معروف ڈرامہ نویس، ادیب فاطمہ ثریا بجیا کو بچھڑے 4 سال بیت گئے

Spread peace & love
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

لاہور( جے ٹی این آن لائن شوبز رپورٹر) فاطمہ ثریا بجیا

وطن عزیز کی انتہائی معروف ڈرامہ نویس اور ادیب انتہائی شفیق خاتون فاطمہ ثریا بجیا کو ہم سے بچھڑے 4 سال بیت گئے۔ ( یہ بھی پڑھیں )

یکم ستمبر1930ء کو بھارت کے شہر حیدرآباد دکن میں پیدا ہوئیں

پاکستان کی معروف ڈرامہ نگاراورادیبہ فاطمہ ثریا بجیا یکم ستمبر1930ء کو اس وقت کے برصغیر و پاک و ہند اور موجودہ بھارت کے شہر حیدرآباد دکن میں پیدا ہوئیں اور قیام پاکستان کے فوری بعد اپنے خاندان کے ساتھ شہر قائدٌ کراچی میں سکونت اختیار کی- ادبی شخصیت انور مقصود کی بہن تھیں۔ فاطمہ ثریا بجیا نے ٹیلی وژن کے علاوہ ریڈیو اور سٹیج کیلئے بے شمار ڈرامے لکھے جبکہ ان کے معروف ڈراموں میں ’’شمع‘‘ ، ’’افشاں‘‘، ’’عروسہ‘‘، ’’انا‘‘، ’’تصویر‘‘ سمیت متعدد ڈرامے شامل ہیں- جن میں بجیا نے بڑے خاندانوں میں خونی رشتوں کے درمیان تعلق اور رویوں کو انتہائی خوبصورتی سے بیان کیا۔

پاکستان اور جاپان نے اپنے اپنے اعلیٰ ترین شہری اعزازعطا کئے

انہوں نے اپنے قلم سے سماجی موضوعات پر ایسے یادگار ڈرامے تحریر کئے جن کو مدتوں بعد بھی لوگ بھلا نہیں پائے، جو آج بھی ذہنوں پرنقش ہیں۔ ثریا بجیا کے خاندان کے بیشتر افراد تحریر و ادب سے منسلک رہے اور نمایاں مقام حاصل کیا، وہ 1960ء میں ٹیلی ویژن انڈسٹری کا حصہ بنیں۔ علم و ادب کے حوالے سے غیر معمولی خدمات پرفاطمہ ثریا بجیا کو حکومت نے تمغہ برائے حسن کارکردگی اور ہلال امتیا ز سے نوازا، جبکہ جاپان نے بھی اپنا اعلیٰ ترین شہری اعزازعطا کیا-آپ طویل علالت کے بعد 10 فروری 2016ء کوانتقال کرگئی تھیں۔

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply