0

غیرملکی کوچ ہی کیوں؟

Spread the love

(تجزیہ:۔۔جے ٹی این آن لائن)
افریقہ نے پاکستان کو آخری ون ڈے میچ میں سات وکٹوں سے شکست دےکر پانچ میچوں کی سیریز میں کامیابی حاصل کر لی ،اس سیریز میں کا میابی کےلئے افریقہ نے اپنی تمام صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے شاہینوں کو ناکوں چنے چبوائے اور پاکستانی بیٹسمینوں کی خامیوں سے بھر پور فائدہ اٹھاتے نظر آئے جبکہ شاہینوں کو میچ جیتنے سے زیادہ اپنی پرفارمنس کی فکر لاحق رہی،مین آف دی سیریز امام الحق نے پوری سیریز میں اچھا پرفارم کیا اور اس ایوارڈ کے حقدار ٹھرے مگر اہم میچ میں پرفارم نہ کر کے انہوں نے یہ ثابت کیا ہمارے بلے باز ابھی بھی اپنی پرانی ڈ گر پر چل رہے ہیں جس پر سابقہ بلے باز چلتے آئے ہیں ،فخر زمان ،بابر اعظم بھی اسی خا می کا شکار نظر آتے ہیں ہمارے ہیڈ کوچ آج تک کھلا ڑیوں کو اہم میچ میں ذمہ داری سے کھیلنے کی تلقین نہیں کرتے دکھائی دیے اسی لیے اتنے اہم میچ میں کھلاڑی ”تو چل میں آیا“ کی پرانی روش پر چلتے نظر آئے ،اس میں قصور کھلاڑیوں کا نہیں بلکہ ہمارے کرکٹ بورڈ کا بھی ہے جو کھلاڑیوں کےلئے غیر ملکی ہائی کوالیفائیڈ کوچ کو ہائر کر کے کھلا ڑیوں کی کارکردگی کو بہتر بنانے پر بضد دکھائی دیتے ہیں۔
جاوید میاں داد،محسن حسن خان،وقار یونس،وسیم اکرم،انضمام الحق ،مشتاق احمد،ثقلین مشتاق،سعید انورجیسے مایہ ناز کھلاڑی اپنے ملک میں ہی اس نوکری کے منصب پر فائز نہیں ہو سکتے حالانکہ جو کام مکی آرتھر کر رہے ہیں وہی کام وقار یونس،محسن حسن خان بھی کر چکے ہیں ،ہمارے مو جو دہ بلے باز انہی کے دور کا نیا خون تھے اب مزید نیا خون تلاش کرنے کے چکر میں ہمیں غیر ملکی کوچز کی ضرورت پیش آنے لگی ،ایسی بات نہیں کہ مکی آرتھر کی صلاحیتوں پر شک کیا جا رہا ہے ان کا اپنے طریقے سے ٹیم کو ہینڈل کرنا ٹھیک ،مگر ہمارے کھلاڑی شاید اتنے کوالیفائیڈ کوچ کے قابل نہیں یا یوں کہہ لیں سمجھنے کے قابل نہیں ۔
سرفراز احمد پاکستان کا روشن ستارہ ہیں اور اس ستارے کے کریڈٹ پر بے شمار کامیابیاں ہیں مگر ان کامیابیوں کے پیچھے ان کی اپنی پرفارمنس شاید کہیں روٹھ گئی ہے اسی لیے انہیں خود اس بات کا فیصلہ کر لینا چاہیے ٹیسٹ فارمیٹ کی اضافی کپتانی سے جان چھڑا کر بطور کھلاڑی اس فا ر میٹ میں اپنا حصہ ڈالیںاور اپنا پورا فوکس ون ڈے اور ٹی ٹوئنٹی کی قیادت پر رکھے اس سے ان پر ذہنی دباﺅ میں کمی اور پرفارمنس میں بہتر ی آئےگی اور اگر کرکٹ بورڈ شعیب ملک ،محمد حفیظ کو باعزت رخصت کرنے پر آمادہ ہے تو ورلڈ کپ کےلئے دونوں کھلاڑیوں میں سے ایک کو کپتا نی سونپ کر انہیں اپنے آخری ورلڈ کپ کو یادگار بنانے کا موقع دینے میں کوئی حرج نہیں ہونا چاہیے،کیونکہ ان کے بعد سرفراز ہی کی آپشن موجود ہو گی اور اس کا وہ تجربہ بھی رکھتے ہیں۔
آج پاکستان اورافریقہ کی ٹیمیں پہلے ٹی ٹوئنٹی میں آمنے سامنے ہونگی، شاہین ون ڈے سیریز کی شکست سے سیکھتے ہوئے اس سیریز میں کا میا بی کےلئے ایک ہو کر کھیلیں گے تو کامیابی ان کے قدم چومے گی اس کےلئے تمام کھلاڑیوں کو اپنے نئے کپتان شعیب ملک کی صلاحیتوں پر یقین رکھتے ہوئے ان کے تجربے سے فائدہ اٹھانا ہو گا اور مل کر افریقہ کا شکار کرنے کےلئے کھلاڑیوں کو دو سیریز کی شکست کو سامنے رکھتے ہوئے اس سیریز میں سر ڈھڑ کی بازی لگانا ہو گی ۔

Leave a Reply