یونیورسٹی، متعدد عمارتیں تباہ

فلسطین کا اسرائیل کیخلاف عالمی عدالت جانے کا فیصلہ

Spread the love

فلسطین کا اسرائیل کیخلاف

مقبوضہ بیت المقدس (جے ٹی این آن لائن نیوز) حکومتِ فلسطین نے عالمی عدالت میں اسرائیل

کیخلاف مقدمہ کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے ،جبکہ غزہ میں صہیونی بمباری سے تباہ کئے جانیوالے

میڈیا بلڈنگ کے مالک بھی اسرائیل کیخلاف مقدمہ کرنے عالمی عدالتِ انصاف پہنچ گئے ۔ فلسطین

پراسرائیلی جارحیت کیخلاف ہزاروں افراد نے لندن میں احتجاجی مظاہرہ کیا، وسطی لندن کی فضا

’آزاد فلسطین‘ اور ’اللّٰہ اکبر‘ کے نعروں سے گونج اٹھی۔ مظاہرے میں شرکت کیلئے دیگر شہروں

سے بھی عوام کی بڑی تعداد لندن پہنچی۔مظاہرین نے مطالبہ کیا اسرائیل سے انسانی جانو ں کے

ضیاع کا حساب لیااور اسے دہشتگرد ملک قرار دیا جائے۔فلسطینی وزارت صحت نے بتایا ہے غزہ کی

پٹی میں اسر ائیلی فوج کی مسلسل 11 روز تک جاری رہنے والی جارحیت میں اب تک 243 فلسطینی

شہید اور 1900 سے زائد زخمی ہوچکے ہیں جبکہ اسرائیلی بمباری اور فضائی حملوں کے نتیجے

میں بھاری جانی و مادی نقصان کا تخمینہ لگایا جارہا ہے ، جن کی تعمیر نو میں کئی برس لگ سکتے

ہیں،مصری صدر عبدالفتا ح السیسی کی جانب سے غزہ کی پٹی کی تعمیر نو کیلئے 50 کروڑ ڈالر

دینے کا اعلان کیا گیا ہے ، اسرائیل اور فلسطینی تنظیم حماس کے درمیان سیز فائر پر عملدرآمد کے

کچھ گھنٹوں بعد غزہ میں امدادی ساما ن پہنچنا شروع ہوگیا ہے۔اقوام متحدہ سمیت کئی تنظیموں کے

ٹرک اب غزہ داخل ہو رہے ہیں جن میں ادویات، خوراک اور ایندھن شہریوں میں تقسیم کیا جائیگا۔ ایسا

تب ممکن ہوا جب اسرائیل نے سیز فائر کے بعد سرحد پر واقع رم ابو سالم کراسنگ کا راستہ کھول دیا

۔یونیسیف کے مطابق حالیہ کشیدگی کے بعد حماس کے اس زیر انتظام علاقے میں ایک لاکھ سے زیادہ

لوگ بے گھر ہوگئے ہیں جبکہ آٹھ لاکھ لوگ پائپ سے ملنے والے پانی سے محرو م ہیں۔خادم الحرمین

الشریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود نے فلسطینی صدر محمود عباس سے ٹیلیفونک رابطہ کیا

اور مقبوضہ بیت المقدس میں اسرائیلی فوج کے مظالم اور غزہ کی پٹی پر وحشیانہ بمباری میں نہتے

شہریوں کو نشانہ بنانے کی شدید مذمت کی ہے ۔تفصیلات کے مطابق فلسطینی حکومت اسرائیل

کیخلاف جنگی جرائم کا مقدمہ دائر کریگی، اس سلسلے میں جنگی جرائم کی عالمی عدالت آئی سی

سی سے رجوع کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ جنگ بندی کی منظوری کے باوجود اسرائیلی فوج نے

جمعہ کے روز مسجد اقصیٰ سے ملحقہ صحن میں اس وقت دوبارہ کارروائی کی جب ہزاروں نمازی

جنگ بندی پر خوشی منا رہے تھے، اسرائیلی اہلکاروں نے ان فلسطینیوں پر آنسو گیس کی شیلنگ کی

اور ربڑ کی گولیاں فائر کیں۔دوسری طرف اسرائیلی حملے میں تباہ ہو نیوالی میڈیا بلڈنگ کے مالک کا

کہنا ہے میڈیا بلڈنگ پر حملہ جنگی جرم ہے، جس کے بارے میں اسرائیل جواز نہیں دے سکا۔

