Islamabad, Prime Minister Imran Khan addressing with Seminar at central hall.

فروغ سیاحت کیلئے ہمیں بھارت سے سیکھنا چاہیے، ہائوسنگ منصوبہ مشکل نہ ہوتا تو سابقہ حکومتیں سکیم بنا گئی ہوتیں، وزیراعظم

Spread peace & love
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

لاہور،اوکاڑہ( جے ٹی این آن لائن سپیشل رپورٹرز) وزیر اعظم عمران خان نے

کہا ہے ہمیں 5 سال میں 50 لاکھ گھر بنانے ہیں، محمودالرشید کہتے ہیں 50 لاکھ

گھر بنانامشکل ہے، اگر مشکل نہ ہوتا تو پچھلی حکومت یہ کام کرچکی ہوتی۔ معا

شرہ کمزور لوگوں کی فکر کرتا ہے، ریاست غریبوں کو چھت فراہم کرنے کی

ذمہ داری لے اور جب ریاست کمزور طبقے کی ذمے داری لیتی ہے تو اللہ اس

کی مدد کرتا ہے، ریاست مدینہ دنیا کی پہلی فلاحی ریاست تھی جہاں جانوروں کا

بھی خیال رکھا جاتا تھا، اسوقت پاکستان کے معاشی طور پر سب سے مشکل

حالات ہیں، ہم نے تب یہ ذمہ داری لی کہ اس طبقے کیلئے گھر بنائیں گے جو گھر

نہیں خرید سکتا، اس کیلئے ہم قانون بد لیں گے اور بینکوں کو تیار کریں گے،

ہاؤسنگ سارے پاکستان میں شروع کررہے ہیں، پچاس لاکھ گھر پرائیوٹ سیکٹر

بنائے گا حکومت صرف مدد کرے گی، نوجوانوں کو زبردست موقع ملے گا کہ

وہ چھوٹی کنسٹریکشن کمپنیاں بنائیں۔ شہروں میں کچی آبادیوں کیلئے فلیٹس تعمیر

کرنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ لوگ آرام سے رہ سکیں،اس کیلئے چائنا سے مدد

