غزہ،اسرائیلی بمباری جاری ،مزید8فلسطینی شہید، پاکستان اور او آئی سی کی طرف سے شدید مذمت

Spread the love

غزہ اسرائیلی بمباری جاری

مقبوضہ بیت المقدس(جے ٹی این آن لائن نیوز) نہتے فلسطینیوں پر اسرائیلی مظالم میں شدت آگئی۔ غزہ

میں اسرائیلی فورسز کی وحشیانہ بمباری دوسرے روز بھی جاری رہی ۔ اسرائیلی وزیر اعظم نے

حملوں میں اضافے کا حکم دے دیا ، دوسرے روز ہونے والی بمباری میں مزید8فلسطینی شہید ہوگئے

جس سے شہید ہونے والوں کی تعداد28ہوگئی شہید ہونے والواں میں حماس کے کئی کمانڈر بھی شامل

ہیں ۔ صہیونی بمباری کے بعد غزہ میں رقت آمیز مناظر دیکھنے میں آئے۔فلسطین کی مزاحمتی تنظیم

حماس نے مسجد الاقصی کی بے حرمتی پر جوابی حملہ کیا۔ مقبوضہ بیت المقدس سے سو کلومیٹر

دور غزہ کی پٹی سے اسرائیل پر میزائل داغے، حملے کے خوف سے اسرائیلی پارلیمنٹ کو خالی

کروالیا گیا۔حماس نے ٹینک شکن میزائل سے اسرائیلی فوج کی گاڑی بھی تباہ کر دی۔ حماس کے

حملے کے خوف سے انتہا پسند یہودیوں کو مسجد الاقصی میں داخلے کا فیصلہ بھی ترک کرنا پڑا،

مسجد الاقصی کے دروازے سے واپس لوٹ گئے۔ یہودی آباد کاروں نے مسجد اقصی کے باہر نماز

کے لیے آنے والے فلسطینیوں پر گاڑی چڑھا دی جس کے نتیجے میں متعدد نمازی زخمی ہوگئی قابض

صہیونی پولیس نے سنہ 1948 کے مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں تلاشی کی کارروائیوں کے دوران

30 فلسطینیوں کو گرفتار کیا ہے۔میڈیارپورٹس کے مطابق مقامی فلسطینی ذرائع نے بتایاکہ شمالی

فلسطین کے شہر حیفا اور الناصرہ میں اسرائیلی فوج نے تلاشی کے دوران 30 فلسطینیوں کو گرفتار

کیا ہے۔فلسطینیوں کی گرفتاریاں مسجد اقصی پر اسرائیلی فوج کی جارحیت اور القدس میں فلسطینیوں

پر تشدد کے خلاف احتجاج کی پاداش میں کی گئی ہیں۔ شمالی فلسطین کے ان دونوں شہروں میں

فلسطینیوں کی بڑی تعداد نے القدس میں اسرائیلی فوج کی جارحیت، مسجد اقصی کے نمازیوں پر تشدد

اور الشیخ جراح کے مقام پر بسنے والے فلسطینیوں کی بے دخلی کے خلاف احتجاجی مظاہرے کیے۔

حیفا میں شاہراہ بن گوریون پر سیکڑوں فلسطینیوں نے الشیخ جراح اور مسجد اقصی کی حمایت میں

ریلی نکالیدریں اثنا اسلامی تعاون تنظیماو آئی سینے عالمی برادری سے فلسطینی عوام کے تحفظ کے

لئے کارروائی کرنے کا مطالبہ کر دیا۔مسجد اقصی پر اسرائیلی فوج کے حملے اور غزہ پر فضائی

بمباری پر اسلامی ممالک کی تنظیم او آئی سی نے اسرائیلی بربریت کی شدید مذمت کرتے ہوئے

اسرائیلی حملوں کو بنیادی انسانی حقوق اور اخلاقیات کے خلاف اقدام قرار دیتے ہوئے کہا کہ شیخ

جرہ میں کئی دہائیوں سے مقیم باشندوں کی جبری بے دخلی کا خطرہ ہے لہذا عالمی برادری فلسطینی

عوام کے تحفظ کیلئے فوری کارروائی کرے۔او آئی سی اجلاس میں اسرائیلی کارروائیوں کے خلاف

مشترکہ بیان جاری کرنے کی پاکستانی تجویز سمیت ترکی اورسعودی عرب کی جنرل اسمبلی کا

خصوصی اجلاس طلب کرنے کی تجویز بھی منظور کی گئی ہے اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی)کے

ممبر ممالک کے سفیروں نے پیر کو مشرقی یروشلم میں فلسطینیوں کے خلاف اسرائیلی فوج کے

جانب سے طاقت کے وحشیانہ استعمال کی مذمت کرتے ہوئے عالمی برادری کی توجہ ان مظالم

پرمبذول کروانے کے عزم کا اظہار کیا ہے، نیویارک میں او آئی سی رکن ممالک کے سفیروں کا ایک

ہنگامی اجلاس منعقد ہوا ، اجلاس میں مسجد اقصی کے آس پاس نمازیوں پر حملوں کے علاوہ شیخ

