دنیا بھر میں غذائی اجناس ہوئیں انتہائی مہنگی، اناج کی پیداوار میں ریکارڈ اضافہ

دنیا بھر میں غذائی اجناس ہوئیں انتہائی مہنگی، اناج کی پیداوار میں ریکارڈ اضافہ

Spread the love

نیویارک (جے ٹی این آن لائن نیوز) غذائی اجناس انتہائی مہنگی

اقوام متحدہ کی فوڈ ایجنسی نے کہا ہے کہ عالمی سطح پر غذائی اجناس کی قیمتوں

میں 10 ماہ سے اضافہ جاری ہے جس نے مارچ کے مہینے میں جون 2014ء کے

بعد سے بلند ترین سطح کو عبور کرلیا ہے جس کی وجہ خوردنی تیل، گوشت اور

دودھ کے نرخوں میں غیر معمولی اضافہ ہو گیاہے۔

=–= معیشت و کاروبار سے متعلق مزید خبریں (=–= پڑھیں =–=)

تفصیلات کے مطابق فوڈ اینڈ ایگریکلچرل آرگنائزیشن کا فوڈ پرائز انڈیکس جو

اناج، دالیں، دودھ سے بنی مصنوعات، گوشت اور چینی کی قیمتوں میں ماہانہ

تبدیلیوں کی پیمائش کرتا ہے کی جاری کردہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مذکورہ

اشیاء کی قیمتوں میں گزشتہ ماہ اوسطا 118.5 پوائنٹس کا اضافہ ہوا جبکہ فروری

میں یہ 116.1 پوائنٹس پر تھا۔ ایف اے او نے بیان میں کہا 2020ء میں دنیا بھر میں

ریکارڈ اناج کی کاشت کاری کی گئی جبکہ ابتدائی اندازوں کے مطابق رواں سال

بھی پیداوار میں مزید اضافے کا امکان ہے۔ ماہانہ بنیادوں پر ایف اے او کا اناج کی

قیمتوں کا انڈیکس مارچ کے مہینے میں 1.7 فیصد تک گر گیا جس سے مسلسل 8

ماہ تک جاری رہنے والے اضافے کا خاتمہ ہوا۔

=قارئین=کاوش اچھی لگے تو شیئر، اپڈیٹ رہنے کیلئے فالو کریں

ایف اے او نے بتایا کہ اہم اناج میں سے گندم کی برآمدی قیمتوں میں سب سے زیادہ

کمی واقع ہوئی جو ماہانہ بنیاد پر 2.4 فیصد کم ہوئی، جو اچھے رسد کی عکاسی

کرتی ہے، اور 2021ء کی فصلوں کے پیداواری امکانات کی حوصلہ افزائی کرتی

ہے۔ ایف اے او کے خوردنی تیل کی قیمت کے انڈیکس 8 فیصد اضافہ ہوا جس کے

بعد اس نے جون 2011ء کے بعد سے اپنی بلند ترین سطح کو عبور کر لیا۔ ڈیری

مصنوعات کی قیمتوں میں مسلسل 10 ویں ماہ سے اضافے کا سلسلہ جاری ہے،

جس میں 3.9 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، گوشت کے انڈیکس میں 2.3 فیصد

اضافہ ہوا اور چینی کی قیمتوں میں 4 فیصد کمی آئی۔ ایف اے او نے کہا کہ توقع

ہے کہ 2021ء میں مسلسل تیسرے سال اناج کی عالمی پیداوار میں اضافہ ہو گا۔

غذائی اجناس انتہائی مہنگی

Leave a Reply