غزہ پھر لہو لہو

صہیونی بمباری سے غزہ پھر لہو لہو، فلسطینی شہداء کی تعداد 60 ہوگئی

Spread the love

غزہ پھر لہو لہو

مقبوضہ بیت المقدس، غزہ ،انقرہ،ریاض(جے ٹی این آن لائن نیوز) غزہ میں انسانیت کا قتل عام جاری

ہے،اقوام متحدہ نے فلسطین اور اسرائیل کے مابین کشیدگی عروج پر پہنچنے کی صورت میں مکمل

جنگ کا انتباہ دیدیا ہے۔ اسرائیل مسلسل بارود برسا رہا ہے ، اسرائیل کی وحشیانہ بمباری سے شہداء

کی تعداد 60 ہو گئی، 320 زخمی ہوچکے ہیں،شہدامیں 14 بچے اور 3 خواتین بھی شامل ہیں،مقبوضہ

بیت المقدس میں تشدد کی نئی لہر کا آغاز ہوگیا، اسرائیلی اہلکاروں نے فلسطینیوں کو بیدردی سے مارا

پیٹا۔ ایمبولینس کو بھی زخمیوں کی امداد کیلئے نہیں جانے دیا۔ حماس نے اسرائیلی فوج کی جیپ کو

ٹینک شکن میزائل سے تباہ کر دیا، مزاحمتی تنظیم اسلامی جہاد نے تل ابیب پر بھی سو سے زائد

میزائلوں کی بارش کردی۔یہودی آباد یوں میں خوف و ہراس کا راج ہے۔ فلسطینیوں کے حملوں کے

خوف نے نیندیں اڑادی ہیں، اسرائیلی کا فضائی دفاعی نظام آئرن ڈوم مکڑی کے جال سے بھی کمزور

ثابت ہوا، مزاحمتی تنظیموں کے راکٹ اسرائیلی شہروں پر گرتے رہے۔حملوں کے نتیجے میں

صہیونی فو جی سمیت 6 یہودی ہلاک ہوچکے ہیں۔ خان یونس اور غزہ سٹی میں اسرائیل نے وحشیانہ

بمباری کی ، ایک ہی مقا م پر متعدد بم برسادئے، مسلمان کلمہ شہادت کا ورد کرتے رہے۔غزہ کے

علاقے صبرا میں میں اسرائیلی میزائل گاڑی پر لگا،جس سے ایک ہی فلسطینی خاندان کے کئی افر ا د

شہید ہو گئے۔سفاک اسرائیلی فورسز نے غزہ شہر میں پولیس کی تمام عمارتیں تباہ کردیں، غزہ میں

خاتون اسرائیلی بمباری کی ویڈیو بنا رہی تھی جب ایک میزائل اسکی اپنی عمارت پر آ لگا ۔حماس نے

سفاک دشمن کو بھرپور جواب دیتے ہوئے اسرائیلی جیپ کوٹینک شکن میزائل سے نشانہ بنایا، ایک

صہیونی فوجی مارا گیا۔ شہر ڈیمونا پر بھی پندرہ راکٹ داغے جہاں اسرا ئیلی نیوکلیر پلانٹ واقع ہے۔

اسرائیل کے عرب آبادی والے قصبوں میں ہنگامہ آرائی کے واقعات پیش آئے ہیں۔ اسرائیل نے ملک

کے وسطی شہر لْد میں ہنگاموں کے بعد وہاں ہنگامی حالت کے نفاذ کا اعلان کیا ہے اور سیکڑوں

لوگوں کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔لْد شہر تل ایبب کے قریب واقع ہے جہاں گزشتہ روز ہنگامہ آرائی کے

واقعات پیش آئے ۔ اسرائیلی وزیر اعظم بنیامن نتن یاہو نے کہا ہے ان کی حکومت اسرائیل کو اندرونی

اور بیرونی دشمنوں سے محفوظ رکھنے کیلئے اپنی تمام تر طاقت کا استعمال کرے گی۔ ادھر صیہونی

فوج کے ہاتھوں شہید فلسطینیوں کی نماز جنازہ ادا کردی گئی ۔ نماز جنازہ اور تدفین میں ہزاروں افراد

نے شرکت کی، اس موقع پر اسرائیل کیخلاف شدید نعرے بازی بھی کی گئی ۔گزشتہ روز غزہ کی پٹی

پر اسرائیلی جنگی طیاروں کی بمباری کے نتیجے میں غزہ کی حکمراں جماعت ‘حماس’ کے سینئر

رہنما محمد عبداﷲ فیاض شہید ہو گئے تھے۔دریں اثناء فلسطینیوں پر اسرائیل کی وحشیانہ بمباری

کیخلاف امریکا، برطانیہ اور ترکی سمیت دنیا بھر میں مظاہروں کا سلسلہ بھی جاری ہے۔

نیویارک،واشنگٹن ڈی سی،لندن اور استنبو ل سمیت دیگر شہروں میں فلسطینیوں کے حق میں ا حتجا

جی مارچ اور مظاہرے کیے گئے۔مظاہرین نے مظلوم فلسطینیوں کیخلاف جاری اسرائیلی جارحیت

رکوانے کا مطالبہ کیا اور عالمی طاقتوں سے کردار ادا کرنے پر زور دیا۔دوسری طر ف اقوام متحدہ

کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرس نے کہا ہے انھیں غزہ میں جاری تشدد پر گہری تشویش ہے،

جبکہ اقوام متحدہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ عالمی ادارہ اسرائیل اور فلسطینیوں کے مابین کشیدگی

کو دور کرنے کیلئے ہنگامی طور پر کام کر رہا ہے۔ اسرائیلی سکیورٹی فورسز کو زیادہ سے زیادہ پا

بند ی کا مظاہرہ کرنا چاہئے۔اقوام متحدہ کے خصوصی کو آرڈینیٹر برائے مشرق وسطیٰ امن عمل نے

کہا تمام فریقین کے رہنماؤں کو کشیدگی کم کرنے کی ذمہ داری اٹھانی ہوگی۔عرب لیگ نے بھی

عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے وہ غزہ میں بڑھتے ہو ئے تشدد کو روکنے کیلئے فوری اقدامات

کریں۔جبکہ ترک صدر رجب طیب اردوان نے روس کے ہم منصب ولادیمیر پیوٹن کیساتھ ٹیلیفونک

رابطے کے دوران کہا کہ عالمی برادری کو مل کر اسرائیل کو سبق سکھانا چاہیے۔ترک میڈیا کے

مطابق دونوں رہنماؤں کے درمیان بات چیت میں فلسطین کی تازہ صورتحال اور سپوتنک v ویکسین

کی ترکی کو فراہمی کا موضوع زیر بحث لایا گیا۔ترک صدر نے اسرائیل کی جا نب سے

القدس،غزہ،مسجد الاقصی اور فلسطینیوں کیخلاف حملوں کی سخت مذمت کرتے ہوئے عالمی برادری

سے اس سلسلے میں اسرائیل کی سر زنش کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔انہوں نے یہ بھی کہا روسی

امور خارجہ نے فلسطین کے حوالے سے اقوام متحدہ کے دو ریاستی حل پر مبنی جو بیان دیا ہے وہ

اہم ہے جبکہ ترکی اور رو س القدس کے معاملے میں ہم فکر بھی ہیں ۔اردوان نے مزید کہا اس بحران

کی شدت کو روکنے کیلئے سلامتی کونسل کو فوری مداخلت کرنی چاہیے ، فلسطینی شہریوں کے

تحفظ کیلئے علاقے میں عالمی امن فون کی تعیناتی قابل غور ہو سکتی ہے جس میں ترکی اور روس

قریبی تعاون کر سکتے ہیں۔ادھر سعودی عرب نے مقبوضہ بیت المقدس سے فلسطینی باشندوں کی

اسرائیلی ریا ست کی جانب سے جبری بے داخلی کی شدید مذمت کی ہے۔اسلامی تعاون تنظیم میں

سعودی عرب کے مندوب ڈاکٹر صالح بن حمد السحیباتی نے کہا ان کا ملک بیت المقدس سے فلسطینی

باشندوں کو طاقت کے ذریعے بے دخل کرنے کی اسرائیلی منصوبہ بندی کویکسر مسترد کردیا ہے۔

مشرقی بیت المقدس میں فلسطینیوں کو ان کے گھروں سے نکال باہر کرنا اور ان کے گھروں کی

مسماری بین الاقوامی قوانین اور عالمی قراردادوں کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ سعودی عر ب

فلسطینیوں کی حمایت جاری رکھے گا اور مشرقی بیت المقدس کو آزاد اور خود مختار فلسطینی ریاست

کا دارالحکومت بنانے کی کوششوں میں فلسطینیوں کی حمایت کریگا۔ قابض اسرائیلی فوج کی مسجد

اقصی کی حرمت پامال کرنے اور نمازیوں کی سلامتی کو خطرے میں ڈالنے کے سلسلے میں حالیہ

حملوں کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے انہوں نے کہا اس منظم غنڈہ گردی اور بدمعاشی

کی لپیٹ میں بچوں سمیت سیکڑوں فلسطینی آئے۔ سعودی عرب نے عالمی برادری پر زور دیا کہ

اسرائیل کو اس جارحیت کا ذمے دار ٹھہرایا جائے۔ اسرائیلی کار ستا نیوں کو فوری طور پر روکے

جانے کی ضرورت ہے جو بین الاقوامی منشوروں کے مخالف ہیں۔ہم فلسطینی عوام کیساتھ ہیں،

اسرائیلی قبضے کے خاتمے اور مسئلہ فلسطین کے ایک منصفانہ و جامع حل کیلئے موجودہ کوششوں

کو سپورٹ کرتے ہیں اورچاہتے ہیں فلسطینیوں کیلئے بین الاقوامی قرار دادوں اور عرب امن

منصوبے کے مطابق 1967ء کی سرحدوں پر ایک خود مختا ر ریاست قائم کی جائے جس کا

دارالحکومت مشرقی بیت المقدس ہو۔

غزہ پھر لہو لہو

ستاروں کا مکمل احوال جاننے کیلئے وزٹ کریں ….. ( جتن آن لائن کُنڈلی )
قارئین : ہماری کاوش پسند آئے تو شیئر ، اپڈیٹ رہنے کیلئے فالو کریں

Leave a Reply