ادھر فلسطینی وزارت صحت کے مطابق غزہ کی پٹی میں اسرائیلی فوج کی مسلسل 11 روز تک

جاری رہنے والی جارحیت میں اب تک 243 فلسطینی شہید اور 1900 سے زاید زخمی ہوچکے ہیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 10 مئی سے 21 مئی تک جاری رہنے والی اسرائیلی فوجی کارروائیوں

میں شہیدہونیوالوں میں 66بچے، 39 خواتین اور 17 عمر رسیدہ شہری ہیں جبکہ زخمیوں میں خواتین

اور بچوں سمیت 1910 فلسطینی شامل ہیں۔مقامی فلسطینی ذرائع کے مطابق اسرائیلی بمباری میں چند

روز قبل شہید ہونیوالی 3 سالہ بچی مریم التلبانی کی نعش مل گئی ہے ، اس کے خاندان کو تل الھویٰ

کے مقام پر اسرا ئیلی بمباری میں شہید کیا گیا تھا۔دوسری جانب غزہ کی پٹی پر 11 روز تک جاری

رہنے والی اسرائیلی بمباری اور فضائی حملوں کے نتیجے میں بھاری جانی اور مادی نقصان کا

تخمینہ لگایا جارہا ہے ، جس میں سیکڑوں فلسطینیوں کے شہید اور زخمی ہونے کے علاوہ غزہ کی

پٹی میں درجنوں عمارتیں زمین بوس ہو گئی ہیں جن کی تعمیر نو میں کئی برس لگ سکتے ہیں۔ غزہ

میں ہاؤسنگ کی وزارت نے کہا 11 روز کے اندر 16800 رہائشی یونٹوں کو نقصان پہنچا، ان میں

1800 یونٹ رہائش کے قابل نہیں رہے جبکہ 1000 یونٹ مکمل طور پر تباہ ہو گئے ہیں ۔غزہ کی پٹی

میں بجلی کی تقسیم کے اسٹیشن کے ترجمان محمد ثابت کے مطابق اسرائیلی آپریشن شروع ہونے سے

آبادی کو 12 گھنٹے بجلی مل رہی تھی جبکہ اب یہ دورانیہ 3 سے 4 گھنٹے ہو گیا ہے۔غزہ میں

وزارت زراعت کے اندازے کے مطابق اسرائیلی حملوں اور بمباری کے نتیجے میں گرین ہاؤسز،

کاشت کاری کی اراضی اور پولٹری فارموں کو پہنچنے والے نقصان کا حجم تقریبا 2.7 کروڑ ڈالر

ہے۔غیر ملکی میڈیا نے فلسطینی سیاستدان اور بین الاقوامی تعلقات کے مشیر اسامہ شعث کے حوالے

سے بتایا ہے اس مرتبہ تعمیر نو کی لاگت 2014ء سے زیادہ ہو گی جو ممکنہ طور پر 8 ارب ڈالر

تک پہنچ سکتی ہے۔ادھر خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود نے فلسطینی صدر

محمود عباس سے ٹیلیفون پر رابطہ کیا جس میں شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے مقبوضہ بیت المقدس میں

اسرائیلی فوج کے مظالم اور غزہ کی پٹی پر وحشیانہ بمباری میں نہتے شہریوں کو نشانہ بنانے کی

شدید مذمت کرتے ہوئے زخمی فلسطینیوں کی جلد صحت یابی کی بھی دعا کی۔ انہوں نے کہا سعودی

عرب نے اسرائیل پر جنگ بندی کیلئے دباؤ ڈالنے کیلئے تمام مؤثر فورمز پر رابطہ کیا، اس موقع پر

صدر محمود عباس نے مملکت کے فلسطین کے بارے میں شاہ عبدالعزیز کے دور سے چلے آ رہے

موقف کو سراہااور کہا غزہ کی پٹی کیخلاف اسرائیلی ریاست کی جارحیت روکنے کیلئے سعودی

عرب کی کاوشوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔درایں اثنا فلسطینی وزارت خارجہ نے غزہ میں

جنگ بندی کے حوالے سے سعودی عرب کی کوششوں کو سراہا اور غزہ میں اسرائیلی جارحیت

روکنے کیلئے جمہوریہ مصر کی کوششوں کی بھی تعریف کی۔

فلسطین کا اسرائیل کیخلاف

ستاروں کا مکمل احوال جاننے کیلئے وزٹ کریں ….. ( جتن آن لائن کُنڈلی )
قارئین : ہماری کاوش پسند آئے تو شیئر ، اپڈیٹ رہنے کیلئے فالو کریں

Leave a Reply