پاکستان بنے عرصہ ہو گیا، ڈاکوﺅں سے جان نہیں چھڑوا سکے، چیف جسٹس 0

غیر جمہوری سیٹ اپ ناقابل قبول ،پہلے بھی چھوڑ ا، اب بھی چھوڑدینگے، سپریم کورٹ

Spread the love

غیر جمہوری سیٹ اپ

لاہور (جے ٹی این آن لائن نیوز) چیف جسٹس پاکستان مسٹرجسٹس جسٹس گلزار احمد نے کہاہے

سپریم کورٹ فیصلے کرنے میں آزاد ہے اور کسی کی ہمت نہیں ہمیں روکے ،لوگوں میں اداروں

کے متعلق افواہیں پھیلا کر ان کا اعتماد ختم کریں، غلط باتیں ، انتشار پھیلائیں،نہ ہی لوگوں کا اداروں

سے اعتبار اٹھوائیں،ان خیالات کا اظہار انہوں نے گذشتہ روز دو روزہ عاصمہ جہانگیر کانفرنس کے

انعقادکے آغاز پرکیا، تقریب سے سپریم کورٹ کے مسٹرجسٹس قاضی فائز عیسیٰ ،اسلام آباد ہائی

کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اﷲ،لاہورہائی کورٹ کے چیف جسٹس محمدامیر بھٹی ،سکیل

رہنماعلی احمد کرد،سپریم کورٹ بار کے صدر محمد احسن بھون اور غیر ملکی مندوبین نے بھی

خطاب کیا،عاصمہ جہانگیر کانفرنس کی اختتامی تقریب آج 21 نو مبرکو ہوگی،چیف جسٹس پاکستان

مسٹرجسٹس گلزاحمد نے اپنے خطاب میں مزید کہا کسی کے کہنے پر فیصلے نہیں دئیے،میری عدالت

لوگوں کو انصاف دیتی ہے ،تمام ججز کسی بھی قسم کا پر یشر لیتے اور نہ ہی ڈکٹیشن ۔ کبھی کسی

ادارے کی بات سنی اور نہ کبھی کسی کا دباؤ لیا، مجھے کسی نے نہیں بتایا فیصلہ کیسے لکھوں،

کسی کو مجھ سے ایسے بات کرنے کی کوئی جرات نہیں ہوئی، کسی نے میرے کام میں مداخلت

نہیں کی، اپنے فیصلے اپنی سمجھ اور آئین و قانون کی سمجھ کے مطابق کئے،آج تک کسی کی

ڈکٹیشن دیکھی، سنی اور نہ ایسا کوئی اثرلیا، یہی کردار میرے ججز کا ہے ، مجھے کوئی نہیں کہہ

سکتا میں نے ڈکٹیشن لی، میری عدالت لوگوں کو انصاف دیتی ہے، ہماری عدالت قانون کی پیروی

کرتے ہوئے کام کررہی ہے اور سپریم کورٹ کے ججز محنت کیساتھ لوگوں کو انصاف فراہم کررہے

ہیں،پاکستان میں انسان کی نہیں قانون کی حکمرانی ہے، ہم جس طرح سے کام کررہے ہیں کرتے رہیں

گے، ملک میں آئین و قانون اور جمہوریت کی حمایت اور اسی کا پرچار کریں گے، کسی غیر

جمہوری سیٹ اپ کو قبول نہیں کریں گے، ہم چھوڑ دیں گے اور ہم نے پہلے بھی چھوڑا، علی

احمد کرد صاحب نے اگر میری عدالت کے بار ے میں کوئی بات کی تو میں اس بات کو بالکل قبول

نہیں کروں گا، میری عدالت میں جج انتہائی تندہی کیساتھ ملک کی فلاح و بہبود کیلئے کام کر رہے

ہیں۔جسٹس گلزار احمد نے علی احمد کرد کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ شائع ہونیوالے فیصلوں

کو پڑھیں اور دیکھیں کیسے سپریم کورٹ آزادانہ طور پر کام کر رہی ہے۔ یہ تاثر درست نہیں کہ