لیں گے۔ پہلی بارپاکستان میں مکمل طورپرگاڑی تیار ہوگی،غیرملکی سرمایہ کاری

سے ہی ملک کا معاشی بحران دورہوگا،اب پاکستان میں گاڑیاں بنیں گی اور برآمد

بھی ہونگی، معاشی بحران سے نکلنے کے حوالے سے قوم سوال پوچھتی ہے،

اس کا جواب ہے غیر ملکی سرمایہ کاری سے ہی معاشی بحران دورہوگا، پہلی

بارپاکستان میں گاڑی تیارکرنیوالی بلواسطہ طور پر اس فیکٹری سے چالیس ہزار

افراد کوروزگارملے گا، جلد الیکٹرک کار کی تیاری سے ماحولیاتی آلودگی کم

ہوگی، گزشتہ روز لاہور میں ایچی سن کالج کی تقریب، جے ڈبلیو لینڈ کار پلانٹ

اور بعدازاں رنیالہ خورد اوکاڑہ میں نیا پاکستان ہاؤسنگ سکیم کی افتتاحی تقاریب

سے خطاب میں انکا مزید کہنا تھا جو لوگ کہتے ہیں 50 لاکھ گھر ناممکن ہے وہ

دیکھیں گے یہ کام ہر سال تیز ہوگا، شروع میں ہمیں دیر لگے گی لیکن پھر جلدی

ہوگا، میری زندگی کا اصول ہے، پیچھے مڑ کر نہیں دیکھتا۔ آدھے پاکستانی دو

وقت کی روٹی نہیں کھا سکتے، قائد اعظم کو سیاست کی ضرورت نہیں تھی،

انہوں نے آزادی کیلئے 40 سال جدوجہد کی۔ پیسے کمانے سے نہیں بلکہ بڑی ذمہ

داری نبھانے سے بڑا آدمی بنتے ہیں، بڑے لوگ وہ بنیں گے جو اپنی قوم کیلئے آ

گے جا کر کام کریں گے کیونکہ دنیا ان کو یاد رکھتی ہے جو انسانوں کیلئے کام

کرتے ہیں۔ قائد اعظم کو اسلئے یاد رکھا جاتا ہے انہوں نے آزادی کیلئے کام کیا،

چیمپیئن وہ ہوتاہے جو برے وقت کو ہینڈل کرتاہے، دنیا میں کوئی شارٹ کٹ نہیں ۔

مشکل کام تحریک انصاف کی حکومت کریگی ،مغربی معا شرہ کمزور طبقہ کی

فکر اور احساس کرتا ہے علاج ،تعلیم ، صحت، انصاف کی سہولتیں دیتا ہے،یہ

مدینہ کی ریاست میں دنیا میں پہلی مرتبہ ماڈل متعارف کرایا گیا جس میں احساس

تھا،مدینہ کی ریاست میں پیسہ نہیں تھا ،لیکن نیت تھی، خلوص تھا، اسلئے اللہ کی

طرف سے ان کی مدد بھی ہوئی، اللہ تعالیٰ اس معاشرے کو عزت دیتا ہے جونبی

کریم ْ کے اسوہ حسنہ پر چلتا ہے، پاکستان کے ترقی پسند عوام چھوٹی موٹی

قربانیوں کیلئے تیار رہیں، بعدازاں لاہور میں شاہی قلعہ میں تصویری دیوار کی

افتتاحی تقریب سے خطاب میں وزیر اعظم نے کہا سابق حکمران گرمیوں کی

چھٹیاں لندن و امریکہ میں گزارتے تھے اسلئے انہیں معلوم ہی نہیں پاکستان میں

کیسے شاندار مقامات ہیں، ماضی کے حکمرانوں کو احساس ہی نہیں تھا ہم نے

اپنی تاریخ و ثقافت کو محفوظ بنانا ہے لیکن موجودہ حکومت نے اس طرف توجہ

مرکوز کی ہے، پاکستان کا کرنٹ اکائونٹ خسارہ 19 ارب ڈالر جبکہ ترکی کی

صرف سیاحت سے آمدن 40 ارب ڈالر اور ملائیشیاء کی ساحلی سیاحت سے آمدن

20ارب ڈالر ہے، پاکستان میں سیاحت کے شعبے میں بڑا پوٹینشنل ہے اسلئے ہم

نے اس کی ٹاسک فورس بنائی ہے۔ دنیا بھر میں اپنے تاریخی ثقافت اور تاریخی

مقامات کو محفوظ بنانے سے قومیں فخر محسوس کرتی ہیں لیکن ہمارے یہاں

ماضی میں کسی نے اس سے متعلق سوچا ہی نہیں کہ آئندہ آنیوالی نسلوں کیلئے

ایسے مقامات کو محفوظ کیا جانا ضروری ہے تاکہ انہیں معلوم ہو سکے ہم کیا

تھے اور کس طرح سولاائزیشن کی طرف گئے۔ فروغ سیاحت سے ہی ہم غیر

ملکی قرضوں سے نجات حاصل کر سکتے ہیں۔ پاکستان میں بد ھ ، ہندو مت اور

دیگر مذاہب کے بے شمار مذہبی مقامات موجود ہیں، مذہبی سیاحت کے حوالے

سے پاکستان کا منفرد مقام ہے، صرف شمالی علاقہ جات ہی سوئٹرز لینڈ سے کئی

گنا پر کشش ہیں۔ انگریزوں کے بعد کسی نے یہاں اسے ڈویلپ نہیں کیا، ہم 20

ریزارٹس کو ڈو یلپ کر رہے ہیں۔ پاکستان میں بے شمار تاریخی تہذیبیں موجود

ہیں، وقت آ گیا ہے آرکیالوجی کواپنے تعلیمی نصاب کا حصہ بنایا جائے۔ آغا خان

فائونڈیشن نے سیاحت کیلئے شمالی علاقہ میں زبردست کام کیا ہے ۔ ہندوستان نے

بھی تاریخی مقامات کو محفوظ کر کے کمرشل مقا صد کیلئے استعمال کیا۔ ہمیں

بھارت سے سیکھنا چاہیے۔ اس نے اپنے پیلسز کو ہوٹلز میں تبدیل کرکے انہیں

محفوظ کیا جس سے اسے آمدن بھی ہوتی ہے۔ ہمیں بھی اپنے پیلسز کیلئے ایسی

ہی پالیسی بنانی چاہیے۔ بعدا زاں وزیر اعظم عمران خان نے عشائیے میں بھی

شرکت کی۔

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply