فرانسیسی سفیر ملک بدری

فرانسیسی سفیر کی ملک بدری، قومی اسمبلی میں قرارداد بحث کیلئے منظور

Spread the love

فرانسیسی سفیر ملک بدری

اسلام آباد(جے ٹی این آن لائن نیوز) فرانس میں سرکاری سرپرستی میں گستاخانہ خاکوں کی اشاعت پر

فرانسیسی سفیر کی ملک بدری کے معاملے پرقومی اسمبلی میں پیش کی جانیوالی قرارداد پربحث کے

حوالے سے تحریک متفقہ طور پر منظور کرلی گئی ہے،بحث کے بعد قرارداد کی منظوری دی جائے

گی۔قرارداد کے متن پر اپوزیشن کے احتجاج کے بعدسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے اپوزیشن اور

حکومت کو مشترکہ قرارداد لانے کا کہتے ہوئے اجلاس جمعہ تک ملتوی کر دیا ۔منگل کوسپیکر اسد

قیصر کی زیر صدارت قومی اسمبلی کا اجلاس شروع ہوا تو وزیر مملکت علی محمد خان نے قومی

اسمبلی کی معمول کی کارروائی معطل کرنے کی تحریک ایوان میں پیش کی جس پر ایوان نے قومی

اسمبلی کی معمول کی کارروائی معطل کر دی۔ فرانسیسی میگزین کی جانب سے سرکاری سرپرستی

میں توہین رسالت کے ارتکاب کیخلاف فرانسیسی سفیر کو ملک بدر کرنے کی قرارداد پیش کی گئی ۔

رکن اسمبلی امجد علی خان نے بطور پرائیوٹ ممبر قرارداد پیش کی ۔پاکستان پیپلز پارٹی نے قومی

اسمبلی کے اجلاس میں شرکت نہ کرنے کا فیصلہ کیا جبکہ ن لیگ اور جے یو آئی ف کے ارکان

اسمبلی میں موجود رہے ۔تحریک انصاف نے اپنے ارکان کو قومی اسمبلی اجلاس میں زیادہ سے زیادہ

حاضری یقینی بنانے کی ہدایت کی تھی۔ن لیگ کے 34 اراکین جبکہ جے یو آئی کے 7 اور جماعت

اسلامی کا ایک رکن ایوان میں موجود تھے۔ ایوان میں پیش کی گئی قرار داد کے متن میں کہا گیا کہ یہ

ایوان متنازعہ فرانسیسی میگزین چارلی ہیپڈو کی طرف سے یکم ستمبر 2020 ء کو شان رسالت ؐ میں

گستاخی اور توہین آمیز خاکوں کی اشاعت کی پرزور مذمت کرتا ہے ۔ فرانسیسی میگزین کی طرف

سے پہلی بار 2015 ء میں پیغمبر اسلام ؐ کے گستاخانہ خاکے شائع کرنے پر پوری دنیا کے مسلمانوں

کی طرف سے شدید غم و غصے کے اظہار کے باوجود ایک بار پھر عالمی سطح پر مذہبی ہم آہنگی

اور امن کو ٹھیس پہنچانے کی کوشش کی گئی ہے ۔ فرانسیسی صدر کی طرف سے آزادی اظہار رائے

کے نام پر کروڑوں مسلمانوں کے جذبات کو ٹھیس پہنچانے والے عناصر کی حوصلہ افزائی انتہائی

افسوسناک ہے لہذا یہ ایوان مطالبہ کرتا ہے کہ فرانسیسی سفیر کو ملک سے نکالنے کے مسئلہ پر

بحث کی جائے ۔ تمام یورپی ممالک بالعموم اور فرانس بالخصوص کو اس معاملہ کی سنگینی سے آگاہ

کیا جائے ۔تمام مسلم ممالک سے معاملے پر سیر حاصل بات کی جائے اور اس مسئلے کو اجتماعی

طور پر بین الاقوامی فورمزپر اٹھایا جائے ۔یہ ایوان اس بات کا بھی مطالبہ کرتا ہے کہ بین الاقوامی

تعلقات کے معاملات ریاست کو طے کرنے چاہئییں اور کوئی فرد ، گروہ یا جماعت اس حوالہ سے بے

جا غیر قانونی دباؤ نہیں ڈال سکتا ۔ مزید برآں ، صوبائی حکومتیں تمام اضلاع میں احتجاج کے لئے

جگہ مختص کریں تاکہ عوام الناس کے روزمرہ کے معمولات زندگی میں کسی قسم کی کوئی رکاوٹ

نہ آئے ۔پارلیمنٹ میں پیش ہونے والی مجوزہ قرارداد کی کاپیاں اپوزیشن ارکان میں تقسیم کی گئیں۔

وزیر پارلیمانی امور علی محمد خان نے معاملے پر پارلیمنٹ کی کمیٹی بنانے کی تحریک بھی پیش