عدالتیں آزاد نہیں اور ادار وں کے دبا ؤمیں کام کررہی ہیں، آج کیلئے اتنی بات کافی ہے،چیف جسٹس

پاکستا ن نے مزید کہا کہیں غلط فیصلے آتے ہیں کہیں صحیح، کسی کو غلط فیصلہ کہا جاتا ہے، یہ

لوگوں کی اپنی رائے ہوتی ہے، کچھ لوگ کہتے ہیں فیصلے درست ہیں کچھ کہتے ہیں غلط ہے، سب

کا اپنا نظریہ ہے، سب کی رائے ہے، سب کی رائے کا احترام کیا جاتا ہے،’یہی عدالتی نظام اور

جمہوریت کی خوبصورتی ہے، ہم اس پر عملدرآمد کرتے ہیں، کسی کی ہمت نہیں ہوئی ہمیں رو کنے

کی، ہماری عدالت ہر فیصلہ کرنے میں آزاد ہے اور وہ کرتی ہے، جس کا مقدمہ سامنے آتا ہے

ہماری عدالت ہر ایک کا محاسبہ کرتی ہے، ہمیں بتائیں کس کی ڈکٹیشن پر کس کا فیصلہ ہوا، ایسا نہیں

، لوگوں میں غلط فہمیاں پیدا نہ کی جائیں ،ہماری عدلیہ آئین اور قانون کے مطابق کام کر رہی ہے ،

سپریم کورٹ کے تمام ججز عوام کو انصاف فراہم کر رہے ہیں ۔ تقریب سے خطاب میں سپریم کورٹ

کے مسٹرجسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا تمام جج اور مسلح افواج پاکستان کے آئین کی پاسداری کا

حلف لیتے ہیں ،ہر پاکستانی آئین کی پاسداری کا پابند ہے ،میں نے آج کیلئے 16صفحات پر مشتمل پیپر

عاصمہ جھانگیر کے خوف سے لکھا ،پریس کی آزادی ، آزادی اظہار اور خواتین کے حقوق کا تحفظ

ہونا چاہیے ،پاکستان دنیا میں پریس کی آزادی میں انتہائی نچلے درجے پر ہے ،حالانکہ پریس کی

آزادی کے معاہدے پر سائن کرنیوالے پہلے ممالک میں شامل ہے،ہمیں قائد اعظم ؒکے نظریے پر چلنا

ہو گا ، جمہو ر یت کی بھیک مانگنے کی ضرورت نہیں یہ آپ کا حق ہے ،میں آج کے میڈیا پر بات

نہیں کروں گا کیونکہ یہ سب آپ اور بین الاقوامی تنظیمیں جانتی ہیں۔چیف جسٹس اسلام آباد ہائی

کورٹ مسٹرجسٹس اطہر من اﷲ نے کہا علی احمد کرد نے کانفرنس کا تھیم بدل دیا ہے،ان کو سن کر

پتہ چلا باراورلوگ ہمارے بارے میں کیا سوچتے ہیں ،کئی عدا لتی فیصلے ماضی کا حصہ ہیں جنہیں

مٹایا نہیں جا سکتا،ہم اپنا سر ریت میں چھپا سکتے،ہمیں اپنی غلطیاں تسلیم کرنی چاہئیں، ملک میں آزاد

میڈیا اور آزادی رائے ہونی چاہے اس کے بغیر آزاد عدلیہ کا تصور نہیں ،میڈیا کو ذمہ داری کا مظاہرہ

کرنا چاہیے ،ہماری ذمہ داری ہے ہم عوام میں اپنی ساکھ بحال کریں، ہمارے لیے بہت ضروری ہے

کہ ہم جانیں عوام ہمارے متعلق کیا سوچ رہے ہیں ، کوئی جج دباو میں آنے کی کوئی توجیہہ نہیں دے

سکتا ،ہم اﷲ کا نام لے کر حلف اٹھاتے ہیں ،یہ المیہ صرف عدلیہ کا نہیں بلکہ دیگر اداروں کا بھی ہے

،جب 2000ء میں اخبارات میں چھپا کہ ججز پی سی او کا حلف اٹھایس گے ،میں نے اس کیخلاف ہاتھ