جرح محلے اور غزہ میں جھڑپوں ، فلسطینیوں کے خلاف حملہ کو تمام انسانی بنیادوں پر قائم قوانین

اور انسانی حقوق کے خلاف قرار دیا،بالخصوص رمضان کے مقدس مہینے میں اس طرح کے عمل

کی شدید مذمت کی گئی۔یورپی یونین نے اسرائیل پر فلسطینیوں کے راکٹ حملوں کی مذمت کی ہے

اور مشرقی یروشلم میں ہونے والی خونریزی بند کا مطالبہ کیا ہے۔ غیرملکی خبررساں ادارے کے

مطابق یورپی یونین کے خارجہ پالیسی کے چیف جوزپ بورل نے ایک بیان میں کہاکہ اسرائیلی شہری

آبادی پر غزہ سے راکٹ برسانے کا عمل ناقابل قبول ہے اور یہ مشرق وسطی کے تنازعے کو مزید

بڑھاوا دینے کا سبب بن رہا ہے۔ ادھر امریکی وزیر خارجہ انٹونی بِلنکن نے بھی حماس سے فوری

طور پر راکٹ حملے بند کرنے کا مطالبہ کیا اورکہاکہ صورتحال کو مزید خراب ہونے سے بچانا

چاہیے اورتشددروکنے کے لیے ہر ممکن اقدامات کیے جائیں۔صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی،

حکومتی وزرا سمیت اپوزیشن جماعتوں کے قائدین نے فلسطین میں اسرائیلی فورسز کی پرتشدد

کارروائیوں اور حملوں کی شدید مذمت کی ہے۔ صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے سماجی روابط

کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں کہا کہ کتنی گھناوئنی بات ہے کہ فلسطینیوں پر اسرائیلی نسلی

امتیاز اور مظالم جاری ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ مسلمان نمازیوں پر حملوں کے مناظر کو مغربی

میڈیا پر معمول کی جھڑپیں قرار دیا گیا۔ڈاکٹر عارف علوی نے فلسطینی نوجوانوں کو مخاطب کرکے

کہا کہ میرے بھائی پْر امید رہیں، وہ وقت دور نہیں جب بین الاقوامی سیاست ذاتی مفادات پر نہیں بلکہ

اخلاقیات پر مبنی ہوگی۔وفاقی وزیر انسانی حقوق شیریں مزاری نے ایک ٹوئٹر صارف کے ٹوئٹ کو

ری ٹوئٹ کرتے ہوئے کہا کہ یہ عبادت خانہ یا مندر یا گرجا گھر نہیں ہے، یہ ایک مسجد ہے اور اندر

موجود فلسطینی پْر امن عبادت گزار ہیں۔ ا۔ سابق وزیر اعظم نواز شریف سابق صدر اور پیپلز پارٹی

کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری نے فلسطینیوں کے خلاف اسرائیلی مظالم کی شدید مذمت کی

ہے۔پارٹی کی ویب سائٹ پر جاری بیان میں انہوں نے کہا کہ اسرائیل فلسطین اور بھارت کشمیریوں پر

ظلم کر رہا ہے۔صدر زرداری نے کہا کہ شہید ذوالفقار علی بھٹو کے عدالتی قتل نے مسلمانوں کے

اتحاد کو متاثر کیا اور محترمہ بے نظیر بھٹو فلسطینی عوام کے وکیل تھیں۔سابق صدر نے کہا کہ

انہوں نے اقوام متحدہ میں مسلمانوں کے استحصال کے خلاف آواز اٹھائی۔آصف علی زرداری نے کہا

کہ پیپلز پارٹی کی حکومت کے بعد حکومت پاکستان نے خارجہ امور سے متعلق امور پر توجہ نہیں

دی۔انہوں نے کہا کہ عمران خان اپنی نااہلی کا الزام پاکستانی سفارتکاروں پر ڈال رہے ہیں۔علاوہ ازیں

آصف علی زرداری نے مطالبہ کیا کہ اقوام متحدہ فلسطینیوں اور کشمیریوں کے قتل عام کا نوٹس لے۔

پاکستان کی غزہ میں اسرائیلی فضائی حملوں کی شدید ترین مذمت، ترجمان دفتر خارجہ زاہد حفیظ

چوہدری نے کہا ہے کہ پاکستان غزہ میں اسرائیلی فضائی حملوں کی مذمت کرتا ہے اسرئیلی فضائی

حملوں میں بڑی تعداد میں نہتے فلسطینی شہید اور زخمی ہوئے ۔رمضان المبارک کے مقدس مہینے

میں فلسطینیوں کی بنیادی آزدیوں پر پابندیوں اور مسجد الاقصی پر حملوں کے بعد یہ ایک اور بہیمانہ

عمل ہے۔

غزہ اسرائیلی بمباری جاری
غزہ اسرائیلی بمباری جاری

ستاروں کا مکمل احوال جاننے کیلئے وزٹ کریں ….. ( جتن آن لائن کُنڈلی )
قارئین : ہماری کاوش پسند آئے تو شیئر ، اپڈیٹ رہنے کیلئے فالو کریں

Leave a Reply