کی۔ ایوان نے خصوصی کمیٹی بنانے کی تحریک منظور کرلی۔ علی محمد خان نے کہا کہ یہ قرارداد

پرائیویٹ ممبر کی طرف سے آئی ہے اور حکومت اس پر کوئی دعویدار نہیں۔ اس پر اپوزیشن نے

احتجاج کیا۔قومی اسمبلی میں تاجدار ختم نبوت زندہ باد کے نعرے لگنا شروع ہوگئے ۔شاھد خاقان

عباسی سپیکر ڈائس پر پہنچ گئے،

سپیکر اسد قیصر اور شاھد خاقان عباسی کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ ہوا

سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر اور سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی میں شدید جھڑپ ہوئی

شاہد خاقان عباسی نے کہا آپ کو شرم نہیں آتی میں جوتا اتار کر آپ کو ماروں گا۔ سپیکر نے جواب

میں شاہد خاقان عباسی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا اپنی حد میں رہیں ورنہ میں آپ کا نام لوں گا۔ سابق

وزیر اعظم سپیکر کو دھمکیاں دیتے رہے۔سپیکر نے مائیک شاھد خاقان عباسی کے حوالے کردیا ۔

شاہد خاقان عباسی نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہاآپ نے اس ایوان کو بیہودگی کا اڈہ بنادیا ہے،

سپیکر نے الفاظ حذف کردیئے۔ شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ مجھے بڑا افسوس ہے کہ تحفظ ناموس

رسالت کا معاملہ جس پر پورا پاکستان متفق ہے مگر آپ ایوان میں اسے متنازع بنارہے ہیں’۔ان کا کہنا

تھا کہ ‘اگر حکومت نے قرار داد لانی تھی تو اپوزیشن سے بات کی جاتی ہے اور بتایا جاتا ہے کہ یہ

قرار داد لائی جارہی ہے، مشاورت سے قرارداد لائی جانی چاہیے تھی ،میری گزارش ہوگی کہ ایک

گھنٹہ دیا جائے ہم اس کا مطالعہ کرکے اس میں جو اضافی لکھنا ہے وہ سب کے سامنے رکھیں گے’۔

ہم جو قرارداد دیں گے اس پر بحث کرائیں ۔ انہوں نے کہا کہ ‘اسپیشل کمیٹی کی کوئی ضرورت نہیں،

پورے ایوان کی کمیٹی ہوگی’۔دنیا کے سارے مسلمان تحفظ ناموس رسالت پر متفق ہیں۔جو اجلاس

جمعرات تک ملتوی کیا گیا اس کو آج بلا لیا۔اپوزیشن سے نہ حکومت نے رابطہ کیا نہ اسپیکر نے

رابطہ کیا۔حکومت نے نہیں ایک نجی ممبر نے قرارداد پیش کی۔قرارداد کا متن اپوزیشن کو نہیں

دیکھایا گیا۔ جمعیت علمائے اسلام کے رکن مولانا اسعد محمود نے کہا کہ کل جب اجلاس اختتام پزیر

ہوا اور تمام ممبران دو دن کے وقفے کے حوالے سے اپنے گھروں کو چلے گئے ۔کل وزیراعظم

صاحب نے حکومتی پالیسی کا اعلان خطاب میں کیا جو اپکے وزراء نہیں دے سکے ۔وزیراعظم نے

جلتی پر تیل کا کردار ادا کیا ۔ملک کا نظام مفلوج ہوکر رہ گیا ہے۔حکومتی پالیسی آنے کے بعد ٹی ایل

پی سے مذاکرات کس نے کئے قوم کے سامنے لایا جائے ۔انہوں نے کہاٹی ایل پی کے ساتھ جو پہلے

معاہدات ہوئے وہ قوم کے سامنے لائے جائیں ۔ ایسے کونسے معاہدات ہیں جو تاریخ پورے ہونے سے

قبل خون ریزی کی طرف معاملہ چلا گیا ۔میڈیا پر پابندی عائد کی گئی ، ٹی ایل پی کے ورکرز کا خون

ہوا عوام کا خون بہا ۔میڈیا پر سے پابندی ہٹائی جائے تا کہ وہ قوم کو حقائق سے اگاہ کرے ۔یہ قرارداد

ملک کے اندر جو حالات برپا ہوئے اس کیلئے ناکافی ہے ۔ہم اس قرارداد میں ناموس رسالت بارے متن

سے متفق ہیں۔ ، مگر اس میں کچھ کمیاں ہے ۔یہ متن نا کافی ہے، اس میں مزید ترمیم کی ضرورت

ہے ۔

فرانسیسی سفیر ملک بدری

ستاروں کا مکمل احوال جاننے کیلئے وزٹ کریں ….. ( جتن آن لائن کُنڈلی )
قارئین : ہماری کاوش پسند آئے تو شیئر ، اپڈیٹ رہنے کیلئے فالو کریں

Leave a Reply