سے لکھ کر اس کیخلاف درخواست دی ،مجھ سے اس وقت سپریم کورٹ کے ججز نے پو چھا آپ نے

کیوں درخواست دائر کی ،میں نے کہا پی سی او کا حلف آئین کے حلف کی خلاف ورزی ہے ۔چیف

جسٹس لاہورہائی کورٹ مسٹرجسٹس محمد امیر بھٹی نے تقریب سے خطاب میں کہا عدلیہ پر بھاری

ذمہ داری عائد ہے کہ وہ آئین و عوامی حقوق کی حفاظت کرے،عدلیہ ان اصو لوں کی پاسداری کرتی

ہے جن کی بنیاد ہر پاکستان بنا۔قبل ازیں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وکیل رہنماعلی احمد کرد نے

کہا انصاف کی فراہمی میں پاکستانی عدلیہ کا 126واں نمبر ہے اور اس نمبر پر جرنیلوں کی وجہ سے

پہنچے ہیں ،کیا اس جوڈیشری کی بات ہو رہی ہے جہاں لوگ صبح 8 سے ڈھائی بجے تک سینوں پر

زخم لے کر گھر جاتے ہیں ،کیا یہ عدلیہ انسانی حقوق کی حفاظت اور جمہوری اداروں کی حفاظت

کرے گی ؟ عاصمہ جہانگیر کی آواز غریبوں کی آواز تھی ، ایک چیخ اور گونج تھی ،وہ یہ نہیں

سوچتی تھیں کہ ان کی آواز کن کے کانوں میں جا کے ہل چل مچائے گی ،ملک میں کون سی

جوڈیشری موجود ہے ،مجھے افسوس ہوتا ہے میں ایک ذمہ دار انسان ہوں ،افسوس ہے ہم اس حالت

میں کیسے پہنچے ،22کروڑ عوام کا ملک ہے لیکن ایک جرنیل ان پر حاوی ہے،یا اس جرنیل کو

نیچے آنا پڑے گا یا لوگوں کو اوپر جانا ہو گا ،جرنیل اور پاکستان کے شہری میں کوئی فرق نہیں ہو

گا،علی احمد کے خطاب کے دوران آزادی آزادی کے نعرے بھی لگے ،انہوں نے مزید کہا اب اس

سے آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرنا ہو گی، جو ستر سال سے ہماری آنکھوں میں آنکھیں ڈال رہا

ہے ،آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرنے کا وقت آگیا ہے،جان کی بازی لگائیں گے تو یہ ملک بچے

گا ،بلوچستان میں لوگوں کو ایجنسیاں اٹھا کر لے گئی ہیں کسی کو کچھ نہیں پتا۔تقریب سے خطاب

کرتے ہوئے سپریم کورٹ بار کے صدر ایسوسی ایشن کے صدر احسن بھون نے علی احمد کرد کی

تقریر پر تنفید کرتے ہوئے کہا آج کوئی سیاسی جلسہ نہیں بلکہ انسانی حقوق کیلئے سفارشات پیش

کرنی ہیں ،یہاں شیم شیم کے نعرے نہیں بلکہ تمام مہمان قابل احترام ہیں، سپریم کورٹ سومو موٹو

کیسز میں اپیل کا حق دے ،اس حوالے سے رولز میں تبد یلی ہونی چاہیے ، ہماری عدلیہ بہت اچھی

اور ججز قابلیت رکھتے ہیں مگر اس کا تاثر ٹھیک نہیں ، آمروں نے بھی اپنے اقدامات کو عدلیہ سے

قانونی حیثیت دلوائی ، اب وقت آ گیا ہے کہ جمہوریت کیلئے کھڑا ہو جانا چاہیے ۔

غیر جمہوری سیٹ اپ

ستاروں کا مکمل احوال جاننے کیلئے وزٹ کریں ….. ( جتن آن لائن کُنڈلی )
قارئین : ہماری کاوش پسند آئے تو شیئر ، اپڈیٹ رہنے کیلئے فالو کریں

Leave a Reply